(طنزومزاح) شدید گرمی اور دُھوپ کے پس منظر پر ایک کلام۔ ازقلم : فریدسحر،حیدرآباد دکن ( انڈیا )
(طنزومزاح) شدید گرمی اور دُھوپ کے پس منظر پر ایک کلام۔
ازقلم : فریدسحر،حیدرآباد دکن ( انڈیا )
مت دیر کر جمال ،بڑی تیز دُھوپ ہے
پیسے مرے نکال بڑی تیز دُھوپ ہے
سر پر ترے ہیں گنتی کے دو چار بال ہی
رکھ سر پہ اپنے شال،بڑی تیز دُھوپ ہے
شادی میں آئے گا نہیں کُچھ بھی مزہ تُجھے
شادی کو اپنی ٹال، بڑی تیز دُھوپ ہے
کوئ بھی پُر سُکوں نظر آتا نہیں یہاں
ہراک کو ہے جلال،بڑی تیز دُھوپ ہے
لگتاہے گرم ہوگئیں اب سب کی تالُوئیں
مت کر کوئ سوال، بڑی تیز دُھوپ ہے
ممکن نہیں ہے کھودنا اب قبر بھی یہاں
رکھ دو چلو کُدال، بڑی تیز دُھوپ ہے
وعدہ کیا تھا اس نے کہ دے گا مجھے وہ قرض
آیا نہیں کمال، بڑی تیز دُھوپ ہے
مزدور ہیں پسینے میں بھیگے ہوئے بہت
ان کا کرو خیال، بڑی تیز دُھوپ ہے
مئی کا مہینہ آیا نہیں پھر بھی دوستو
سب کاعجب ہے حال،بڑی تیز دُھوپ ہے
اک شعر بھی تو ڈھنگ کا نا ہو سکا سحر
گرمی سے ہوں نڈھال،بڑی تیز دُھوپ ہے
کُچھ ُدن تو عشق کو ذرا تعطیل دو سحر
ملنا ہے اب محال،بڑی تیز دُھوپ ہے
فریدسحر،حیدرآباد دکن ( انڈیا )
Comments
Post a Comment