بابا صاحب بھیم راؤ رام جی امبیڈکر: علم، حوصلہ اور انصاف کی ایک درخشاں داستان۔ از قلم: ڈاکٹر مولانا محمد عبد السمیع ندوی۔(اسسٹنٹ پروفیسر، مولانا آزاد کالج آف آرٹس، سائنس اینڈ کامرس، اورنگ آباد)


بابا صاحب بھیم راؤ رام جی امبیڈکر: علم، حوصلہ اور انصاف کی ایک درخشاں داستان۔ 
از قلم: ڈاکٹر مولانا محمد عبد السمیع ندوی۔
(اسسٹنٹ پروفیسر، مولانا آزاد کالج آف آرٹس، سائنس اینڈ کامرس، اورنگ آباد)
موبائل: 9325217306

بھارت کی سماجی و فکری تاریخ میں اگر کسی شخصیت نے اپنی ذہانت، محنت اور غیر معمولی عزم کے ذریعے حالات کا رخ موڑ دیا، تو وہ ہیں بابا صاحب بھیم راؤ رام جی امبیڈکر، جنہیں دنیا “بابا صاحب” کے نام سے جانتی ہے۔ وہ ایک ایسے دور میں پیدا ہوئے جب معاشرہ ذات پات، تفریق اور ناانصافی کے اندھیروں میں ڈوبا ہوا تھا۔ ایسے ماحول میں کسی پسماندہ طبقے سے تعلق رکھنے والے فرد کا علم و فکر کی بلند چوٹیوں تک پہنچنا، کسی معجزے سے کم نہیں تھا—لیکن بابا صاحب نے یہ معجزہ اپنی محنت اور علم دوستی سے ممکن بنایا۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ بھید بھاؤ اور ذات پات کے دلدل میں جکڑے ہوئے معاشرے میں ہر قدم پر رکاوٹیں تھیں، مگر بابا صاحب نے ان رکاوٹوں کو اپنی کمزوری نہیں بلکہ طاقت بنا لیا۔ انہوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ مطالعہ، تحقیق اور غور و فکر میں گزارا۔ کہا جاتا ہے کہ وہ راتوں کو جاگ کر کتابوں میں ڈوبے رہتے، اور ان کی میز پر ہر روز نئی کتابیں سجی ہوتیں۔ یہی وہ شوقِ مطالعہ تھا جس نے ان کے اندر ایک عظیم مفکر، ماہر قانون اور سماجی مصلح کو جنم دیا۔
بابا صاحب کی علمی وسعت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے دنیا کے معتبر تعلیمی اداروں سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی، اور اپنے علم کو صرف ذاتی ترقی تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے سماج کی فلاح و بہبود کے لیے وقف کر دیا۔ وہ سمجھتے تھے کہ اصل آزادی صرف سیاسی نہیں بلکہ سماجی اور فکری بھی ہونی چاہیے، اور یہی پیغام انہوں نے اپنی تحریروں، تقاریر اور عملی جدوجہد کے ذریعے عام کیا۔
بطور آئین ساز، بابا صاحب کا کردار تاریخ کا ایک سنہرا باب ہے۔ ہندوستان کے آئین کی تشکیل میں ان کی قیادت نے نہ صرف ملک کے قانونی ڈھانچے کو مضبوط بنیادیں فراہم کیں بلکہ ہر شہری کے لیے مساوات، آزادی اور انصاف کے اصولوں کو یقینی بنایا۔ ان کا یہ کارنامہ آج بھی انہیں دنیا بھر میں ایک باوقار مقام عطا کرتا ہے۔
بابا صاحب کے چند فکر انگیز اقوال : 
“تعلیم حاصل کرو، منظم ہو جاؤ، اور جدوجہد کرو۔”
“زندگی لمبی ہونے کے بجائے عظیم ہونی چاہیے۔”
“علم انسان کو آزادی دیتا ہے، اور جہالت اسے غلامی میں جکڑ دیتی ہے۔”
“ایک عظیم انسان وہ ہے جو معاشرے کو بہتر بنانے کے لیے کام کرے۔”
“جو قومیں تعلیم کو نظر انداز کرتی ہیں، وہ ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ جاتی ہیں۔”
“انصاف ہمیشہ برابر کے مواقع فراہم کرنے سے قائم ہوتا ہے، نہ کہ صرف قوانین بنانے سے۔”
بابا صاحب کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ حالات کتنے ہی نامساعد کیوں نہ ہوں، اگر انسان کے پاس علم کی روشنی اور ارادے کی مضبوطی ہو تو وہ ہر اندھیرے کو چیر سکتا ہے۔ انہوں نے ثابت کیا کہ دنیوی عزت، وقار اور حقیقی بلندی کا راستہ علم سے ہو کر گزرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی ان کا نام احترام سے لیا جاتا ہے اور ان کی فکر آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
14 اپریل 1891 کو پیدا ہونے والا یہ عظیم انسان 6 دسمبر 1956 کو دنیا سے رخصت ہوا، مگر اس کے خیالات، اس کی جدوجہد اور اس کا پیغام آج بھی زندہ ہے۔ بابا صاحب کی داستان صرف ایک فرد کی کامیابی کی کہانی نہیں، بلکہ یہ اس حقیقت کا اعلان ہے کہ علم، محنت اور حوصلہ—یہ تینوں مل جائیں تو تاریخ کا دھارا بدل جاتا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ