رسومات و بدعاتِ محرم الحرام۔۔ ازقلم : افضال احمد ملّی محمدی۔ ( پوار واڑی مالیگاؤں ضلع ناسک)
رسومات و بدعاتِ محرم الحرام۔
ازقلم : افضال احمد ملّی محمدی۔
( پوار واڑی مالیگاؤں ضلع ناسک)
بدعت کے لغوی معنی 'نئی ایجاد ' ہے،
شریعت کی اصطلاح میں بدعت ہر اس نئے عمل کو کہتے ہیں جسے دین کا جزء بناکر اور موجب اجر و ثواب سمجھ کر انجام دیا جائے، جبکہ اس عمل کا کرنا کتاب و سنت اور سلف صالحین سے ثابت نہ ہو.
علامہ شاطبی رحمہ اللہ بدعت کی تعریف میں فرماتے ہیں :
البدعة إنها طريقة في الدين مخترعة تضاهي الشريعة يقصد بالسلوك عليها مايقصد بالطريقة الشرعية۔
(الاعتصام :باب الأول فی تعریف البدع)
بدعت دین میں منگھڑت طریقہ ہے، جو شریعت کے درجے کے برابر میں رکھ دیا جاتا ہے. اور جو مقاصد شریعت پر عمل کرنے میں پیش نظر ہوتے ہیں، بعینہ وہی مقاصد اس من گھڑت طریقے کو اپنانے میں پیش نظر رکھے جاتے ہیں
مذکورہ بالا تعریفات کا خلاصہ یہ ہے کہ :
دین میں ایسا کوئی نظریہ اور عمل ایجاد کرنا بدعت ہے جو؛
١ طریقہ نبی کے خلاف ہو دین و شریعت میں اس کا کوئی ثبوت نہ ہو،
٢ اسے اچھی بات اور کار ثواب سمجھ کر کیا جائے،
جو کسی دینی مقصد کا ذریعہ و وسیلہ نہ ہو بلکہ خود اسی کو دین سمجھ کر کیا جائے،
بدعت سے متعلق ان ساری باتوں کو سامنے رکھ کر ماہ محرم الحرام میں انجام دی جانے والی رسومات پر نظر ڈالیں اور خود فیصلہ کریں کہ یہ صحیح ہے یا غلط.
اس مہینے میں چھ اعمال ایسے ہیں جو سراسر خلاف شریعت اور بدعت ہے.
1) محرم کو غم کا مہینہ سمجھنا، اور شادی بیاہ کو انجام نہ دینا
یہ سراسر جہالت اور دین سے غفلت و دوری کا نتیجہ ہے.
کیونکہ محرم یہ لفظ حرمت سے ماخوذ ہے جس کے معنی قابلِ احترام ہے،
نیز قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اسے اشھر حرم میں شمار کیا ہے، لہذا جب اللہ تعالیٰ نے اس مہینے کے بارے میں عزت و حرمت کا فیصلہ نازل فرما دیا ہے تو پھر ہم کون ہوتے ہیں اس مہینے کو غم کا مہینہ کہہ کر خوشیوں کی تقریبات سے روکنے والے.؟
2) اس مہینے کی دوسری رسم ہے شہادت حسین پر سوگ منانا اور ماتم کرنا۔
اس رسم بد کی ابتداء مختار بن عبید ثقفی نے کی، وہی ملعون ہے جس نے سبائی خارجی پارٹی سے مل کر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو کوفہ میں شہید کیا، پھر یزید کی موت کے بعد سبائی شیعہ پارٹی میں آکر انتقام خون حسین کے نام پر ان کو جمع کر کے کوفہ پر قابض ہو گیا اور غم حسین کی پالیسی کو خوب رواج دیا.
3) تعزیہ داری
محرم الحرام کی تیسری رسم بد ہے، جو کہ غیر مسلمین کے تہوار گنپتی سے مشابہت کی وجہ سے حرام ہے.
مؤرخین نے لکھا ہے کہ یہ رسم بھی مختار بن عبید ثقفی کی جاری کردہ ہے
طفیل ابن جعدہ نامی ایک شخص کو جب تنگدستی نے ستایا تو اس نے ایک تیلی کی پرانی کرسی کو بنا سنوار کر مختار کے سامنے پیش کیا اور کہہ دیا کہ یہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی کرسی ہے،
مختار نے اس کرسی کا نام تابوت سکینہ مشہور کردیا اور اس کا جلوس بڑی دھوم دھام سے نکالا،
لوگوں کا عقیدہ یہاں تک بگڑا کہ لوگ اس کرسی سے منتیں مانگنے لگے.
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تعزیہ داری کی ابتداء یہی کرسی ہے.
( از خطبات موعظت)
4) مجلس شہادت منعقد کر کے شہادت کے قصے سننا سنانا :
یہ محرم الحرام کی چوتھی رسم ہے اس کے ناجائز ہونے کی تین وجہیں ہیں،
١ اہلِ باطل سے مشابہت،
٢ یہ قصے سن کر دل میں صدمہ اور بزدلی پیدا ہوتی ہے اور یہ اسلام کے تقاضوں کے خلاف ہے. اسلام تو یہ چاہتا ہے کہ مسلمانوں میں عالی ہمتی پیدا ہو، یہی وجہ ہے کہ قربانی کا ایک حکم یہ بھی ہے کہ جانور اپنے ہاتھ سے ذبح کرو
٣ دروغ گوئی، یعنی ان مجالس میں جو قصے سنائے جاتے ہیں اکثر غلط اور منگھڑت ہوتے ہیں،
5) چھٹی منانا :
ان دنوں میں چھٹی منانے سے درج ذیل خرابیاں وجود میں آتی ہیں،
١ کام بند ہوگا تو شیعوں کی مجلس اور ان کے جلوس میں شریک ہوگا جو کہ شرعاً حرام ہے،
٢ دوسری خرابی یہ ہے کہ اس سے دشمنانِ اسلام کی رونق بڑھتی ہے، جو گناہ کبیرہ ہے.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
من كثر سواد قوم فهو منهم
6) سبیل لگانا :
یعنی حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے نام پر شربت وغیرہ بناکر تقسیم کرنا
یہ وہ تمام اعمال ہیں جن کا خیر القرون میں دور دور تک کوئی نام و نشان نہیں ملتا ہے.
Comments
Post a Comment