جب سترہ سالہ سارتھک کی تحقیق پارلیمنٹ تک پہنچی (سی۔ بی۔ ایس۔ ای۔) آن اسکرین مارکنگ معاملہ۔ - تحریر: پٹھان شریف خان۔


جب سترہ سالہ سارتھک کی تحقیق پارلیمنٹ تک پہنچی (سی۔ بی۔ ایس۔ ای۔) آن اسکرین مارکنگ معاملہ۔ - 
تحریر: پٹھان شریف خان۔

ہندوستان میں تعلیم کو ترقی اور روشن مستقبل کی ضمانت تصور کیا جاتا ہے۔ والدین اپنے بچوں کی بہتر تعلیم کے لیے لاکھوں روپے خرچ کرتے ہیں اور ملک کے معتبر تعلیمی بورڈز پر مکمل اعتماد رکھتے ہیں۔ انہی اداروں میں ایک اہم نام سنٹرل بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن (CBSE) کا ہے، جو 1929 میں قائم ہوا اور آج پورے ملک میں مرکزی حکومت کے ماتحت ایک بڑے تعلیمی بورڈ کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہا ہے۔ ہر سال لاکھوں طلبہ اس بورڈ کے تحت امتحانات دیتے ہیں اور اپنے مستقبل کی بنیاد رکھتے ہیں۔
مگر سال 2026 میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے سی بی ایس ای کے امتحانی نظام، شفافیت اور انتظامی کارکردگی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس معاملے کو منظر عام پر لانے والے کوئی سینئر صحافی، تحقیقاتی ادارے یا سیاسی شخصیات نہیں تھیں، بلکہ صرف سترہ سال عمر کے تین نوجوان طلبہ سارتھک سدھانت، ویدانت شری واستو اور نسرگ ادھیکاری تھے، جنہوں نے اپنی تحقیق اور جستجو سے پورے ملک کی توجہ اس جانب مبذول کروا دی۔
13 مئی 2026 کو جب بارہویں جماعت کے نتائج کا اعلان ہوا تو ان نوجوانوں نے بھی دیگر لاکھوں طلبہ کی طرح اپنا رزلٹ دیکھا۔ تاہم ویدانت شری واستو کو محسوس ہوا کہ فزکس کے مضمون میں اسے توقع سے کم نمبر دیے گئے ہیں۔ اس نے دوبارہ جانچ (ری چیکنگ) کا فیصلہ کیا۔ اسی سال سی بی ایس ای نے امتحانی جوابی کاپیوں کی جانچ کے لیے آن اسکرین مارکنگ (OSM) نامی نیا نظام نافذ کیا تھا، جس کے تحت طلبہ کی ہاتھ سے لکھی ہوئی جوابی کاپیوں کو اسکین کر کے کمپیوٹر کے ذریعے جانچا جاتا تھا۔
اس نظام کی ایک خصوصیت یہ بھی تھی کہ طلبہ اپنی اسکین شدہ جوابی کاپیاں ڈاؤن لوڈ کر سکتے تھے۔ جب ویدانت نے اپنی کاپی حاصل کی تو وہ حیرت زدہ رہ گیا۔ اس نے دیکھا کہ اس کی جوابی کاپی کے بعض صفحات اس کی تحریر سے مطابقت نہیں رکھتے تھے۔ گویا پرچے کے چند دوسرے ہی طالب علم کے ہو سکتے تھے۔ اس نے فوری طور پر سی بی ایس ای کو شکایت درج کروائی، مگر ابتدا میں اس کی بات کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔
ویدانت نے ہمت نہیں ہاری اور اپنی شکایت سوشل میڈیا کے ذریعے عوام تک پہنچائی۔ معاملہ تیزی سے وائرل ہو گیا اور عوامی دباؤ بڑھنے لگا۔ بالآخر سی بی ایس ای کو تحقیقات کرنی پڑیں۔ تحقیقات میں ویدانت کا دعویٰ درست ثابت ہوا اور بورڈ کو اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے معذرت کرنا پڑی۔ اس واقعے کے بعد ملک بھر سے ہزاروں طلبہ کی شکایات سامنے آنے لگیں، جس سے واضح ہوا کہ مسئلہ صرف ایک طالب علم تک محدود نہیں تھا۔ نتیجتاً سی بی ایس ای کو اس نئے نظام کو عارضی طور پر معطل کرنا پڑا۔
اسی دوران سارتھک سدھانت نے اس معاملے کی تہہ تک پہنچنے کا فیصلہ کیا۔ اس نوجوان نے سرکاری دستاویزات، ٹینڈر نوٹس، معاہدوں اور خریداری کے ریکارڈ کا باریک بینی سے مطالعہ کیا۔ اس کی تحقیق کے مطابق آن اسکرین مارکنگ سسٹم کے لیے جاری کیے گئے ٹینڈرز میں متعدد تبدیلیاں کی گئیں، جن سے ایک مخصوص کمپنی Coempt EduTeck کو فائدہ پہنچنے کا امکان پیدا ہوا۔ سارتھک کا دعویٰ تھا کہ مختلف مرحلوں میں ٹینڈر کی شرائط تبدیل کی گئیں اور کم از کم پندرہ ایسی تبدیلیاں سامنے آئیں جو شفافیت اور غیر جانبداری پر سوالات اٹھاتی ہیں۔
تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ تقریباً 350 کروڑ روپے مالیت کا معاہدہ انتہائی مختصر مدت میں طے پایا۔ ناقدین کے مطابق اتنے بڑے اور حساس منصوبے کو نافذ کرنے سے پہلے نہ تو اس کا خاطر خواہ تجربہ کیا گیا اور نہ ہی کوئی جامع پائلٹ پروجیکٹ چلایا گیا۔ محض چند مہینوں میں اس نظام کو ملک بھر کے لاکھوں طلبہ پر نافذ کر دیا گیا، جس کے نتیجے میں بارہویں جماعت کے لاکھوں طلبہ کا مستقبل غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہو گیا۔
سارتھک سدھانت کی تحقیق نے نہ صرف سوشل میڈیا بلکہ تعلیمی اور سیاسی حلقوں میں بھی ہلچل مچا دی۔ معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے پارلیمنٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم، خواتین، اطفال، نوجوانان اور کھیل نے سارتھک کو طلب کیا تاکہ وہ اپنی تحقیق اور حاصل کردہ شواہد کمیٹی کے سامنے پیش کر سکے۔ ایک سترہ سالہ طالب علم کا پارلیمانی کمیٹی کے روبرو حاضر ہو کر سرکاری دستاویزات کی بنیاد پر اپنا مؤقف پیش کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ تحقیق اور حقائق کی طاقت عمر کی محتاج نہیں ہوتی۔
سارتھک کی پیشی کے چند ہی گھنٹوں بعد مرکزی حکومت نے آن اسکرین مارکنگ سسٹم کی خریداری اور اس سے متعلق ٹینڈرز کی جانچ کے لیے ایک رکنی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی۔ اس کے ساتھ ہی سی بی ایس ای کے چیئرمین راہل سنگھ اور سیکریٹری ہمانشو گپتا کا تبادلہ بھی کر دیا گیا۔ اگرچہ حکومت نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ محض تبادلے کافی نہیں بلکہ اگر بے ضابطگیاں ثابت ہوں تو ذمہ داران کے خلاف مناسب کارروائی بھی ہونی چاہیے۔
یہ پورا واقعہ صرف ایک تعلیمی تنازع نہیں بلکہ نوجوان نسل کی بیداری، تحقیق اور سماجی ذمہ داری کی ایک روشن مثال ہے۔ سارتھک سدھانت، ویدانت شری واستو اور نسرگ ادھیکاری نے یہ ثابت کر دیا کہ اگر حقائق کی تلاش کا جذبہ موجود ہو تو عمر کی کمی کوئی رکاوٹ نہیں بنتی۔ ان نوجوانوں نے نہ صرف ایک ممکنہ بے ضابطگی کو بے نقاب کیا بلکہ ملک کے تعلیمی نظام میں شفافیت، جوابدہی اور احتساب کی ضرورت کو بھی اجاگر کیا۔
آج پورے ملک کی نظریں تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ پر مرکوز ہیں۔ یہ رپورٹ جو بھی نتائج سامنے لائے، لیکن ایک حقیقت اپنی جگہ قائم رہے گی کہ تین سترہ سالہ نوجوانوں نے اپنی جستجو، تحقیق اور جرأت کے ذریعے ایک ایسے معاملے کو قومی سطح کی بحث بنا دیا جس کا تعلق لاکھوں طلبہ کے مستقبل سے تھا۔ یہی وہ شعور اور بیداری ہے جو کسی بھی جمہوری معاشرے کی اصل طاقت سمجھی جاتی ہے۔

Comments