جاسوسی دنیا کا شہنشاہ — ابنِ صفی کی لازوال میراث - سید فاروق احمد قادری۔
جاسوسی دنیا کا شہنشاہ — ابنِ صفی کی لازوال میراث -
سید فاروق احمد قادری۔
بچپن ہی سے، یعنی تقریباً نو سال کی عمر سے، ابنِ صفی کی کتابوں نے میرے ذوقِ مطالعہ کو نئی جہت دی۔ آج بھی ان کے پرانے ناول میرے پاس محفوظ ہیں اور ہر بار پڑھنے پر وہی سنسنی، وہی مزاح اور وہی دلکشی محسوس ہوتی ہے۔
ابنِ صفی کا اصل نام اسرار احمد تھا۔ وہ 26 جولائی 1928 کو الہ آباد میں پیدا ہوئے۔ تقسیمِ ہند کے بعد 1952 میں وہ کراچی منتقل ہو گئے، جہاں لالو کھیت (موجودہ لیاقت آباد) میں رہائش اختیار کی اور وہیں اپنی زندگی گزاری۔ 26 جولائی 1980 کو ان کا انتقال ہوا اور کراچی ہی میں آسودۂ خاک ہوئے۔ ان کے تین بیٹے اور چار بیٹیاں تھیں، اور ان کے اہلِ خانہ آج بھی ان کی ادبی وراثت کو آگے بڑھا رہے ہیں۔
ادبی دنیا میں ابنِ صفی کو “جاسوسی دنیا کا شہنشاہ” کہا جاتا ہے۔ ان کے دو عظیم سلسلے جاسوسی دنیا اور عمران سیریز اردو ادب میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے سینکڑوں ناول تحریر کیے جو آج بھی بے حد مقبول ہیں۔
ان کے مشہور کرداروں میں کرنل فریدی، کپٹن حمید اور عمران شامل ہیں، جبکہ مزاحیہ رنگ کو زندہ رکھنے والے کرداروں میں قاسم خاص طور پر نمایاں ہیں، جنہوں نے کہانیوں میں ہلکا پھلکا مگر یادگار انداز پیدا کیا۔
آج بھی ان کے فرزند احمد صفی اپنے والد کے ادبی مشن کو آگے بڑھا رہے ہیں اور ان کی تحریروں کو نئی نسل تک پہنچانے کا کام انجام دے رہے ہیں۔
ابنِ صفی نے صرف کہانیاں نہیں لکھیں بلکہ ایک ایسی دنیا تخلیق کی جو آج بھی زندہ ہے۔ ان کا اسلوب، ان کا انداز اور ان کی فکر نئی نسل کے لیے مشعلِ راہ ہے، اور یہی وجہ ہے کہ وہ واقعی “جاسوسی دنیا کے شہنشاہ” کہلانے کے مستحق ہیں۔
Comments
Post a Comment