اموشنل برن آؤٹ اور اس کا تدارک۔۔۔ تحریر: نکہت انجم ناظم الدین۔


اموشنل برن آؤٹ اور اس کا تدارک۔۔ 
تحریر: نکہت انجم ناظم الدین۔

زندگی کے پیچیدہ تقاضے ہمیں بیک وقت کئی سمتوں میں متحرک رکھتے ہیں۔ کئی طرح کی ذمہ داریاں، توقعات کا بوجھ اور وقت کی قلت مل کر ایک ایسی کیفیت کو جنم دیتے ہیں جو بظاہر خاموش ہوتی ہے مگر اندرونی سطح پر گہرا اثر چھوڑتی ہے۔ اسی کیفیت کو "اموشنل برن آؤٹ" کہا جاتا ہے، جو ذہنی اور جذباتی توانائی کے بتدریج زوال کا نام ہے۔ جدید نفسیات میں اس تصور کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ ماہرِ نفسیات Herbert Freudenberger نے 1974ء میں سب سے پہلے برن آؤٹ کی اصطلاح کو متعارف کروایا۔انہوں نے اپنے تحقیقی مقالے Staff Burn-Out 
میں اس کیفیت کی وضاحت کی۔ انھوں نے مسلسل ذہنی دباؤ اور جذباتی تھکن کو ایک سنجیدہ نفسیاتی مسئلہ قرار دیا۔ ان کے بعد Christina Maslach نے اس تصور کو مزید واضح کرتے ہوئے اسے تین بنیادی عناصر سے مربوط کیاہے، جذباتی تھکن، شخصیت کا بے حس ہوجانا اور انفرادی کارکردگی میں کمی ہونا۔ بالخصوص خواتین کے تناظر میں یہ عناصر نہایت اہمیت رکھتے ہیں۔ جذباتی تھکن کے نتیجے میں وہ کام جنھیں انجام دے کر خوشی محسوس ہوتی تھی اب بوجھ محسوس ہونے لگتے ہیں۔ شخصیت میں بے حسی ایک ایسے رویّے کو جنم دیتی ہے جہاں وابستگی کمزور پڑنے لگتی ہے اور انفرادی کارکردگی میں کمی خود اعتمادی کو متاثر کرتی ہے۔ یہ تینوں عناصر مل کر ایک ایسا دائرہ قائم کرتے ہیں جس سے نکلنا کسی بھی خاتون کے لیے آسان نہیں ہوتا۔
خواتین بیک وقت مختلف کرداروں کی ادائیگی میں مصروف رہتی ہیں۔ گھریلو کام، ملازمت سے متعلق اور پروفیشنل ذمہ داریاں اور رشتوں کی یکھ بھال کرنا۔یہ تمام کام ان کی مسلسل توجہ اور توانائی کا تقاضا کرتے ہیں۔ جب یہ تقاضے ایک حد سے بڑھ جائیں اور ان کے مقابل مناسب ذہنی سکون اور آرام میسر نہ ہو تو داخلی توازن متاثر ہونے لگتا ہے۔اموشنل برن آؤٹ کی بنیاد دراصل مسلسل ذہنی دباؤ سے ہی مضبوط ہوتی ہے۔ ایک خاتون جب اپنی توانائی کو مسلسل صرف کرتی ہے اور اس کی تجدید کے لیے اسے مواقع نہیں مل پاتے تو اس کے احساسات میں تھکن سرایت کرنے لگتی ہے۔ دل کا سکون مدھم پڑ جاتا ہے معمولی کام بھی بوجھ محسوس ہوتے ہیں اور توجہ منتشر ہونے لگتی ہے۔ یہ کیفیت جسمانی تھکاوٹ سے مختلف ہوتی ہے کیونکہ اس کا تعلق براہِ راست ذہن اور احساسات سے ہوتا ہے۔اس مسئلے کی ایک اہم وجہ غیر متوازن توقعات ہیں۔ معاشرہ ایک خاتون سے کمال کی امید رکھتا ہے جب کہ انسانی فطرت اپنی حدود رکھتی ہے۔ ہر ذمہ داری کو کامل انداز میں نبھانے کی خواہش ایک ایسا دباؤ پیدا کرتی ہے جو رفتہ رفتہ ذہنی بوجھ میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ جذبات کے اظہار میں رکاوٹ بھی اس کیفیت کو گہرا کرتی ہے۔ اپنے احساسات کو مسلسل دبائے رکھنا اندرونی کشمکش کو جنم دیتا ہے جو سکون کو متاثر کرتی ہے۔ نفسیاتی اصولوں کے مطابق انسان کی جذباتی توانائی محدود ہوتی ہے۔ جب اس توانائی کا مصرف زیادہ ہو اور بحالی کے ذرائع کم ہوں تو عدم توازن پیدا ہونا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ یہی عدم توازن اموشنل برن آؤٹ کی صورت اختیار کرتا ہے۔ جدید طرزِ زندگی میں یہ مسئلہ مزید نمایاں ہو گیا ہے، جہاں مصروفیت کو کامیابی کا پیمانہ سمجھا جاتا ہے اور سکون کو اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
اس کیفیت کے تدارک کے لیے سب سے پہلا قدم خود آگہی ہے۔ اپنی ذہنی اور جذباتی حالت کا ادراک ہمیں ایک ایسی بنیاد فراہم کرسکتا ہے جس پر بہتری کی عمارت قائم کی جا سکتی ہے۔ ایک باشعور خاتون اپنی کیفیت کو سمجھتے ہوئے اپنی ضروریات کو بھی اہمیت دیتی ہے اور انہیں نظر انداز نہیں کرتی۔ اسی طرح وہ حدود متعین کرتی ہے۔حدود کا تعین اس عمل کا ایک لازمی جزو ہے۔ ہر ذمہ داری کو قبول کرنا اور ہر مطالبے کو پورا کرنے کی کوشش ایک غیر حقیقی طرزِ عمل ہے۔ ایک متوازن زندگی کے لیے ترجیحات کا واضح ہونا ضروری ہے۔ خواتین کو یہ سمجھنا ہوگا کہ بعض موقعوں پر انکار کرنا شخصیت کے وقار کے منافی نہیں بلکہ ان کے ذہنی سکون کا حصہ ہوتا ہے۔اسی طرح وقت کو مناسب حصوں میں تقسیم کرنا اور اپنے کاموں کو انجام دینا بھی مؤثر طرز عمل ثابت ہوتا ہے۔ روزمرہ کے معمول میں ایسے لمحات شامل کرنا جو ذہنی سکون کا باعث ہوں داخلی توازن کو بحال رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ جیسے پسندیدہ کتب کا مطالعہ کرنا، عبادت کرنا، فطرت سے قریب ہونا یا کچھ وقت ایک جگہ بیٹھ کر صرف خود کے ساتھ وقت گزارنا۔یہ ساری مثبت سرگرمیاں ذہنی توانائی کی تجدید میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔
جذباتی اظہار بھی ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ کسی قابل اعتماد شخص سے گفتگو کرکے بھی ہم اپنے دن کو بہتر بناسکتے ہیں، اپنے بوجھ کو ہلکا کرسکتے ہیں۔ بن بیاہی لڑکیوں کے لیے سہیلیاں، والدہ اور بہنیں وہ قریبی اور قابل اعتماد انسان ثابت ہوسکتی ہیں۔ اسی طرح شادی شدہ خواتین کے لیے شوہر وہ شخص ہوتا ہے جس پر وہ بھروسہ کرسکتی ہیں بشرط یہ کہ شوہر انڈراسٹنڈنگ ہو۔ تحریر کے ذریعے بھی اپنے احساسات کو ترتیب دیا جاسکتا ہے۔ اپنی ڈائری میں دل کی بات لکھ دینا ذہنی بوجھ کو کم کرتا ہے۔ احساسات کا اعتراف اور ان کی صحت مند ترجمانی ذہنی سکون کی راہ ہموار کرتی ہے۔مزید برآں مثبت سوچ کا فروغ بھی اس عمل میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ خود سے غیر ضروری تقاضے کم کرنا، اپنی کامیابیوں پر خوش ہونا، اللہ کی تقسیم پر راضی رہنا اور ناکامیوں کو سیکھنے کا موقع سمجھنا ذہنی توازن کو برقرار رکھتا ہے۔ بطور خاتون جب ہم اپنی ذات کے ساتھ نرم رویہ اختیار کرتے ہیں تو ہمارے اندر ایک فطری سکون پیدا ہوتا ہے اس لیے خود کے ساتھ بھی نرم رویہ اختیار کریں۔
یہ تو ہوئیں خواتین کی انفرادی کوششیں لیکن سماجی سطح پر بھی اس مسئلے کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔ ایک ایسا ماحول جہاں خواتین کی جذباتی صحت کو اہمیت دی جائے ان کی ذمہ داریوں میں توازن پیدا کرتا ہے۔ خاندان اور معاشرہ اگر ان کی کیفیت کو سمجھیں اور ان کا ساتھ دیں تو یہ مسئلہ کافی حد تک کم ہو سکتا ہے۔
ایک متوازن زندگی کا راز داخلی سکون میں مضمر ہے۔ جب خواتین اپنی توانائی، وقت اور احساسات کو متوازن انداز میں ترتیب دیتی ہیں تو ان کی شخصیت میں استحکام اور وقار پیدا ہوتا ہے۔ اموشنل برن آؤٹ اسی توازن کے فقدان کا نتیجہ ہے اور اس کا تدارک شعور، اعتدال اور سیلف کیئر کے ذریعے ممکن ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ