حضرت شاہ خاموش ؒ۔ بیدر کے معروف صوفی شاعر۔۔ ازقلم : محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر،کرناٹک۔


حضرت شاہ خاموش ؒ۔ بیدر کے معروف صوفی شاعر۔
ازقلم : محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر،کرناٹک۔

 ”دیوانِ غالب“ کے بعد دکن میں ہم نے حضرت شاہ خاموش ؒ کے دیوان کی بابت ہی سنا۔حالانکہ پاکستان کے ارد وشاعر جناب ناصرؔ کاظمی نے اپنے ایک شعری مجموعہ کا نام ”دیوان“رکھ چھوڑا تھا، اس کے باوجود موصوف کا شعری مجموعہ ”پہلی بارش“ا ور دیگر مجموعے مشہور ہیں، دیوان کانام بطور ِ مثال ہی سننے اور پڑھنے میں آتاہے۔کئی دوسرے شعراء بھی اپنے دیوان رکھتے ہیں۔ لیکن ہم نے جو سنا تو حضرت شاہ خاموش رحمتہ اللہ علیہ کے دیوان سے متعلق ہی سنا۔ کل پرسوں میں حضرت شاہ خاموش رحمتہ اللہ علیہ کاعرس حیدرآباد میں ہوگاکیوں کہ حضرت شاہ خاموش رحمتہ اللہ علیہ کامزارحیدرآباد کے نامپلی میں واقع ہے۔ اسی حوالے سے یہ مضمون قلمبند کیاجارہاہے تاکہ پتہ چل سکے کہ ایک صوفی بزرگ شاعر کون تھے اوران کی شاعری کن حالات کی پیداواررہی۔ کون سے مضامین انھوں نے اپنی شاعری میں باندھے۔ 1204ء ہجری میں پیداہونے والے بزرگ شاعرکااللہ تعالیٰ 1447ء ہجری(یعنی243 ہجری سال اور سال عیسوی کے مطابق 237سال) تک نام باقی رکھاہواہے تو کیوں کر؟اس پر شعراء کرام کو اور ادب سے دلچسپی رکھنے والوں کوسوچنا ہے۔ 
  خاکسار کی کتاب ”باقہ“ میں حضرت شاہ خاموش ؒ کی ولادت کے بارے میں لکھاہے کہ ”سید محمد شاہ صابر حسینی نے حضرت شاہ خاموش رحمتہ اللہ علیہ کی سوانح حیات تحریر کی ہے۔ جو ”دیوانِ شاہ خاموشؒ “ میں موجود ہے۔ ان کے بقول ”حضرت قبلہ قدس سرہ کی ولادت باسعادت ۴۰۲۱ھ میں شہر محمد آباد بیدر شریف میں ہوئی۔ آپ کے والد بزرگوار سلسلہ عالیہ نظامیہ چشتیہ کے پیر اور صاحبِ طریقت مشائخ سے تھے۔ اسمِ گرامی خواجہ سید شاہ میراں مخدوم حسینی صاحب المعروف حسینی پیراں قدس سرہ تھا۔“(بحوالہ دیوانِ شاہ خاموش، صفحہ ۳)بیدر کے قدیم محلہ نور خان تعلیم کی مسجد ِشاہ خاموش ان ہی کے نام سے موسوم ہے۔(کتاب ”باقہ“ ترتیب وتہذیب:محمدیوسف رحیم بیدری، صفحہ 163، اشاعت:26/جنوری 2009ء، شاہین ٹیلنٹ اسکول، پی یوکالج، IIT اکاڈمی، بیدر) 
حضرت شاہ خاموش ؒکاتعارف:۔ بیدر کے معروف مؤرخ جناب عبدالصمدبھارتی اپنی کتاب ”بیدر:آج تک“ میں حضرت شاہ خاموش ؒ کا تعار ف پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں ”نواب ناصر الدولہ اور نواب افضل الدولہ کے دور میں خانقاہی نظام کے فروغ میں آپ کا نام آتا ہے۔۴۰۲۱ھ میں بیدر میں پیدا ہوئے۔ کم عمری ہی میں بیدر سے نکل کر روپڑ، امروہہ، مراد آباد کا سفر کیا۔ ان شہروں میں آپ کی خانقاہیں موجود ہیں۔ پھر دمشق اور شام کے راستے مکہ معظمہ تشریف لے گئے۔ واپسی کے بعد بیدر آئے۔ چشتیہ پورہ میں خانقاہ اور مسجد تعمیر کی۔ وصال حیدرآباد میں ہوا۔ درگاہ یوسفین کے قریب آپ کا خوبصورت مقبرہ موجود ہے۔ صاحبِ دیوان بھی تھے ؎
ہو کے خاموش عجب سیر و تماشہ دیکھا  
رنگ بے رنگ ہوا تھا، مجھے معلوم نہ تھا
(بحوالہ ”بیدر: آج تک“از:عبدالصمد بھارتی، ص: 250، اشاعت:2009ء، کرناٹک اردو اکادمی بنگلور/کتاب ”شخصیات، تالیف:محمدیوسف رحیم بیدری، صفحہ 31، اشاعت:19/فروری 2011ء، شاہین ٹیلنٹ اسکول، پی یوکالج، IIT اکاڈمی، بیدر) 
 صوفیائے کرام کی بابت مستند اور تحقیقی مواد رکھنے والے محقق مرزا چشتی صابری نظامی بیدری نے اپنے ایک حالیہ مضمون ”مختصر تذکرہ حضرت سیدشاہ معین الدین چشتی المعروف شاہ خاموش قدس سرہ العزیز“میں لکھاہے کہ ”حضرت سیدشاہ معین الدین حسینی المعروف بہ حضرت شاہ خاموش ؒ کی ولادت باسعادت اسی شہر یعنی محمد آباد بیدر شریف میں 1204ء ہجری میں ہوئی۔ آپ کے والد ماجد کانام حضرت خواجہ سیدشاہ میراں مخدوم حسینی صاحب المعروف حسینی پیراں ؒ تھا۔ حضرت کے تین بھائی تھے۔ برادرِ بزرگ کانام سیدشاہ پیراں حسینی ؒ، اور دوچھوٹے بھائیوں کانام حضرت سیدشاہ ولی اللہ حسینی ؒ اور حضرت سیدہ شاہ علی حسینی ؒ تھا۔خاندانی سلسلہ کے بارے میں لکھاہے کہحضرت سید شاہ راجو قتال حسینی ؒ (خلدآباد) جو کہ حضرت سیدنا خواجہ بندہ نواز گیسودراز بلندپرواز کے والد ماجد ہیں، یہی حضرت شاہ خاموش قبلہ ؒ کے جدِ اعلیٰ ہیں۔ حضرت خواجہ بندہ نواز گیسودراز بلندپرواز کے برادر بزرگ کانام حضرت خواجہ سیدچندن حسینی ؒ ہے اور یہ بھی بزرگوار حضرت پیر نصیرالدین چراغ دہلوی کے مرید اورخلیفہ ہیں۔
ڈاکٹر اسماء ناہید ایک نوجوان اسکالر ہیں۔ ان کا کہناہے کہ ”معین الدین حسینی جو تصوف کی دنیا میں شاہ خاموش کے نام سے پہچانے جاتے ہیں ۴۰۲۱ھ ہجری مطابق 1789-90ء میں حضرت سید میراں مخدوم حسینی کے گھر بیدر میں پیدا ہوئے۔ آپ کا سلسلہ نسب حضرت سید شاہ راجو قتال خلد آبادی کے صاحبزادے سید چندن حسینی سے ملتا ہے۔ حضرت سید چندن حسینی، سید محمد حسینی بندہ نواز گیسو دراز کے بڑے بھائی تھے۔ حضرت شاہ خاموش نے مانک پور پنجاب میں حضرت حافظ موسیٰ کے ہاتھ پر بیعت کی اور وہیں پر ایک عرصہ زندگی گزاری اور وہیں سے حج کے لئے روانہ ہوئے اور واپسی میں حیدرآباد کے محلے مستعد پورہ میں سکونت اختیار کی۔ افضل الدولہ سے ملاقات کے بعد حیدرآباد کی تاریخی مکہ مسجد میں مسجد کی خانقاہ میں قیام اختیار کیا۔ جمعہ کی نماز کے بعد سماں کی محفل خانقاہ میں منعقد ہوا کرتی تھی جس میں دوسرے شعراء کے کلام کے ساتھ ساتھ آپ کا کلام بھی پیش کیا جاتا تھا۔آپ کے منتخب کلام کا قلمی نسخہ کتب خانہ ادارہء ادبیات اردو میں مخطوطہ نمبر470پر محفوظ ہے۔ہے جس کا ڈاکٹر سید محی الدین قادری زور نے تذکرہ مخطوطات کی جلد دوم کے صفحہ140-141پر کیا ہے۔ آپ کا دیوان کئی مرتبہ طبع ہوا ہے۔ آپ کی مطبوعہ دیوان کی ابتداء جس نعت شریف سے ہوتی ہے اس کا ایک قلمی نسخہ تذکرہ مخطوطات جلد سوم ادارہء ادبیات اردو میں مخطوطہ نمبر گیارہ کی حیثیت سے درج کیا گیا ہے۔(بحوالہ کتاب ”تاریخ ادب اردو، بیدرکرناٹک“۔ڈاکٹر اسماء ناہید۔ صفحات 168اور 169، اشاعت:2019؁ء، تنویرپبلشرس حیدرآباد۔ ص۔ 168)  
ڈاکٹر اسماء ناہید نے حضرت شاہ خاموش رحمتہ اللہ علیہ کی شاعری پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے۔ انھوں نے حضرت شاہ خاموش ؒ کا یہ شعر بھی درج کیاہے ؎
کفر کافر کو بھلا شیخ کو اسلام بھلا  
عاشقانِ آپ بھلے اپنا دلآ رام بھلا  
یہ وہ شعر ہے جس کو مرزاؔچشتی صابری نظامی بیدری باربار گنگناتے ہیں بلکہ کئی اہم مواقع پر اسی شعر کاسہارا لے کر اپنے آپ کو مسائل سے علیحدہ کرلیتے ہیں اور اپنے مریدان باصفاکو بھی اسی شعر کے ذریعہ تعلیم دیتے ہیں۔آئیے ہم پھر ایک بار مرزاؔصاحب کی طرف چلتے ہیں۔ حضرت شاہ خاموش کے بارے میں ان کی تحقیق ہے کہ ”آپ ہمیشہ خاموش رہتے اور حسب ضرورت صرف اِشارہ سے کام لیتے۔ آپ کے پیربھائی حضرت سید امانت علی صاحب ؒ نے فرمایاکہ اہل ِ سلسلہ کی موجودگی میں جب پیرومرشد قبلہ ؒ آپ کے سرپر دستار ِ خلافت باندھااور قطبِ دکن قرار دیا تو انہیں تاکید فرمائی کہ ھماری حیات تک ہر دوسرے، تیسرے مہینے آیاکرو اور ھمارے وصال کے بعد دکن میں مقیم ہوجانا۔ آپ نے حسب ِ حکم پیرومرشد قبلہ حج بیت اللہ کاقصد فرمایا اور دورانِ سفر جن جن شہروں سے آپ کا گزر ہوا، آپ نے وہاں سلسلہ قایم فرمایا۔ مساجد وخانقاہیں تعمیر فرمائیں۔ آپ نے بیرون ِ ملک سلسلہ ء چشتیہ کے اکابر واولیاء اللہ کے بارگاہوں میں حاضری دی، قیام فرمایا اور خوب فیوض وبرکات حاصل فرمایا۔ آپ نے مکہ اور مدینہ منورہ کے علاوہ کربلامعلی ونجف اشرف کی بھی زیارتیں کیں اور قیام فرمایا۔سفر عرب سے جب آپ اپنے شہر بید رواپس ہوے تو حضرت کو پہچاننادشوار ہوگیا۔ حضرت نے شہر بیدر میں ایک خانقاہ اور مسجد تعمیر فرمائی جوکہ آج تک موجود وآباد ہیں۔ بیدر میں بھی بے شمار لوگ آپ کے دستِ حق پربیعت کئے۔ بیدر میں آپ کے چھوٹے بھائی کے صاحبزادے سید شاہ باقر حسینی ؒ مقیم رہے اور آپ یہاں سے حیدرآباد تشریف لے گئے۔ حیدرآباد میں بے شمار امراء وعام لوگوں نے آپ کے دستِ حق پر بیعت فرمایا۔قیام آپ کا مکہ مسجد میں تھا جہاں آپ کے حلقہ بگوش کثرت سے ذکرمیں مشغول رہتے۔ آپ نے کبھی بھی کسی سے جاگیرات، نقدی، زروجواہرات قبول نہیں فرمایا۔ خود بیدر شہر کے آباواجداد کے زمانہ ء قدیم کے جاگیرات جیسے بردی پہاڑ، موضع شاہ پور وغیرہ سے بھی آپ مکمل طورپر دست بردار ہوگئے۔ بے شک اللہ والے ایسے ھی ہوتے ہیں۔ انہیں ظاہری مال ومتاع سے کیاواسطہ“
ہمعصر بزرگ:۔ ڈاکٹر اسماء ناہید حضرت شاہ خاموش کی غزلوں اور ہم عصر شعراء کے بارے میں لکھتی ہیں کہ ”حضرت شاہ خاموشؒ نے اپنی غزل میں کہیں ایسی زمین استعمال کی ہے جو انہیں کے ہم عصر غالبؔ اور دردؔ نے بھی برتی ہے اور بعض مضامین بھی ان کے یہاں ایسے ملتے ہیں جن کا توارد غالبؔ، ذوقؔ اور دردؔ کے یہاں ملتا ہے“(ایضاً۔ ص172) 
لیکن مرزا ؔچشتی صابری نظامی بیدری حضرت شاہ خاموش ؒ کے ہم عصر بزرگ کے بارے میں لکھتے ہیں ”آپ کے ہم عصر بزرگ حضرت مولانا شاہ نیاز احمد بریلوی ؒ، حضرت شاہ سلیمان تونسوی ؒ، حضرت عبداللہ شاہ صاحب دہلوی ؒ، حضرت محمود میاں صاحب قبلہ احمدآبادی (یہ میرے پڑداداپیر ہیں) حضرت مرزا سردار بیگ وغیرہ ہیں“
وصال:۔حضرت مرزا چشتی صابری نظامی نے لکھاہے کہ”آخری عمر میں آپ کی طبیعت ناساز ہوگئی۔ یکم ذیعقدہ روزِ جمعہ تمام حکماء، خلفاء، معززین شہر کی موجودگی میں آپ پر غشی طاری ہوگئی اور 4 ذی قعدہ 1288 ہجری کو بحالت نماز آپ کاوصال ہوا“
آپ کے چند اشعار ملاحظہ فرمائیں ؎  
کوئی جانے کیا عزو شان ِ محمد ﷺ
خدا آپ ہے رتبہ دانِ محمد ﷺ
کلام اللہ ظاہر ہے ان کی زباں سے 
بیان ِ خدا ہے بیان ِ محمد ﷺ
 لکھاہے قرآن میں نحن اقرب
نہ سمجھو اس کو نقاب میں ہے
 رکھا نہیں وہ کسی سے پردہ
خودی سے تو خود حجاب میں ہے
 جوسب حق ہی حق ہے تو خاموشؔ ہوجا
اناالحق کی تیری عبث گفتگو ہے
 علم ظاہر داستانی اور ہے  
علم اسرارِ نہانی اور ہے 
شیخ سے ہے نہ مدعا گیر سے ہے نہ التجا  
دیر کدھر کدھر حرم عقل کہاں ہم کہاں  
بھلا ہوا سو ہوا یا برا ہوا سو ہوا  
طرف سے یار کی جو کچھ ہوا سو ہوا  
نہیں ہجر کا تیرے غم جانتا ہوں  
تجھ سے دل سے ہر دم بہم جانتا ہوں  
ستم کو تیرے کب ستم جانتا ہوں  
عنایات و لطف و کرم جانتا ہوں  
 منہ نظر آوے نہ آوے زلف کا سایہ بھلا  
روز روشن ہو نہ ہو شامِ غریباں چاہئیے  
 اللہ تعالیٰ حضرت شاہ خاموش رحمتہ اللہ علیہ کے کلام کی خوبیوں کو اور بھی آشکارا فرمائے۔ ملت اسلامیہ کے نوجوان شعراء کو بھی توفیق عطا فرمائے کہ وہ حضرت شاہ خاموش ؒ کے نقشِ قدم پر چل کر اپنی آخرت سنوارلیں۔ آمین

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔