وقت کی اہمیت — اسلامی نقطۂ نظر۔ ازقلم : عالمہ مبین پالیگار، بیلگام کرناٹک۔


وقت کی اہمیت — اسلامی نقطۂ نظر۔ 
ازقلم : عالمہ مبین پالیگار، بیلگام کرناٹک۔ 
M A M Ed 
8904317986
 
اسلام میں وقت صرف گزرنے والی چیز نہیں بلکہ ایک امانت ہے، جس کے بارے میں قیامت کے دن سوال ہوگا۔
اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتے ہیں:
"وَالْعَصْرِ ۙ إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ"
(قسم ہے زمانے کی! بے شک انسان خسارے میں ہے)
— (سورۃ العصر)
یہاں اللہ تعالیٰ نے وقت کی قسم کھا کر ہمیں متنبہ کیا کہ جو شخص وقت کی قدر نہیں کرتا، وہ حقیقت میں نقصان اٹھا رہا ہے۔
 نماز — وقت کی پابندی کا سب سے بڑا نظام
دنیا کے کسی بھی نظام میں اتنی مضبوط ٹائم مینجمنٹ نہیں جتنی اسلام نے نماز کے ذریعے دی ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
"إِنَّ الصَّلَاةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَوْقُوتًا"
(نماز مومنوں پر مقررہ اوقات میں فرض ہے)
غور کریں:
فجر کا وقت محدود
ظہر کا وقت محدود
عصر، مغرب، عشاء — سب کے اوقات مقرر
اگر کوئی شخص چند منٹ بھی تاخیر کرے تو نماز قضا ہو جاتی ہے۔
یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ:
 وقت میں معمولی غفلت بھی نقصان کا سبب بنتی ہے
 قیامت کے دن وقت کا حساب
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"قیامت کے دن بندہ اس وقت تک آگے نہیں بڑھ سکے گا جب تک اس سے اس کی عمر کے بارے میں نہ پوچھ لیا جائے کہ اسے کہاں گزارا"
(ترمذی)
یعنی:
وقت صرف گزر نہیں رہا
بلکہ ہر لمحہ ریکارڈ ہو رہا ہے
 آج ہمارا رویہ — ایک تلخ حقیقت
آج ہم دیکھتے ہیں:
ملاقات کا وقت 5 بجے → پہنچتے 5:30 یا 6 بجے
نکاح، پروگرام، جلسے → ہمیشہ تاخیر
حتیٰ کہ بعض لوگ نماز بھی وقت پر ادا نہیں کرتے
ہم نے دیر کرنا ایک معمول بنا لیا ہے، جبکہ اسلام میں یہ بے نظمی اور حق تلفی ہے۔
کسی کو انتظار کروانا دراصل اس کے وقت، اس کی زندگی اور اس کی عزت کے ساتھ ناانصافی ہے۔
نماز ہمیں کیا سکھاتی ہے؟ (ٹائم مینجمنٹ کے اصول)
1. پابندی (Discipline)
نماز ہمیں سکھاتی ہے کہ وقت بدل نہیں سکتا، ہمیں خود کو بدلنا ہوگا۔
2. ترجیح (Priority)
دنیا کے کام چھوڑ کر بھی نماز ادا کرنا — یہ سکھاتا ہے کہ اہم کام کو پہلے رکھو۔
3. منصوبہ بندی (Planning)
اگر نماز وقت پر پڑھنی ہے تو دن کا شیڈول خود بخود منظم ہو جاتا ہے۔
4. ذمہ داری (Responsibility)
نماز ہمیں احساس دلاتی ہے کہ ہم اللہ کے سامنے جوابدہ ہیں۔
 بزرگانِ دین کے واقعات
حضرت عمرؓ کے بارے میں آتا ہے کہ آپ اپنے گورنروں کو لکھتے تھے:
"تمہارے تمام کاموں میں سب سے اہم میرے نزدیک نماز ہے، جو اس کی حفاظت کرے گا وہ باقی دین کی بھی حفاظت کرے گا"
یہی وجہ تھی کہ ان کے زمانے میں نظم و ضبط اور وقت کی پابندی اپنی مثال آپ تھی۔
 اصلاح کیسے آئے؟ (عملی حل)
اگر ہم واقعی بدلنا چاہتے ہیں تو:
 1. نماز کو زندگی کا مرکز بنائیں
نماز کے مطابق اپنا دن ترتیب دیں، نہ کہ دن کے مطابق نماز۔
 2. وقت سے پہلے پہنچنے کی عادت ڈالیں
ہمیشہ 10–15 منٹ پہلے پہنچنے کا اصول اپنائیں۔
 3. وعدے کو امانت سمجھیں
کسی کو وقت دینا دراصل ایک وعدہ ہے، اور وعدہ پورا کرنا ایمان کا حصہ ہے۔
 4. فضول کام کم کریں
موبائل، سوشل میڈیا اور غیر ضروری مصروفیات وقت کو ضائع کرتی ہیں۔

وقت کی قدر نہ کی تو پچھتاؤ گے ایک دن
یہ لمحے لوٹ کر نہیں آتے کبھی سن
نمازوں سے جو جوڑ لیا اپنے وقت کو
زندگی سنور گئی، مل گیا سکون دل کو
وہ قوم کبھی پستی سے نہ ٹکرائے گی
جو وقت کی پابندی کو اپنائے گی
 خلاصۂ کلام
اسلام ہمیں انتظار کروانے نہیں، وقت پر پہنچنے کا درس دیتا ہے
نماز ایک مکمل ٹائم مینجمنٹ سسٹم ہے
جو وقت کی قدر کرے گا، وہی دنیا و آخرت میں کامیاب ہوگا
 یاد رکھیں:
"وقت کی پابندی صرف عادت نہیں، بلکہ ایک عبادت ہے"

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ