مختصر افسانہ آخری خواہش - از قلم : محمود علی لیکچرر۔
مختصر افسانہ آخری خواہش -
از قلم : محمود علی لیکچرر۔
8055402819
مختار حسین کی عمر لگ بھگ نوّے برس ہو چکی تھی وہ یو این کی ایک تنظیم حقوق انسانی میں ملازمت کرکے پچیس سال پہلے سبکدوش ہو چکے تھے تینوں بیٹے سرکاری ملازمت سے سبکدوش ہو چکے تھے۔ دو بیٹیاں اپنے اپنے گھروں میں خوش تھیں۔ آٹھ نواسے، چار نواسیاں، کئی پوتے اور پوتیاں، سب اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے۔ اللہ نے عزت وقار اولاد اور آسودگی سب سے نوازا تھا
آج انکے گھر میں ایک خوشی کی تقریب تھی۔ دور دور سے سب جمع تھے۔ بچوں کی قہقہوں سے صحن گونج رہا تھا۔ بوڑھے مختار حسین اپنی آرام کرسی پر بیٹھے اپنی مرحوم بیوی کو دل ہی دل میں سونچ رہے تھے آج جب میں اس وسیع گھر کے کسی خاموش کونے میں تنہا بیٹھتا ہوں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہر دیوار پر ان کی یاد ثبت ہو کبھی ان کی مدھم مسکراہٹ نگاہوں میں اتر آتی ہے کبھی ان کی نرم آواز دل کے دریچوں میں گونجنے لگتی ہے بے اختیار خیال آتا ہے کہ ابھی وہ آئیں گی حسبِ معمول میرا حال پوچھیں گی اور میری تنہائی بانٹ لیں گی۔ مگر اگلے ہی لمحے حقیقت دل پر دستک دیتی ہے کہ وہ اب اس دنیا میں نہیں رہیں۔ عمر گزر جاتی ہے وقت بھی گزرتا رہتا ہے مگر شریکِ حیات کی جدائی ایسا خلا چھوڑ جاتی ہے جسے نہ وقت بھر سکتا نہ دنیا کی کوئی نعمت ان کی یادیں ہی اب میری زندگی کا سہارا اور میری تنہائی کی واحد ہم سفر ہیں۔ خاموشی سے سب کو دیکھ رہے تھے۔ ان کی آنکھوں بھر ائی تھی
وہ کچھ دیر خاموش رہے شاید وہ کچھ سونچ رہے تھے پھر
اچانک انہوں نے اپنے بڑے بیٹے کو آواز دی بیٹا! ذرا سب کو میرے پاس بلا دو۔
چند ہی لمحوں میں پورا خاندان ان کے گرد حلقہ بنا کر بیٹھ گیا مختار حسین نے ایک ایک چہرہ دیکھا پھر آہستہ سے بولے
میں نے ساری زندگی تم لوگوں کے لیے محنت کی۔ آج تم سب کو اس حال میں دیکھ کر دل مطمئن ہے۔ مگر میری ایک آخری خواہش ہے.........
سب کی نظریں ان پر متوجہ ہو گئی
انہوں نے لرزتی آواز میں کہا میرے جانے کے بعد میری جائیداد تقسیم کر لینا مگر اپنے دل کبھی تقسیم مت ہونے دینا اگر ایک دوسرے سے رشتہ ٹوٹ گیا تو سمجھنا میری ساری محنت رائیگاں چلی گئی۔
کمرے میں خاموشی چھا گئی۔ کئی آنکھیں اشک بار تھیں۔
اسی لمحے مختار حسین نے مسکراتے ہوئے سب کو دیکھا کلمۂ طیبہ پڑھا اور ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئے۔
اس دن سب نے محسوس کیا کہ وراثت صرف زمین اور مکان نہیں ہوتی اصل وراثت محبت اور اتحاد میں ہوتی ہے
کیا خوب کہا ہے مرحوم بشیر بدر نے
گھر کے اندر بھی اک سفر ہوتا ہےلوگ ملتے ہیں تو گھر ہوتا ہے
Comments
Post a Comment