جدید رجحانات اور خاندانی نظام کا زوال – معاشرے کے لیے ایک لمحہ فکریہ - دیر سے شادیاں، مجرد (غیر شادی شدہ) رہنے کا بڑھتا ہوا رجحان اور اس کے سماجی و اسلامی اثرات۔ازقلم : اظہر ظہیر الدین کردمے، شریوردھن ضلع رایگڈھ۔


جدید رجحانات اور خاندانی نظام کا زوال – معاشرے کے لیے ایک لمحہ فکریہ -  
 دیر سے شادیاں، مجرد (غیر شادی شدہ) رہنے کا بڑھتا ہوا رجحان اور اس کے سماجی و اسلامی اثرات۔
ازقلم : اظہر ظہیر الدین کردمے، شریوردھن ضلع رایگڈھ۔

عالمی سروے کے ہولناک انکشافات: ایک نئی سماجی لہر
حال ہی میں معروف بین الاقوامی مالیاتی ادارے 'مورگن اسٹینلے' (Morgan Stanley) کی جانب سے جاری کردہ ایک تفصیلی تحقیقی رپورٹ کے مطابق، مستقبل کے چند سالوں میں دنیا بھر کی تقریباً 45\% خواتین کے غیر شادی شدہ رہنے کا امکان ہے۔ اس جدید رجحان کے پیچھے درج ذیل اہم وجوہات سامنے آئی ہیں:

 1. اعلیٰ تعلیم اور کیریئر کی دوڑ:
جدید دور کی لڑکیاں اعلیٰ تعلیم اور معاشی خودمختاری کو اپنی اولین ترجیح بنا رہی ہیں۔
2. آزادی کا تصور: ذمہ داریوں سے بچنے اور اپنی مرضی کی زندگی جینے کی خواہش نے شادی کے روایتی تصور کو کمزور کر دیا ہے۔
3. خاندانی بندھنوں سے دوری:
شادی، مامتا (بچے پیدا کرنا) اور گھریلو ذمہ داریوں کو ترقی کی راہ میں رکاوٹ سمجھا جانے لگا ہے۔
اس کے نتیجے میں خاندانی نظام بکھر رہا ہے، شرح پیدائش میں خطرناک حد تک کمی ہو رہی ہے اور بڑھاپے میں تنہائی کا سنگین مسئلہ جنم لے رہا ہے۔
اسلامی تعلیمات اور خاندانی نظام کا تحفظ :
جہاں جدید سائنس اور عمرانیات (Sociology) آج ان خطرات کی نشاندہی کر رہے ہیں، وہاں اسلام نے ۱۴۰۰ سال پہلے ہی ایک مستحکم معاشرے کی بنیاد رکھنے کے لیے بہترین اصول عطا کر دیے تھے۔ اسلام کے مطابق شادی محض ایک سماجی معاہدہ نہیں بلکہ ایک مقدس فریضہ ہے۔
نکاح: انسانی فطرت اور سنتِ نبویؐ : 
اسلام مجرد رہنے یا رہبانیت (دنیا ترک کرنے) کی سخت مخالفت کرتا ہے۔ اللہ کے رسول حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"نکاح میری سنت ہے، اور جس نے میری سنت سے اعراض کیا (منہ موڑا)، وہ مجھ میں سے نہیں ہے۔" (ابن ماجہ)

شادی انسان کو پاکدامنی عطا کرتی ہے اور معاشرے کو بے راہ روی سے بچاتی ہے۔
. ذہنی سکون اور محبت کا ذریعہ : 
قرآن پاک میں اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے:
"اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے جوڑے بنائے تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو، اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کر دی۔" (سورہ الروم: ۲۱) 
رپورٹ کے مطابق، مال و دولت اور اعلیٰ عہدہ انسان کو عارضی آسائشیں تو دے سکتے ہیں، لیکن حقیقی ذہنی سکون (سکونِ قلب) اور سچی محبت صرف ایک پاکیزہ خاندانی رشتے سے ہی ممکن ہے۔
نسلِ انسانی کا تحفظ اور نسلوں میں فاصلہ : 
پہلے زمانے میں شادیاں جلدی (۲۰ سے ۲۵ سال کی عمر میں) ہوتی تھیں، جس کی وجہ سے ایک صدی میں ۵ نسلیں پروان چڑھتی تھیں۔ اب شادی کی عمر ۳۰ سے ۳۵ سال تک پہنچنے کی وجہ سے نسلوں کا یہ تسلسل برقرار نہیں رہا۔ اسلام بچوں کی پیدائش اور نسل کے بڑھانے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے تاکہ معاشرہ متحرک اور جوان رہے۔
موجودہ معاشرتی غلطیاں اور والدین کا کردار : 
آج کل کے والدین سب سے بڑی غلطی یہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنی اولاد (خصوصاً بیٹیوں) کے لیے 'کامل معاشی استحکام' اور 'بڑے عہدے' کی تلاش میں شادی کو ۳۰ سال کی عمر تک مؤخر کر دیتے ہیں، جبکہ وہ خود اپنی جوانی میں ایک عام حالت میں گھر بسا چکے ہوتے ہیں۔
 اسلامی حل: اسلام سادگی کا حکم دیتا ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم غریب ہو تو اللہ اپنے فضل سے تمہیں غنی (امیر) کر دے گا۔ اس لیے رزق کے خوف سے یا دنیاوی معیار کی وجہ سے شادی میں تاخیر کرنا سراسر نادانی ہے۔
خلاصہ رپورٹ اور تجاویز (The Way Forward) : 
اگر ہم نے وقت پر غور نہ کیا تو تاریخ ہمیں ایک ایسے معاشرے کے طور پر یاد رکھے گی جس نے خود اپنے ہاتھوں اپنے خاندانی نظام کو تباہ کیا۔ معاشرے کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے درج ذیل اقدامات ناگزیر ہیں:
 شعبہ | ضروری اقدامات اور حل |
تعلیم اور تربیت | بچوں کو دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ خاندانی اقدار اور رشتوں کی اہمیت سکھائی جائے۔ |
شادی کی عمر | لڑکوں کے لیے ۲۵ سال اور لڑکیوں کے لیے ۲۰ سے ۲۲ سال کی عمر شادی کے لیے موزوں ترین سمجھی جائے تاکہ نسلوں کا توازن برقرار رہے۔ 
 سادگی کو فروغ | شادی بیاہ کی رسومات کو آسان اور کم خرچ بنایا جائے تاکہ یہ کسی پر بوجھ نہ بنے۔ 
 آخری بات (اخباری تبصرہ):
ترقی، پیسہ اور عہدہ سب یہیں رہ جائیں گے۔ زندگی کے آخری سفر میں انسان کو ایک مخلص ساتھی اور نیک اولاد (صدقہ جاریہ) کی ضرورت ہوتی ہے۔ خاندانی نظام ہی کسی بھی ترقی یافتہ اور باشعور معاشرے کا ستون ہوتا ہے۔ اگر یہ ستون گر گیا، تو معاشرہ خود بخود مٹ جائے گا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم جاگیں اور اپنی نئی نسل کو تنہائی کے اندھیروں سے نکال کر ایک خوبصورت خاندانی زندگی کی طرف لائیں۔

اظہر ظہیر الدین کردمے، 
شریوردھن ضلع رایگڈھ

Comments