شہاب افسر کی کتاب “م" بہت نکلے میرے ارماں" کا شاندار اجراء۔
نامہ نگار: ڈاکٹر شہاب افسر کی کتاب “بہت نکلے میرے ارماں” کا اجراء بدست ڈاکٹر فوزیہ خان (سابق ممبر پارلیمنٹ) کے ہاتھوں عمل میں آیا۔ اس پُروقار محفل کی صدارت جناب ارتکاز افضل نے کی۔ اس موقع پر شہاب افسر نے مہمانِ خصوصی ڈاکٹر فوزیہ خان کا استقبال گل ہائے عقیدت پیش کرکے کیا۔ حنا ندیم صاحبہ نے شال پہنا کر ڈاکٹر فوزیہ کا استقبال کیا۔ ڈاکٹر فوزیہ کا تعارف آسیہ تسنیم نے انگریزی اور اردو میں بہت ہی مؤثر انداز میں پیش کیا۔
شہ نشین پر تشریف فرما مہمانوں کا استقبال جس میں ارتکاز افضل، ڈاکٹر غزالہ پروین، ڈاکٹر عظیم راہی، ڈاکٹر اسلم مرزا، معز ہاشمی، سلطان شمیم خان (جو امریکہ سے تشریف لائے تھے)، ڈاکٹر دوست محمد خان، ادریس عسکری، محمد وصیل، احمد اورنگ آبادی، قاضی انیس، خان شمیم خان، ابو بکر رہبر اور خان مقیم خان شامل تھے، کا استقبال شہاب افسر اور حنا ندیم نے گلہائے عقیدت پیش کر کے کیا۔ شہاب افسر کی کتاب کا اجرا بدست ڈاکٹر فوزیہ کے ہاتھوں شہ نشین پر بیٹھے فنکاروں کی موجودگی میں عمل میں آیا۔ خان شمیم خان نے اس موقع پر تحریر کردہ نظم اپنے منفرد انداز میں سنائی جسے حاضرین نے بے حد سراہا۔
اس موقع پر ڈاکٹر غزالہ پروین اور ڈاکٹر عظیم راہی نے شہاب افسر اور ان کی کتاب پر اپنے تاثرات پیش کیے۔ ڈاکٹر فوزیہ نے اپنی سحر انگیز تقریر میں اردو والوں کو نصیحت کی کہ اردو کی کتابیں پڑھا کریں اور اپنے بچوں کو بھی پڑھائیں۔ انہوں نے شہاب افسر کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے انہیں اپنی چوتھی کتاب کی اشاعت پر مبارکباد پیش کی۔ اپنی صدارتی تقریر میں ڈاکٹر ارتکاز افضل نے شہاب افسر کی تحریروں پر خوشی کا اظہار کیا اور انہیں اسی طرح افسانے لکھتے رہنے کا مشورہ دیا۔
اظہارِ تشکر پیش کرتے ہوئے شہاب افسر نے مہمانِ خصوصی ڈاکٹر فوزیہ کا شکریہ ادا کیا اور تمام مہمانوں کا فرداً فرداً شکریہ ادا کیا۔ اس محفل میں ابو بکر رہبر نے اپنے منفرد انداز میں نظامت کے فرائض انجام دیتے ہوئے محفلِ اجراء کو کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
محفل کا اختتام ایک شاندار، زرق برق ضیافت پر ہوا۔ اس محفل میں کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔
Comments
Post a Comment