غزل - (طنزومزاح)۔ ازقلم : فریدسحر حیدرآباد ( تلنگانہ،انڈیا )
غزل - (طنزومزاح)
ازقلم : فریدسحر حیدرآباد ( تلنگانہ،انڈیا )
عیب ان کے اُن کے گننا چھوڑئیے
خود کو ہی اچھا سمجھنا چھوڑئیے
آگ میں اب شک کی جلنا چھوڑئیے
بے سبب بیوی سے لڑنا چھوڑئیے
مُفت میں یہ داد لینا چھوڑئیے
شعراب اوروں کے پڑھنا چھوڑئیے
دعوتیں ہوتی ہیں ویسے روز ہی
بن بُلائے گُھس کے کھانا چھوڑئیے
ایک کہہ کے دس سُنیں گےآپ بھی
اہلیہ کے مُنہ کو لگنا چھوڑئیے
گر ہے خواہش شاد رہنے کی سدا
خون اب جنتا کا پینا چھوڑئیے
چپلوں سے مار لیں گر غم نہیں
بغض لیکن دل میں رکھنا چھوڑئیے
پیار سےمُٹھی میں کر لیں ساس کو
ظُلم کی چکی میں پسنا چھوڑئیے
شعر کُچھ اچھے سُنائیں محترم
شعر ایسے ویسے کہنا چھوڑئیے
سُرخرو ہونا جہاں میں ہو اگر
سامنے غیروں کے جُھکنا چھوڑئیے
پیار سے نزدیک شوہر کو کریں
جادو ٹونا اُس پہ کرنا چھوڑئیے
آپ کا خُود رنگ پکا ہے سحر
آپ اب اوروں پہ ہنسنا چھوڑئیے
چار کی جب ہے اجازت ائے سحر
ایک پر ہی جاں چھڑکنا چھوڑئیے
فریدسحر حیدرآباد ( تلنگانہ،انڈیا )
Comments
Post a Comment