خیر اور شر۔۔ تحریر: مولانا میر ذاکر علی محمدی ہربھنی۔
خیر اور شر۔
تحریر: مولانا میر ذاکر علی محمدی ہربھنی۔
9881836729
اچھائی کی ضد برائ ہے ،اور برائ کی ضد اچھائ ہے۔ قرآن کے الفاط میں یوں ہے، جس کا مفہوم ہے۔ جو ذرہ برابر اچھائ یعنی خیر کا معاملہ کریگا،بروز قیامت وہ اس کو یعنی اس کے اجر و ثواب کو دیکھ لیگا، اور جو ذرہ برابر برائ کا عمل کریگا ،وہ بروز قیامت اس کا صلہ پائیگا۔ اسی طرح قرآن کریم نے اس کو دوسرے انداز میں یوں کہا ہے ۔ جس کا مفہوم ہے ، جو انسان اللہ کی اس دنیا میں اس کی نعمتوں اور اس کی انسان پر نوازشات کا شکر کرتا ہے، گویا کہ وہ اللہ کا مقرب بن جاتا ہے، اور ناشکری اور کفران نعمت کا مرتکب ہوکر اللہ کے غیض وغضب کا شکار بنتا ہے۔ بس اس دنیا میں اچھائ اور برائ ، حق اور باطل ، جھوٹ ،اور سچ، وفا اور بے وفائ، ظلم اور نا انصافی، انسانیت اور غیر انسانیت، محبت اور نفرت ، کی جنگ اس دنیا میں روز اول سے جاری ہے۔ اللہ نے موت و حیات کی تخلیق کے بعد انسانوں سے مخاطب ہے۔جس کا مفہوم ہے۔ اے اللہ ہمیں سیدھے اور سچے اور حق کے راستہ پر ڈال دے، ان لوگوں کے راستہ پر جس پر تو نے انعام و اکرام کیا ہے۔ اور ان لوگوں کی راہ پر نہ ڈال جن پر تیرا غصہ اور غضب نازل ہوا ہو۔ ہر دور میں اچھے اور برے لوگ رہے ہیں، پھر اللہ نے زندگی کے بعد موت رکھی ہے، زندگی کے دوران اللہ نے ہمارا امتحان رکھا یے کہ ہم برائ کو چھوڑکر اچھائ اور خیر کا کام کریں، انسانیت، محبت ،اخوت کو فروغ دیں۔ اللہ کا خوف احساس،اور ڈر ہو تو انسان دنیا کے کسی بھی گوشہ میں اچھائ اور خیر کا عمل کریگا۔ اور اگر آدمی کی نیت میں کمزوری اور کھوٹ ہو تو کہیں بھی برائ اور نازیبا حرکت کا مرتکب ہوگا۔ زمین پر شکر ،صبراور عاجزی و انکساری اختیار کرنا اہل زمین کی اصلاح اور امن کا سبب ہے ،جس سے انسانیت کا فروغ اور اس کا تحفظ ہے۔ اس اس کے علاوہ ناشکری ،بے صبری،انانیت عدم انصاف اور ظلم وستم سے اللہ کے دستور اور اس کے قانون کی خلاف ورزی گویا کہ اللہ کے مقدس دستور کو کمزور کرنے کے مترادف یے۔ دنیا میں خداے برتر نے کم و بیش اٹھارہ ہزار مخلوقات کی تخلیق کی ہے۔ اور سب سے زیادہ انسان کو ہی شرف و عزت بخشا ہے۔لیکن اٹھارہ ہزار مخلوقات میں اچھائ اور برائ کا عمل صرف انسان میں پایا جاتا ہے۔ جس کو اشرف المخلوقات سے تعبیر کیا گیا ہے ،اسی انسان میں اچھائ اور برائ کا عنصر پایا جاتا ہے۔ اسلام اس کا نام نہیں کہ ہم اجلے کپڑے اور باریش ہو، چناں چہ حدیث میں ہے۔ بے شک اللہ نہ تمہارے مال و دولت کو دیکھتا ہے، اور نہ ہی تمہارے کپڑوں اور نہ صورت کو دیکھتا ہے، بلکہ اللہ تمہاری خالص نیت اور قلوب مطہرہ کو دیکھتا ہے۔ شر کا موجد شیطان ہے، اور شیطان نے شر کا کام اللہ کی نافرمانی سے کیا تھا ،جبکہ وہ تمام ملائکہ میں افضل ترین رہا ہے۔ انسان اگر کوئ برائ کرتا ہے تو وہ شیطان کی روش پر چلتا ہے۔ اور جان لو کہ ریا کاری بھی ایک بڑا گناہ ہے۔ جس سے نیک اعمال اور عبادتیں رائیگاں ہوجاتی ہیں۔ قرآن میں اللہ کا ارشاد ہے۔ پس افسوس اور خرابی ہے ان نمازیوں کے لیے جو نماز کی اصل روح سے غافل ہیں، صرف حقوق اللہ کی ادائیگی کرتے ہیں، اور بندوں کے حقوق کو پامال کرتے ہیں،اور وہ لوگ جو ریا اور دکھلاوے کے لیے نماز ہڑھتے ہیں اور بندوں کے حقوق سے لاپرواہی کرتے ہیں۔ قرآن میں یہ ذکر ہے کہ امت مسلمہ ایک خیر امت ہے، جو زمین پر لوگوں کی اصلاح کے لیے مقرر کی گئ ہے۔ کہ لوگوں کو خیر اور کامیابی کی طرف دعوت سخن دیں۔ اور منکرات اور شر سے اجتناب خود بھی کریں اور لوگوں کو بھی اس سے بچنے کی دعوت سخن دیں۔ اللہ نے امت محمدیہ کو ہی یہ عظیم شرف عطا کیا ہے کہ وہ زمین پر خیر امت ہے۔ لیکن ہم آج اگر یہ تجزیہ کریں اور جائزہ لیں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ ہم خیر سے کتنے قریب اور کتنے دور ہیں۔ آج ہمارے درمیان جو بے بسی اور لاچاری کا عالم رونما ہوا ہے۔شاید اس سے قبل ہوا ہو۔ اللہ نے جس قوم کو دیگر اقوام کی رہبری اور ان کی نمائندگی کے لیے اس روے زمین پر تخلیق کیا ہے۔ پھر آج وہ اتنی بے بس اور لنگڑی لولی کیوں ہوگئ ہے؟ کمزور قیادت، کمزور سیاست،ااور کمزور رہنمائ سے ہم گذر رہے ہیں۔ یہ دیکھ کر بڑا دکھ اور ملال ہوتا ہے کہ ہماری قوم جو خیر امت ہے، لیکن آج ہم کس قدر پس پشت ڈال دیے گئے ہیں۔ ہماری تنزلی ( debacle) کا سبب یہ بھی ہے کہ خیر کے کاموں میں ریا کی آمیزش ہوتی ہے ۔ ہم کسی کو دس روپیہ یا ایک کلو آٹا بھی دیتے ہیں تو اس کی تصاویر کو مختلف زاویوں سے لیتے ہیں اور سوشل میڈیا پر وائرل کرتے ہیں۔ جو خیر نہیں شر کے مترادف ہوتا ہے۔ ایک طرف حدیث یہ بتاتی ہے کہ اگر آپ کسی کی مدد کریں تو دوسرے ہاتھ کو خبر نہ ہو۔ یہ سب ہم کو سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع ابلاغ سے دید کو ملتے ہیں۔ اور یہ خوب جان لو کہ ریاء کاری اور دکھلاوا چاہے وہ عہدہ، سیاست ، قیادت، رینمائ، کرسی ،منصب یا پھر کسی کی ہمدردی یا مدد کا ہو، یہ سب شرک خفی کہلاتا ہے جو گناہ کا سبب اور ہماری (Debacle) تنزلی کی وجہ بن سکتا یے۔ یہی وجہ ہے کہ خیر امت سیاسی قیادت اور سیاسی رہنمائ سے متعلق دوسروں پر بھروسہ کرنے پر مجبور ہے۔ کیوں کہ ہم اللہ کے نہیں ہوے۔ اور نہ ہی اس کے قوانین کو اپنی زندگی کا حصہ بناے۔ حدیث میں ہے۔ من کان للہ کان اللہ لہ۔ یعنی جو اللہ کا ہوجاتا ہے، خدا برتر بھی اپنے سچے بندوں کا تحفظ اور اس پر سایہ فگن ہوتا ہے۔ ہمارے پاس خوبصورت ( bylaws) دستور ہے۔ رہنمائ کے لیے احادیث مبارکہ ہے, لیکن ہم نے اس کی خاطر خواہ قدر نہیں کی جیسا کہ اس کے قدر کرنے کا حق ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ اگر خدا کا خوف دل سے نکل جاے، یقینا خدا اوروں کا خوف انسان کے دل میں ڈال دیتا، نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی اوروں سے ڈرتا ہے۔ اور پھر وہ دنیا کو خوش کرنے میں اپنی کامیابی اور کامرانی سمجھتا ہے۔ اس کا ہر عمل اور ہر فعل خدا کو خوش کرنے کے بجاے ،لوگوں کو خوش کرنے میں لگ جاتا ہے۔ لیکن کچھ لوگ ایسے بھی ہیں ، جنہیں دیکھ کر یا انہیں پڑھکر ایمان تازہ ہوجاتا ہے۔ ہاشم آملہ جو ایک مشہور کرکٹر ہیں، اور عرب پتی ہیں، نے اپنی بیٹی کی شادی ایک یتیم خانے میں کی، جبکہ لوگوں کا خیال تھا کہ بیٹی کی شادی میں دنیا بھر سے کرکٹر ( Celebrities) سلیبیریٹیز ،اور اہم ترین ( Political) سیاسی شخصیات موجود ہوں گی۔ لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔ ہاشم آملہ نے یتیم خانے میں فرش پر بیٹھ کر بیٹی کا نکاح کیا اور یتمیوں کو مدد کے طور پر نقد رقومات سے نوازا۔ جب لوگوں نے ان سے سوال کیا ۔ آپ نے ایسا کیوں کیا؟ ہاشم آملہ نے کہا میں دنیا کو خوش کرنے کے بجاے ،خداے برتر کو خوش کرنا چاہتا ہوں۔ یہ ہمارے لیے ایک انتہائ اہم سبق ہے۔ ہم اپنے نفس سے سوال کریں کہ ہم اللہ کو خوش کر رہے ہیں یا زمین کے خداؤوں کو؟ اگر ہم دنیا کے لوگوں کو خوش کر رہے ہیں تو پھر ہماری تنزلی اور بربادی طے ہے۔
Comments
Post a Comment