تعلیم کی آڑ میں تہذیبی دوری, مسلم نظمِ تعلیم کے اداروں کا فکری و دینی محاسبہ۔۔ ازقلم : ابرارالحق مظہر حسناتی۔
تعلیم کی آڑ میں تہذیبی دوری, مسلم نظمِ تعلیم کے اداروں کا فکری و دینی محاسبہ۔
ازقلم : ابرارالحق مظہر حسناتی۔
تعلیم کسی قوم کی تقدیر بدلنے کی سب سے مؤثر قوت ہوتی ہے، مگر یہی قوت اگر صحیح سمت سے ہٹ جائے تو فائدے کے بجائے فکری بگاڑ کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ مسلمانوں میں تعلیمی بیداری ایک خوش آئند قدم تھا؛ لوگوں نے ادارے قائم کیے تاکہ نئی نسل زمانے کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو، باوقار روزگار حاصل کرے، اور احساسِ محرومی سے نکلے۔ لیکن وقت کے ساتھ ان اداروں کے ماحول میں ایک ایسی تبدیلی محسوس ہونے لگی جس نے تعلیم کے اصل مقصد کو پسِ پشت ڈال دیا۔ اب وہاں علم سے زیادہ ظاہری حیثیت، کردار سے زیادہ نمائشی نفاست، اور تربیت سے زیادہ نمائش کو اہمیت ملتی دکھائی دیتی ہے۔ یہ تبدیلی خاموش مگر گہری ہے، اور اس کے اثرات بچوں کی نفسیات، اخلاق اور سماجی رویّوں پر نمایاں ہو رہے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان اداروں کا سنجیدہ احتساب کیا جائے، نہ نیت پر شک کیا جائے اور نہ خدمت کا انکار، بلکہ طریقۂ کار اور ماحول کی تشکیل کو دور اندیشی کے ساتھ پرکھا جائے۔
ان اداروں سے وابستہ طلبہ کے اندر ایک ایسا ذہنی رجحان پیدا ہو رہا ہے جو انہیں اپنے ہی معاشرے سے غیر محسوس طور پر کاٹ دیتا ہے۔ وہ اپنی زبان، لباس، اندازِ گفتگو اور میل جول کے ذریعے ایک مصنوعی برتری محسوس کرنے لگتے ہیں۔ یہ احساس انہیں عاجزی سے دور اور تفاخر کے قریب لے جاتا ہے۔ نتیجتاً وہی بچہ جو اپنے خاندان اور معاشرے کا سہارا بن سکتا تھا، اپنے ہی ماحول میں اجنبی محسوس ہونے لگتا ہے۔ اس کے اندر خدمت کا جذبہ کم اور نمایاں ہونے کی خواہش زیادہ ہو جاتی ہے۔ یہ تبدیلی کتابوں کی وجہ سے نہیں بلکہ ادارے کے عمومی ماحول کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے، جہاں حیثیت کو کردار پر فوقیت دی جاتی ہے۔
اخلاقی پہلو اس سے بھی زیادہ تشویش ناک ہے۔ گفتگو میں سختی، بڑوں سے بے تکلفی کے نام پر بے ادبی، اور چھوٹوں کے ساتھ تحقیر آمیز رویہ آہستہ آہستہ عام ہوتا جا رہا ہے۔ والدین اس بات پر خوش ہوتے ہیں کہ بچہ مہارت سے بات کر لیتا ہے، مگر اس پہلو کو نظر انداز کر دیتے ہیں کہ اس کے لہجے سے شائستگی اور رویّے سے انکساری کم ہوتی جا رہی ہے۔ تعلیم اگر انسان کے اندر حلم، برداشت اور تواضع پیدا نہ کرے تو وہ محض معلومات کا بوجھ رہ جاتی ہے۔ یہی صورت حال یہاں دکھائی دیتی ہے کہ معلومات بڑھ رہی ہیں مگر اخلاقی وزن گھٹ رہا ہے۔دینی تعلیم کے نام پر بھی ایک قابلِ غور صورت حال سامنے آتی ہے۔ بعض اداروں میں دین کی تعلیم کو اس انداز سے پیش کیا جاتا ہے جو نہ تو گہرائی رکھتا ہے اور نہ ہی تخصص، بلکہ سطحی معلومات اور مخصوص رجحانات کی آمیزش ہوتی ہے۔ اسکول کا اصل کام عصری مہارت دینا ہے، جبکہ دین کی باریکیاں، فقہی مسائل، عقائد کی تفصیل اور روحانی تربیت وہ میدان ہے جس کے لیے مکاتب، مدارس، علماء اور حفاظ موجود ہیں۔ اگر اسکول اس حد سے آگے بڑھتا ہے تو خطرہ یہ ہوتا ہے کہ بچے کو دین کا ایک ادھورا یا مسخ شدہ تصور ملے، جو نہ مکمل علم ہو اور نہ صحیح فہم۔ دین کے نام پر اگر غیر مستند باتیں یا مخصوص نظریات داخل ہوں تو یہ فائدے کے بجائے نقصان کا سبب بن سکتے ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ان تعلیمی اداروں میں واضح حد بندی کی جائے: عصری تعلیم اپنے معیار کے ساتھ، اخلاقی تربیت اپنی وقار کے ساتھ، اور دینی شعور اپنی درست حدود کے ساتھ۔ بچوں کو یہ سکھایا جائے کہ تعلیم انہیں دوسروں سے بلند نہیں بلکہ دوسروں کے لیے مفید بناتی ہے۔ سادگی، عاجزی، تہذیبی وابستگی اور اپنے معاشرے سے محبت کو بطور قدر فروغ دیا جائے۔ اگر یہ توازن قائم نہ کیا گیا تو یہ ادارے لاعلمی ختم کرنے کے بجائے ایک نئی قسم کی جہالت پیدا کریں گے ایسی جہالت جو کتابوں سے نہیں بلکہ رویّوں سے ظاہر ہوتی ہے، اور جو معاشرے میں نفسیاتی فاصلے بڑھا دیتی ہے۔ دور اندیشی کا تقاضا یہی ہے کہ آج ہی اس پہلو پر سنجیدہ غور کیا جائے تاکہ تعلیم واقعی تعمیر کا ذریعہ بنے، نہ کہ تہذیبی دوری اور اخلاقی کمزوری کا۔
Comments
Post a Comment