محبت۔ -ازقلم : مسرورتمنا۔


محبت۔ -
ازقلم : مسرورتمنا۔

زریں تم. اس ننے اسے ریت کے کنارے 
گھروندا بناتے برسوں پہلے دیکھا
تھا اور آج دیکھ رہا تھا
اور پہلے بھی وہ کتنی حسین اور معصوم تھی
اور آج وہ تنہا نظر آی وہ اسکے قریب بیٹھ گیا
ماں کے فیصلے پر سر جھکانے والی معصوم سی لڑکی نے 
اسے تنہا چھوڑا تھا
آج خود بھی تنہا تھی
اسکا ظالم شوہر جانے کہاں تھا
بچے تنہا چھوڑ گیے تھے
آج ذندگی کے اس موڑ پر
وہ تنہا گھروندے بنارہی تھی
تبھی ایک بچہ ایا
انٹی کتنا پیار گھروندا ہے مجھے دو نا
وہ مسکرای آنکھوں میں ایک نئ
چمک چہرے پر نور بکھر گیا
دونگی ایک شرط ہے
بولیے
ایکبار مجھے ماں کہدے
ماں بچہ اس سے لپٹ گیا
میں بھی ممتا اور محبت کا پیاسا ہوں ماں....  
ماں
 آذر حیران نظروں سے. ممتا محبت دیکھ رہاتھا

Comments