نکاح سے گریز: ایک فکری جائزہ - ازقلم : عالمہ مبین پالیگار، بیلگام کرناٹک ۔
نکاح سے گریز: ایک فکری جائزہ -
ازقلم : عالمہ مبین پالیگار، بیلگام کرناٹک ۔
M A M Ed
8904317986
نکاح سے گریز: ایک فکری جائزہ
رسول اللہ ﷺ کا ارشادِ مبارک ہے:
"النِّكَاحُ مِنْ سُنَّتِي، فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي"
"نکاح میری سنت ہے، پس جو میری سنت سے اعراض کرے وہ مجھ سے نہیں۔"
اس حدیثِ مبارکہ کا مطلب یہ نہیں کہ ہر وہ شخص جو کسی وجہ سے نکاح نہ کر سکے، اس وعید کا مستحق ہے؛ بلکہ اس سے مراد وہ شخص ہے جو نکاح کو حقیر سمجھے، اس کی اہمیت کا انکار کرے یا رہبانیت کو دین کا حصہ سمجھ کر ہمیشہ کے لیے نکاح سے کنارہ کشی اختیار کر لے۔
آج کے دور میں ایک تشویش ناک رجحان یہ دیکھنے میں آ رہا ہے کہ بعض نوجوان لڑکیاں نکاح کے نام سے خوف زدہ ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ وہ تلخ واقعات ہیں جو وہ اپنے اردگرد دیکھتی ہیں۔ کہیں گھریلو ناانصافیاں ہیں، کہیں شوہروں کی بے ذمہ داری، کہیں جہیز کی لعنت، کہیں ساس بہو کے جھگڑے، اور کہیں طلاق و خلع کے بڑھتے ہوئے واقعات۔ ان حالات کو دیکھ کر بعض لڑکیاں یہ سوچنے لگتی ہیں کہ شاید تنہا زندگی گزار لینا نکاح سے بہتر ہے۔
یہ خوف اپنی جگہ قابلِ فہم ہے، لیکن چند ناکام مثالوں کی بنیاد پر پورے نظامِ نکاح کو مشکوک سمجھ لینا انصاف نہیں۔ اگر کچھ گھرانے ظلم و ناانصافی کا شکار ہیں تو اس کے مقابلے میں بے شمار ایسے گھر بھی موجود ہیں جو محبت، اعتماد، ایثار اور دینی اقدار کی بنیاد پر خوشگوار زندگی گزار رہے ہیں۔
قرآنِ کریم نکاح کے مقصد کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے:
"وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً"
"اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تم ہی میں سے جوڑے پیدا کیے تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو، اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کر دی۔"
اسلام کی نظر میں نکاح صرف ایک سماجی معاہدہ نہیں بلکہ سکونِ قلب، پاکیزگیِ کردار، نسلِ انسانی کے تحفظ اور ایک متوازن معاشرے کی بنیاد ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام عورت کو بھی یہ حق دیتا ہے کہ وہ اپنے لیے دیندار، بااخلاق اور ذمہ دار شریکِ حیات کا انتخاب کرے، نکاح سے قبل مناسب تحقیق کرے اور اپنے شرعی و قانونی حقوق کے تحفظ کا اہتمام کرے۔
آزادی کا حقیقی مفہوم رشتوں سے فرار اختیار کرنا نہیں، بلکہ شعور، حکمت اور ذمہ داری کے ساتھ صحیح فیصلے کرنا ہے۔ اگر بعض لوگ اپنے فرائض ادا نہیں کرتے تو اس کا قصور نکاح کے مقدس نظام کا نہیں بلکہ انسانوں کی کمزوریوں اور کوتاہیوں کا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ:
نکاح قید نہیں، اگر دین کی روشنی میں نبھایا جائے تو رحمت ہے؛
اور اگر کہیں ظلم نظر آئے تو وہ نکاح کا عیب نہیں بلکہ انسانوں کے کردار کا نقص ہے۔
لہٰذا نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں دونوں کو چاہیے کہ وہ نکاح کے بارے میں اپنا تصور سوشل میڈیا، ڈراموں اور چند تلخ تجربات سے نہیں بلکہ قرآن و سنت کی تعلیمات اور صالح معاشروں کی کامیاب مثالوں سے قائم کریں۔ کیونکہ ایک مضبوط خاندان ہی ایک مضبوط معاشرے کی بنیاد ہوتا ہے، اور نکاح اس بنیاد کا سب سے اہم ستون ہے۔
Comments
Post a Comment