اوپر والا ہاتھ۔ - ڈاکٹر سراج انوار، امراؤتی ، مہاراشٹر۔


اوپر والا ہاتھ۔ -  
ڈاکٹر سراج انوار، امراؤتی ، مہاراشٹر۔ 
موبائل : 8668323359

اسکول کے باہر ایک طرف وہی ریڑھی تھی جس کے سامنے کانچ کی برنیوں میں رنگ برنگی چیزیں سجی تھیں۔ کہیں املی کی کھٹی میٹھی گولیاں، کہیں لال اور نارنجی ٹافیاں، کہیں نمک مرچ لگی کچی کیری کے قتلے۔ ایک طرف گرم سموسوں سے بھاپ اٹھ رہی تھی اور تیل میں تلتی پکوڑوں کی خوشبو فضا میں پھیل رہی تھی۔ تو دوسری طرف پودینے اور ہرے دھنیے کی چٹنی سے بھری گول گپوں کی پلیٹ جب کسی گاہک کے ہاتھ میں آئی تو اس کی مہک ہوا میں گھل کر بھوک کو اچانک اور تیز کر دیتی تھی۔
چھٹی کی گھنٹی بجتے ہی سفید اور نیلی یونیفارم پہنے بچے شور مچاتے ہوئے گیٹ سے باہر نکل رہے تھے۔ کسی کے ہاتھ میں سکے چمک رہے تھے، کوئی ہاتھ ڈالے اپنی جیب ٹٹول رہا تھا، کوئی دوست سے ادھار مانگ رہا تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے ریڑھی کے گرد ایک بے ترتیب سا دائرہ بن گیا تھا جہاں ہر آواز دوسری آواز سے ٹکرا رہی تھی۔
"چچا، ایک سموسہ دینا!"
"میرے والی پلیٹ پر زیادہ چاٹ مصالحہ ڈالنا!"
"انکل، دو روپے میں کیا یہ ملے گا؟"
ریڑھی والا ایک ہاتھ سے اخبار کے ٹکڑے پھاڑ رہا تھا، دوسرے سے سموسے نکال رہا تھا، پھر تیزی سے چٹنی لگا رہا تھا۔ پسینے کی باریک بوندیں اس کی پیشانی پر سے ہوتے ہوئے اس کے گالوں پر آ رہی تھیں جنہیں وہ اپنی قمیض کی آستین سے بار بار صاف کر رہا تھا۔ مگر اس کے چہرے پر اب بھی وہی ہمیشہ والی مسکراہٹ تھی۔
اسی شور اور خوشبو کے بیچ ننھا ندیم اپنی چھوٹی سی ہتھیلی آگے بڑھائے کھڑا تھا۔ اس کے کندھوں پر اسکول بیگ تھا، آنکھوں میں ایک امید، اور لبوں پر وہی معصوم سا تقاضا:
"ابا، دو روپے چاہئیں۔"
اشفاق احمد نے سائیکل کو اسٹینڈ پر کھڑا کیا۔ زمین پر گھٹنے ٹیک کر وہ بیٹے کی برابری میں آ گئے اور اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے خوشی سے جیب میں ہاتھ ڈالا؛ سکوں کی کھنک کے بیچ ایک پانچ روپے کا نوٹ باہر نکالا اور بیٹے کی ہتھیلی پر رکھ دیا۔ اس لمحے میں باپ کی شفقت الگ جھلک رہی تھی۔ اس ایک پل نے جیسے آنے والے کئی برسوں کی بنیاد رکھ دی تھی اور اسی دن سے ایک سلسلہ شروع ہوا جو سالوں تک یوں ہی چلتا رہا۔
پانچ سے دس، دس سے سو، سو سے ہزار۔ ندیم نے جب جوانی میں قدم رکھا تو دوستوں کے ساتھ گھومنے پھرنے باہر نکلنے لگا۔ وہ جب بھی کچھ مانگتا تھا، اشفاق احمد فوراً اسے دے دیتے تھے۔ انہوں نے کبھی اس سے سوال نہیں کیا تھا اور نہ کبھی کوئی حساب مانگا تھا۔ شاید دینا ہی ان کا کام بن چکا تھا۔
ندیم کو یاد نہیں تھا کہ اتنے برسوں میں ابا نے کبھی بھی انکار کیا ہو۔ جب بھی اس نے مانگا، اشفاق احمد کا ہاتھ فوراً جیب میں جاتا، نوٹ نکلتے، اور ساتھ ایک دعا بھی۔ وہی لمبی دعا جسے بوریت محسوس کرتے ہوئے وہ اپنی گردن ادھر ادھر گھماتے ہوئے ادھوری چھوڑ دیا کرتا تھا۔ اس وقت اسے خبر نہ تھی کہ اس دعا کی اصل قیمت کیا ہے۔
ندیم اب کمانے لگا تھا اور گھر کے فیصلے، سودا سلف اور ضرورتیں اب باپ کے بوڑھے کندھوں سے اتر کر بیٹے کے جوان ہاتھوں میں منتقل ہو رہی تھیں۔ اشفاق احمد خود بھی اب نوکری سے سبکدوش ہو کر وظیفہ یاب ہو چکے تھے، اس لیے انہوں نے خاموشی سے گھر کی باگ ڈور بیٹے کو سونپ دی۔ اب انہیں کسی چیز کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں رہی تھی۔ دن مہینوں اور مہینے سالوں میں بدلتے چلے گئے، مگر پھر کبھی کسی معاملے میں ان سے کچھ پوچھا نہ گیا۔ جب انہیں لگنے لگا کہ اب گھر میں ان کے فیصلوں اور ان کی پینشن کی کوئی خاص اہمیت باقی نہیں رہی، تو انہوں نے خاموشی سے خود کو اپنے کمرے میں بند کر لیا۔ دوا ختم ہو جاتی تو کسی سے کچھ نہ کہتے۔ کپڑے پرانے ہو جاتے تو انہیں کو بار بار پہن کر مزید دن نکال لیتے۔ کرسی اور کھڑکی ہی اب ان کی کل دنیا بن گئے تھے۔
جب وقت نے ایک بار پھر سے کروٹ بدلی تو ندیم، جو کبھی لینے والا ہاتھ تھا، اب خود دینے والے کے مقام پر کھڑا تھا۔ لیکن جس رات اسے شدت سے یہ محسوس ہوا کہ پچھلے کچھ دنوں سےحنان نے اس سے پیسے لینا بالکل بند کر دیے ہیں، تو ندیم کی آنکھوں سے جیسے نیند اڑ گئی۔
وہ رات بھر لیٹا رہا تھا اور چھت کو تکتا رہا تھا۔حنان کو ایک اچھی نوکری لگ گئی تھی اور اب وہ بھی کمانے لگا تھا۔ یہ خوشی اور فخر کی بات تو تھی مگر اندر کہیں ایک ایسا خلا بن گیا تھا جسے وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا، اور اسی الجھن میں اس کا ذہن ماضی کے ان جھروکوں کی طرف نکل گیا جہاں اس کے اپنے سفر کی شروعات ہوئی تھی...
اپنی ملازمت سے ملنے والی پہلی تنخواہ کا وہ دن اسے یاد آ گیا جسے وہ کبھی بھلا نہیں پایا تھا، جب اس کی پہلی کمائی گھر پہنچی تھی۔
مہینے کی پہلی تاریخ کو جب اکاؤنٹنٹ نے اسے آواز دی تھی، تو جیسے اس کے دل کی دھڑکن ایک پل کو رک گئی تھی۔ انگلیوں نے جب ان کڑکتے ہوئے نوٹوں کو چھوا تھا، تو ان کی سرسراہٹ جسم میں ایک سنسنی بن کر دوڑ گئی تھی۔ وہ نوٹ عام نوٹوں جیسے ہی تھے، مگر ان کا لمس الگ ہی تھا۔ اس کی نظریں بار بار اس رقم پر جا رہی تھیں۔ اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ یہ سب اس کی اپنی کمائی ہے۔ ایک عجیب سا اطمینان اس کے چہرے پر پھیل گیا تھا اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کے احساس سے اس کے کندھے خود بخود فخر سے سیدھے ہو گئے تھے۔
اس دن دفتر سے گھر کا سفر روز جیسا بالکل بھی محسوس نہیں ہو رہا تھا۔ اس کے پاؤں زمین پر نہیں پڑ رہے تھے اور راستے بھر ذہن میں بس ایک ہی خیال چل رہا تھا کہ گھر جا کر یہ رقم کس کے ہاتھ پر رکھنی ہے۔ گھر پہنچنے پر دروازہ بھی عام دنوں سے زیادہ جلدی کھلا تھا۔ ماں کچن سے دوڑتی ہوئی آئی تھی اور اس نے بغیر کچھ کہے، وہ سارا سرمایہ ماں کے ہاتھوں پر رکھ دیا تھا۔
ماں نے جب نوٹوں کو ہاتھ میں لیا تھا تو اس کی آنکھیں بھر آئی تھیں؛ وہ کچھ بول نہ سکی تھی، بس نم آنکھوں سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرتی رہی تھی۔ ابا کرسی پر بیٹھے دور سے ہی یہ سب دیکھ رہے تھے۔ اس نے جب ایک نظردیکھا تھا تو ان کے چہرے پر ایک عجیب سا سکون اور اطمینان تھا۔ جیسے ان کے سر سے ایک بہت بڑا بوجھ اتر گیا ہو اور انہیں یقین ہو گیا ہو کہ ان کی اولاد اب اپنے پیروں پر کھڑی ہو چکی ہے۔ اس دن ان کی آنکھوں میں بیٹے کے لیے ایک الگ ہی مان تھا، جو ندیم کے دل میں آج بھی تازہ تھا۔ ماضی کا یہی خوبصورت لمس اور ابا کی آنکھوں کا وہ پرانا مان اب آہستہ آہستہ ندیم کے تھکے ہوئے ذہن کو اپنی آغوش میں لینے لگا...
پھر رات کے اسی پہر جب غنودگی کی حالت میں اس کی آنکھیں بند ہونے لگیں، تو اچانک بوڑھے باپ کا چہرہ اس کی آنکھوں کے سامنے آ گیا۔ وہی کرسی، وہی کھڑکی، وہی دھند۔ اسے یاد آیا کہ کیسے دھیرے دھیرے سب کچھ بدل گیا تھا، اور کیسے ابا یہ دیکھنے پر مجبور ہو گئے تھے کہ گھر کے فیصلے ان کے کمرے کے باہر ہی طے ہو جاتے تھے۔ یہ منظر سامنے آتے ہی اس کا دل بے چین سا ہو گیا اور نیند کوسوں دور چلی گئی۔
انہیں یادوں کے بیچ رات کا آخری پہر بھی گزر گیا اور کھڑکی سے صبح کی روشنی جھانکنے لگی۔ ندیم اپنے بوجھل جسم کے ساتھ اٹھا، آج وہ گھر میں سب سے پہلے تیار تھا۔ روزانہ کے معمول کے مطابق ناشتہ کیا، مگر آج اخبار پڑھے بغیر وہ سیدھا اشفاق احمد کے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔
اس نے دبے پاؤں اندر قدم رکھا تو کمرے میں پھیلی پرانی لکڑی کی بو اور ایک عرصے سے بند کھڑکیوں کی سیلن کا احساس اس پر طاری ہو گیا۔ کمرے کے ایک کونے میں رکھی اشفاق احمد کی وہ خستہ لکڑی کی الماری جس کا خاکی رنگ اب اڑ چکا تھا، چٹختی ہوئی درازوں والا میز اور سرہانے پڑا پرانا پٹ سن کی بنتی والا پلنگ، سب مل کر جیسے گزرے ہوئے وقت کا کوئی نوحہ سنا رہے تھے۔ سرہانے رکھی میز پر دواؤں کی چند شیشیاں اور ایک پرانا چشمہ بے جان پڑے تھے۔
اشفاق احمد کھڑکی کے پاس لکڑی کی اسی پرانی کرسی پر بالکل گم صم بیٹھے تھے، جو فرش پر رگڑ کھا کھا کر وہاں ایک مستقل نشان چھوڑ چکی تھی۔ ان کے بوڑھے، جھریوں زدہ ہاتھ گود میں ایک دوسرے پر دھرے تھے اور کھڑکی کے پار صبح کی دھند کی ایک گہری چادر تنی تھی۔
"ابا..." ندیم کی دھیمی آواز خاموشی میں ابھری۔
انہوں نے اپنی نگاہیں آہستہ سے اٹھا کر ندیم کو دیکھا۔ ندیم نے ایک گہرا سانس لیا، اور جیسے اپنے دل پر رکھے کسی بوجھ کو اتارنے کے لیے، وہ خود گھٹنوں کے بل زمین پر ٹیک لگا کر ان کی کرسی کے برابر بیٹھ گیا۔ پھر اپنی خالی ہتھیلی ان کے سامنے پھیلا دی۔
"ابا! پانچ سو روپے ہیں کیا؟"
ندیم کی بات سن کر، کرسی کی پشت سے لگی ان کی بوڑھی کمر تھوڑی آگے کو جھکی۔ انہوں نے ندیم کو یوں دیکھا جیسے انہیں اپنی سماعت پر یقین نہ آرہا ہو۔ ایک طویل، بے آواز لمحہ گزرا جس میں وقت جیسے ٹھہر گیا تھا۔ اشفاق احمد نے دھندلی نظروں سے بیٹے کے چہرے کو تکا، اور آگے بڑھ کر کپکپاتے ہاتھوں سے اپنا چشمہ اٹھا لیا۔ جیسے پرانے دنوں کی کوئی خوبصورت یاد برسوں کا سفر طے کر کے آج پھر ان کے بند دروازے پر دستک دے رہی ہو۔
پھر اچانک ان کے بجھے ہوئے وجود میں جیسے زندگی کی نئی لہر دوڑ گئی۔ جھکی ہوئی کمر سیدھی ہو گئی، کندھوں کا جھکاؤ غائب ہو گیا اور برسوں سے بے حرکت پڑے ہاتھ تیزی سے کرتے کی جیب کی طرف بڑھنے لگے۔ تھرتھراتی ہوئی بوڑھی انگلیوں نے جیب کے اندھیرے میں نوٹوں کو اس طرح ٹٹولا جیسے کوئی گمشدہ خزانہ مل گیا ہو۔
انہوں نے ایک کڑکتا ہوا نوٹ نکالا، ان کی آنکھوں میں باپ والا پرانا رعب چمکا اور انہوں نے پوچھا:
"پانچ سو ہی چاہیے یا زیادہ لو گے؟"
اس ایک جملے میں وہی مانوس, کھنکتا ہوا لہجہ تھا۔ وہی پرانا رعب اور شفقت، جو وقت کی دھول میں کہیں دب سا گیا تھا۔
ندیم کا گلا بھر آیا، پلکیں نم ہو گئیں اور اس نے بمشکل کہا: "پانچ سو کافی ہیں ابا۔"
اشفاق احمد نے وہ پانچ سو روپے پورے وقار اور فخر سے اس کی پھیلی ہوئی ہتھیلی پر رکھ دئیے- پھر انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ ہوا میں اٹھائے اور دعا دینے لگے۔ وہی بچپن والی لمبی دعا۔ اس بار ندیم کہیں نہیں بھاگا، اسے کوئی بوریت بھی محسوس نہیں ہوئی اور نہ ہی اس نے گردن ادھر ادھر گھمائی۔ بس وہ سر جھکائے، ایک سچے ضرورت مند کی طرح ان کے گھٹنوں کے پاس بیٹھا رہا اور اشفاق احمد کی پوری دعا کے ایک ایک لفظ کو اپنے اندر اتارتا رہا۔
اشفاق احمد کو اس دن کے بعد اپنے آس پاس کی ہوا کچھ مختلف، کچھ بدلی بدلی سی لگنے لگی۔
اب ندیم روز ان کے کمرے میں آنے لگا تھا۔ وہ کبھی جھجکتے ہوئے چند روپے مانگتا، کبھی باہر جانے سے پہلے بچوں کی طرح اجازت لیتا، تو کبھی محبت سے کہتا: "ابا! آج گھر کی سبزی ذرا آپ اپنے پیسوں سے منگوا دیں گے۔"
اشفاق احمدپہلے پہل تو ہچکچائے۔ بوڑھے دل کو لگا شاید بیٹا مذاق کر رہا ہے۔ مگر پھر ایک صبح جب محلے کے شیرو قریشی کا فون آیا، تو ندیم نے صحن میں بات کرنے کے بجائے تیز قدموں کے ساتھ فون لا کر ابا کے ہاتھ میں تھما دیا۔ دوسری طرف سے جب شیرو نے عرصے بعد اشفاق احمد کی آواز سنی تو بڑی گرمجوشی سے کہا: "ارے چاچا! کیسے ہو آپ؟ آج دکان پر بہت اچھا گوشت ہے، آپ کے گھر کے لیے کون سا حصہ رکھوں؟"
اشفاق احمد نے کچھ پل کو سوچا، اپنی عینک درست کی اور اپنے تجربے کی بنیاد پر برسوں بعد ان کے منہ سے نکلا:
"دست کا گوشت بھیج دو۔"
کرسی پر بیٹھے اشفاق احمد کے تھرتھراتے ہوئے ہاتھ اب ان کی گود سے اٹھ کر کرسی کے ہینڈل پر مضبوطی سے جم چکے تھے۔
ایک صبح حنان نے جب ندیم کو دیکھا کہ وہ دادا کے سامنے ہاتھ پھیلائے پیسے مانگ رہے ہیں، تو اس سے رہا نہ گیا۔ وہ ندیم کے پاس آیا اور دھیمی آواز میں بولا: "ابّو! آپ کو پیسوں کی ضرورت تھی تو مجھ سے لے لیتے۔"
ندیم کچھ دیر خاموش رہا۔ پھر اس نے بیٹے کے چہرے کو دیکھا اور نرمی سے کہا: "بیٹا، ایک کام کرو۔ اپنا دایاں ہاتھ نیچے رکھو، اور بایاں اس کے اوپر۔"
حنان نے حیرت سے باپ کو دیکھا اور ایسا ہی کیا۔
"ان دونوں میں سے افضل کون سا ہے؟" ندیم نے پوچھا۔
"اوپر والا۔"حنان نے فوراً جواب دیا۔
ندیم نے دھیرے سے سر ہلایا۔ "بیٹا! تمہارے دادا پوری زندگی 'اوپر والا ہاتھ' رہے ہیں۔ میں نے انجانے میں ان سے ان کا یہ حق چھین لیا تھا، اب بس وہی واپس لوٹانے کی کوشش کر رہا ہوں۔"
حنان کچھ نہ بولا۔ اس کی نظریں خود بخود دادا کے کمرے کی طرف اٹھ گئیں، جہاں سے اشفاق احمد کی پاٹ دار آواز آ رہی تھی جو گلی میں آئے سبزی والے کو کھڑکی سے ہی ٹوک رہے تھے کہ کون سی سبزی تازی ہے اور کون سی نہیں۔حنان نے ایک بار پھر اپنے دونوں ہاتھوں کو دیکھا، جو اب بھی ایک دوسرے کے اوپر دھرے تھے۔ ندیم نے مسکرا کر بیٹے کے کندھے پر ہاتھ رکھ دیا۔
اس رات اشفاق احمد اپنی اسی پرانی لکڑی کی کرسی پر بیٹھے کھڑکی کے پار دیکھ رہے تھے۔
انہوں نے دھیرے سے اپنے کرتے کی جیب میں ہاتھ ڈالا جہاں کچھ نوٹ اب بھی باقی تھے، جن سے اب انہیں شیرو قریشی اور سبزی والے کا حساب چکانا تھا۔ انہوں نے تھرتھراتی انگلیوں سے بچے ہوئے نوٹوں کو گنا، اور پھر ان کے چہرے پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ پھیل گئی۔ برسوں بعد آج وہ اپنے وجود کو پورے مان سے محسوس کر رہے تھے۔
 ٭٭٭

Comments