الوداع اے شہر شولاپور۔ خامہ بکف : محمد پالن پوری۔ - کچھ بھی ہوں شولاپور کے کوچے۔ - تجھ بن مجھ کو گھر کاٹے گا


الوداع اے شہر شولاپور۔ 
خامہ بکف : محمد پالن پوری۔

 کچھ بھی ہوں شولاپور کے کوچے
 تجھ بن مجھ کو گھر کاٹے گا

 ابتداء میں تیرا نام ایک سماعتی آہٹ تھا۔ شولاپوری چادروں کی نسبت سے ایک دھندلا سا تعارف مگر جب 13 فروری 2025 کی شب تیرے اسٹیشن پر قدم رکھا تو گویا ایک مکمل تاریخی داستان میرے سامنے وا ہو گئی۔۔ ایک سال کی اس رفاقت میں تو نے خود کو صدیوں پر محیط ایک زندہ تسلسل کے طور پر منوایا۔ تیرے افق پر کبھی Andhrabhratyas کی ابتدائی جھلک دکھائی دیتی ہے پھر Chalukya dynasty کی سیاسی ہیبت اس کے بعد Rashtrakuta dynasty کی وسعتیں پھر Yadava dynasty کا دور اور بالآخر Bahmani Sultanate کی حکمرانی گویا تو ایک ایسا اسٹیج ہے جس پر تاریخ نے اپنے مختلف ادوار کے کردار یکے بعد دیگرے پیش کیے۔۔۔۔۔۔۔
تیرا نام بھی ایک طویل تاریخی و لسانی سفر کا آئینہ دار ہے۔ عوامی روایت اگرچہ سولا (سولہ) اور پور (گاؤں) کی ترکیب سے سولہ دیہات کا نظریہ پیش کرتی ہے جن میں عادل پور، احمد پور، چاپل دیو، فتح پور، جمدارواڑی، کلاجاپور، خدرپور، کھانڈیروکی واڑی، محمد پور، راناپور، سندل پور، شیخ پور، سولاپور، سونلاگی، سوناپور اور ویدک واڑی شامل کئے جاتے ہیں لیکن تحقیق اس بیانیے کی تصحیح کرتی ہے۔ کالیانی کے کلاچوری عہد اور شیویوگی Shivayogi Shri Siddheshwar کے زمانے کے کتبوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اس خطے کا قدیم نام سونّالاگے تھا جو بعد میں سونّالگی بولا جانے لگا اور یادو دور تک یہی نام مستعمل رہا بعد ازاں شک 1238 کے ایک سنسکرت کتبے میں اسے سونالی پور کہا گیا جبکہ قلعۂ سولاپور کے کتبوں میں سونالپور اور ایک کنویں کے کتبے میں سندل پور کے نام ملتے ہیں۔ مسلم دور میں بھی سونالپور ہی رائج رہا اور غالب امکان یہی ہے کہ صوتی اختصار کے نتیجے میں نا حذف ہو کر سولاپور وجود میں آیا جسے بعد ازاں برطانوی تلفظ نے شولاپور کی شکل دے دی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انتظامی اعتبار سے بھی یہ خطہ مسلسل تغیر سے گزرتا رہا۔ موجودہ ضلع شولاپور ابتداء میں احمد نگر، پونے اور ستارا اضلاع کا حصہ تھا۔ 1838ء میں اسے احمد نگر کا ذیلی ضلع بنایا گیا جس میں برشی، موہول، مادھا، کرمالہ، اندی، ہپرگی اور مددیبیہال شامل تھے۔ 1864ء میں یہ حیثیت ختم ہوئی مگر 1871ء میں دوبارہ تشکیل دے کر اس میں سولاپور، برشی، موہول، مادھا اور کرمالہ کے ساتھ ستارا کے پندھرپور اور سانگولا کو شامل کیا گیا جبکہ 1875ء میں مالشیراس کا اضافہ بھی ہوا بالآخر 1956ء کی ریاستی تنظیم نو کے بعد یہ بمبئی ریاست کا حصہ بنا اور 1960ء میں مہاراشٹر کے قیام کے ساتھ ایک مکمل ضلع کی صورت اختیار کر گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لیکن اے شہر! تیری تاریخ کا سب سے تابناک باب وہ ہے جب مہاتما گاندھی کی گرفتاری کے بعد ڈانڈی مارچ کی لہر یہاں پہنچی اور 9 سے 11 مئی 1930ء تک تیرے باسیوں نے عملاً آزادی کا پرچم بلند کر دیا۔ پولیس فائرنگ کے بعد عوامی غیظ و غضب اس قدر بڑھا کہ سرکاری اہلکار شہر چھوڑنے پر مجبور ہو گئے اور اس مختصر عرصے میں نظم و نسق Ramkrishna Jaju اور ان کے رفقاء نے سنبھالا اسی جذبۂ حریت کا مظہر وہ لمحہ بھی تھا جب Annasaheb Bhopatkar نے 6 اپریل 1930ء کو میونسپل عمارت پر قومی پرچم لہرایا مگر اس جرأت کی قیمت بھی ادا کرنی پڑی۔ مارشل لا نافذ ہوا، گرفتاریاں ہوئیں اور بالآخر Mallappa Dhanshett Kurban Hussain، Jagannath Shinde اور Kisan Sarda کو 12 جنوری 1931ء کو پھانسی دے دی گئی۔ آج ہوتاتما چوک ان قربانیوں کا زندہ استعارہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مگر ان تمام تاریخی اوراق کے درمیان جو چیز میرے دل پر سب سے گہرا نقش چھوڑ گئی وہ تیری سادگی میں لپٹی ہوئی تہذیب ہے، تیری چائے کی بھاپ، سنگم وڑا کی مانوس لذت اور وہ دلدار لوگ جنہوں نے اجنبی کو بھی اپنا بنا لیا۔  ایک سالہ تدریسی قیام نے مجھے ایک ایسا تجربہ عطا کیا جس میں تاریخ و تہذیب اور انسانیت ایک ہی دھارے میں بہتے محسوس ہوئے۔۔۔۔۔۔۔۔
اب 25 اپریل 2026 کو جب رخصت کا لمحہ قریب ہے تو یوں لگتا ہے کہ میں اپنی ہی ایک کیفیت کو چھوڑ رہا ہوں۔ میں جا رہا ہوں مگر تیرا ایک حصہ میرے لہجے اور میری تحریر میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔۔۔۔۔۔۔۔
 اے شولاپور! دعا ہے کہ تو یونہی علم، تاریخ محبت و اخوت کا چراغ بن کر روشن رہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ