افسانہ - احساس کرب - ازقلم : سعید پٹیل جلگاؤں۔
افسانہ -
احساس کرب -
ازقلم : سعید پٹیل جلگاؤں۔
شادی کی تقریب میں مہمانان کی آمد میں دیر ہوجانے کی وجہ سے ابھی وقت تھا۔میں نے شامیانے کے داخلی دروازے کے کونے میں رکھیّ کرسیوں میں سے ایک کرسی نکال کر اس پر بیٹھ گیا۔۔۔اسی دوران محلےکےخاموش مزاج اپنی بساط بھر پریشان لوگوں کی پریشانی کے مواقعوں پر دوڑ کر آنے والے رحیمو چچا سے ملاقات ہوئی ، میں نے کھڑے ہوکر پھر ایک کرسی اپنے بازو میں لگا کر انھیں استقبالیہ کلمات کے ساتھ بیٹھنے کا اشارہ کیا۔۔۔ اور ان سے ان کے بیٹے کے تعلق سے جاننا چاہا جو گزشتہ سال بھر سے حصول روزگار کےلیۓ خلیجی ملک میں مقیم ہے۔ اس کی فکر کا اظہار کرتے ہوۓ جنگ کے حالات بتاتے ہوۓ انکے تاثرات کو مزید جاننے کی کوشش کی ۔لیکن انھوں نے میری بات کا بے حسی میں جواب دیتے ہوۓ کہا۔۔۔۔میرا بیٹا جس مقام پر ملازمت کرتا ہے وہاں پرندہ بھی پر نہیں مار سکتا۔۔۔!!! ان کے چہرے پر چمک تھی وہ بہت خوش نظر آرہے تھے۔۔۔ میں نے دل ہی دل میں ان کے تاثرات کو سمجھ لیا تھا کہ اب ان کے پاس بیٹے کی آمدنی سے۔۔۔ مالی حالت بہتر ہوگئ ہوں گی۔۔۔؟ اس لیۓ ان کا لہجہ بدل گیا تھا۔ میں نے دعائیاں کلمات ادا کرتے ہوۓ ان کی غریبی کے دور ہونے کی باتیں کرکے انھیں خوش کرتے ہوۓ حوصلہ افزائی کی۔رحیمو چچا اپنے بیٹے کی حصول روزگار کی کامیاب کوشش سے بہت خوش نظر آرہے تھے۔۔۔۔میرے بہت زیادہ مراسم نہیں تھے۔رحیموں چچا بہت غریب تھے لیکن بیٹے کی بیرون ملک سے آنے والی آمدنی نے انھیں علاقہ میں سماجی طور پر ایک خاص مقام پر پہنچا دیا تھا۔ اس لیۓ تقریب میں آنےوالے شرکاء ہم دونوں میں سے مجھے نظر انداز کرتے ہوۓ رحیمو چچا سے مسکراتے ہوۓ ملاقات کر رہے تھے اور اسٹیج کی جانب بڑھ جاتے۔۔۔۔۔رحیمو چچا نے اپنی طرف سے بات کو آگے بڑھاتے ہوۓ بتایا کہ ” میرا بیٹا جاتے وقت ایئرپورٹ پر بہت غمگین تھا رورہا تھا ، مگر پھر اسی نے ڈھارس باندھتے ہوۓ ہم کو ہی تسلی دیتے ہوۓ بتایا تھا کہ” تین برسوں کی تو بات ہے ،مگر وہاں کی خاطر خواہ آمدنی سے گھر کے حالات تو سدھر جائیں گے۔۔۔اس کی ماں اور اس کی بیوی بھی بہت رو رہیں تھیں ، اور خوش بھی تھے “ الله نے اس کے ذریعے ہمارے دن پلٹ دیۓ ہیں۔۔۔ اس کا بیٹا اب تین برس کا ہوچکا ہے ، اس سال اسے اچھی اسکول میں داخل کرنا ہے۔
پھر وہ نم آنکھوں سے ہوائی جہاز میں سوار ہونے کےلیۓ ایئرپورٹ ٹرمنل کی جانب چل پڑا تھا۔ہم نے اسے بہت دیکھنے کی کوشش کی لیکن پھر وہ نظر نہیں آیا۔ اس کی تعلیم غریبی کی وجہ سے خاصی نہیں ہوسکی تھی۔۔۔۔۔میرے سمجھانے پر بھی اس نے اپنی تعلیم ادھوری چھوڑ دی تھی لیکن اب اس کے بیٹے کو پڑھانا ہے۔میرا بیٹا
گھر کی غریبی سے بہت ڈرا ہوا تھا۔اس لیۓ اس نے ایک گریج پر میکنک بننے کا شوق پورا کیا اور روزگار حاصل کرتے ہوۓ کام بھی سکھ لیا تھا۔پھر ایک فور وہیلر کمپنی کے شوروم میں ملازمت سے چند ہزار روپیوں کی آمدنی ہورہی تھی لیکن گھر بڑی مشکل سے چل رہا تھا۔اسی کمپنی سے اس نے کام کے تجربے کا سرٹیفکیٹ حاصل کرکے روزگار کےلیۓ بیرون ملک جانے کی کوشش کی جو کامیاب رہی۔۔۔۔ رحیمو چچا کی بات ابھی ختم نہیں ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔شادی کے شامیانے میں اسٹیج پر دولہا برجمان ہوچکا تھا اور شادی کی کاروائی شروع ہوگئ تھی۔
تبھی ہمارے پڑوس کی کرسی پر بیٹھے۔ ایک ادھیڑ عمر کے مہمان نے ہم دونوں کو اپنی جانب متوجہ کرتے ہوۓ ” کہا کہ جنگ شروع ہے ، ہمارے ملک کے مزدور واپسی کی تیاری میں ہے۔۔۔۔کیونکہ جوابی کاروائی تو ہونا ہی ہے ، اپنے یہاں چیزوں کے دام بڑھنے شروع ہوگۓ ہیں۔۔۔۔“ پھر مجھ جیسے حساس شخص کو خاموش رہنا گوارہ نہیں تھا۔
اس لیۓ میں نے بھی کہا کہ یہ صرف جنگ نہیں ہے یہ طاقت کا استعمال کرکے اپنے لوگوں کو اقتدار سونپنا ، تاکہ وہاں سے ملنے والی معادنیات کی لوٹ گھوسٹ کا کھیل ہے۔جس میں عام شہریان کو نشانہ بنانا اور زندہ بچ جانے والوں میں خوف و ہراس پیدا کرنا مقصود ہے۔۔۔ یہ لوگ انسانیت کے دشمن ہے۔۔۔۔ یہ بھوک اور پیاس سے انسانوں کو مرتا دیکھ کر بہت خوش ہوتے ہیں جو معصومون کی جان لےکر ان کے مال پر عیش کرنا جانتے ہیں۔۔۔۔۔؟ ادھر قاضی صاحب نے شادی کی کاروائی پوری کرکے خطبہ شروع کیا، نکاح کی رسومات مکمل ہو جانے پر نوشامیاں نے کھڑے ہوکر سبھی کو سلام کیا۔۔۔۔۔ دونوں خاندانوں کے سرپرستوں کو لوگ مبارکبادی دے رہے تھے۔۔، قہقہے لگاکر ہنس رہے تھے ، آپس میں مزاق کررہے تھے۔۔۔۔۔کسی کے پاس کوئی فکر نہیں تھی ؟ طعام کے انتظام کا اعلان کیاگیا تو مہمانان جو جہاں کھڑے تھے وہی پر صف بناکر بیٹھ گئے اسی دوران ایک دوست کا فون آیا وہ مجھ سے رسوئی گیس سلینڈر کا مطالبہ کرنے لگا ۔۔۔۔کمپنی سے زیادہ قیمت ادا کرنے پر بھی سلینڈر بھی دستیاب نہیں۔” میں شامیانے سے باہر نکلا تو رات کی ٹھنڈی ہوا میں بھی ایک عجیب سی گھٹن محسوس ہو رہی تھی ، گلی کے کونے پر کھڑے ہوکر میں نے موبائل کان سے لگایا اور دوست جو گیس سلینڈر مانگ رہا تھا ، زیادہ قیمت دینے پر بھی سلینڈر نہیں ملنے سے پریشان تھا۔ میں نے اس کو تسلی دی کہ کسی نہ کسی طرح گیس سلینڈر کا انتظام ہوجاۓ گا۔ مگر دل جانتا تھا کہ یہ محض تسلی ہے ، اسی لمحے دور سے کسی بچے کے رونے کی آواز آئی۔۔۔شاید بھوک سے یا شاید کسی انجانے خوف سے۔۔۔۔۔اور میرے ذہن میں رحیمو چچا کے بیٹے کی تصویر ابھر آئی جو پردیس میں کسی انجانی جنگ کے ساۓ میں سانسیں گن رہا ہوگا ، اور یہاں اس کا باپ خوشیوں کے ہجوم میں بھی ایک ان دیکھے خدشے کے ساتھ زندہ ہے۔۔۔!!! شامیانے میں قہقہے اب بھی بلند ہورہے تھے ، پلیٹوں کی کھنک ، خوشبوں دار کھانوں کی مہک سب کچھ ویسا ہی تھا ، جیسے دنیا میں کوئی غم ہی نہ ہو۔۔۔ مگر میں جانتا تھا ، اور شاید آپ بھی جانتے ہوں گے یہ سب عارضی پردہ ہے۔۔۔، اصل کہانی کہیں اور لکھّی جارہی ہے۔وہاں جہاں بھوک ، جنگ اور بےبسی ایک ساتھ انسانوں کو نوچ رہی ہے۔جہاں رحیمو چچا جیسے ہزاروں باپ اپنے لخت جگروں کی سلامتی کے لیۓ دعائیں مانگ رہے ہیں۔۔۔جہاں میرے دوست جیسے لاکھوں لوگ ایک سلینڈر کےلیۓ پریشان ہیں۔اور ان کے اوپر مسلط لوگ مسکرا رہے ہیں۔۔۔۔۔وہ سب کچھ کرتے ہوۓ بھی کچھ نہیں کرسکتے اور نہ چہرہ چھپاتے ہیں۔۔۔وہ صرف فیصلے کرتے ہیں اور فیصلے
سناتے ہیں ، قیمتیں بڑھاتے ہیں۔ ہم جیسے عام شہریان پر لڑائیاں اور جنگیں تھوپتے ہیں۔۔۔اور محفوظ کمروں میں بیٹھ کر تماشا دیکھتے ہیں۔ میں نے اِدھر اُدھر دیکھا جیسے کوئی جواب مل جاۓ۔۔۔۔مگر شادی کے شامیانے میں شادی کی چہل پہل کے سوا گلی میں سنناٹا چھایا ہوا تھا۔۔۔ہم جیسے حساس اور غریب لوگ صرف محسوس کرسکتے ہیں۔۔۔۔صرف برداشت کرسکتے ہیں۔۔۔صرف دعائیں کرسکتے ہیں۔۔مگر۔۔۔۔ سفید پوشوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے؟ ، اور یہی سب سے بڑا احساس کرب ہے۔۔
Comments
Post a Comment