پروفیسر مسعود احمد کی شاعری میں تخلیقی صلاحیتوں کا بڑا دخل- جرمن زبان میں ترجمہ قابل مبارکباد - شعری مجموعہ" لمعات مسعود " کی رسم اجر ،پروفیسر ایس اے شکور،جناب انوار الہدی اور پروفیسر مسعود احمد کا خطاب۔


حیدرآباد 6 اپریل _ (راست) پروفیسر ایس اے شکور ڈائریکٹر دائرۃ المعارف نے کہا کہ پروفیسر مسعود احمد کی شاعری زندگی کے مختلف شعبوں کا احاطہ کرتی ہے پروفیسر مسعود احمد ہمہ خوبیوں اور صلاحیتوں کے مالک ہیں انہوں نے اب تک 10 کتابیں تصنیف کی ہیں جو نثری اور شعری مجموعہ پر مشتمل ہے آج کل کے دور میں لکھنا اور اس کو طبع کروانا کوئی آسان کام نہیں ہے اس کے لیے پروفیسر محمد مسعود احمد ہر طرح سے قابل مبارک باد ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے پروفیسر محمد مسعود احمد ممتاز شاعر و ادیب وچیف اپریٹنگ افیسر رینوا بی بی کینسر ہاسپٹل کی دسویں تصنیف "لمعات مسعود" کی رسم اجرا انجام دیتے ہوئے کیا اس اردو کتاب کا پروفیسر ارشاد بلخی نے جرمن زبان میں ترجمہ کیا ہے سلسلہ خطاب جاری رکھتے ہوئے پروفیسرایس اے شکور نے کتاب کا جرمن زبان میں ترجمہ کرنے پر جناب ارشاد بلخی کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ بعض ترجمے اگر لفظ بہ لفظ کیے جائیں تو اس کے معنی و مفہوم بدل جاتے ہیں لیکن ارشاد بلخی نے شاعر کے مزاج اور اس شعری مجموعے کی اصل روح کو سمجھتے ہوئے جو ترجمہ کیا ہے وہ قابل فخر کارنامہ ہے انہوں نے کہا کہ شعری مجموعہ کا ترجمہ کرنا تو اور بھی انتہائی مشکل کام ہوتا ہے لیکن اس کام کو ارشاد بلخی نے بخوبی انجام دیا ہے انہوں نے کہا کہ پروفیسر مسعود کی شاعری میں تخلیقی صلاحیت اور اپنے جذبات و احساسات کے اظہار کا شاندار سلیقہ پایا جاتا ہے پروفیسر مسعود نہ صرف نثر کے بہترین مصنف ہیں بلکہ شعری انداز میں بھی وہ اپنے میں جدت رکھتے ہیں انہوں نے ،"لمعات مسعود" شعری مجموعے کی جرمن زبان میں ترجمے پر اظہار مسرت کرتے ہوئے کہا کہ پروفیسر مسعود کی ادبی کاوشوں کا یہ سلسلہ مزید دراز ہوتا ہی رہے گا سابق آئی پی ایس وسابق ڈائریکٹر جنرل پولیس اندھرا پردیش (متحدہ )جناب سید انوار الہدی نے پروفیسر مسعود احمد کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اردو میں شاعری اور پھر اس کا انگریزی میں ترجمہ اور اس کے بعد اس کا جرمن زبان میں جو ترجمہ ہوا ہے وہ ہر اعتبار سے قابل تحسین ہے انہوں نے کہا کہ شاعری میں شاعر کی روح کو پکڑنا کافی اہمیت کا حامل ہے انہوں نے کہا کہ یورپ میں اردو پھل پھول رہی ہے مشاعرے اور قوالیاں ہوتی رہتی ہیں جرمنی میں اردو کی ادبی نشستیں بھی ہوتی رہتی ہیں اور ایسے ماحول میں پروفیسر مسعود احمد کا اپنے شعری مجموعے کا جرمن زبان میں ترجمہ کروانا اہل جرمن کے لیے بہت بڑا تحفہ ہے ڈاکٹر ارشاد بلخی (مترجم لمات مسعود بزبان جرمن) نے کہا کہ پروفیسر مسعود احمد کی یہ کتاب ہندوستان اور جرمن کے تعلق کو مزید مستحکم بنائے گی پروفیسر مسعود احمد نے اپنے کلام کے ذریعے اہل جرمن کے قلوب کو متاثر کیا ہے پروفیسر صاحب کی گہری سوچ نے جرمنی کی زندگی کے تمام شعبوں کا احاطہ کیا ہے انہوں نے امید ظاہر کی کہ" لمعات مسعود" دو تہذیبوں کو قریب لانے اور انسانی رشتوں کو مزید مضبوط سے مضبوط کرنے کا اہم ذریعہ ثابت ہوگی انہوں نے کہا کہ انہوں نے جو ترجمہ کیا ہے یہ ان کے اپنے والدین کی دعاؤں کا نتیجہ ہے ڈاکٹر ارشاد بلخی نے اس موقع پر پروفیسر مسعود کے لکھے ہوئے اشعار کو جرمن زبان میں بھی سنایا جس کا سامعین نے تالیوں کی گونج میں خیر مقدم کیا انہوں نے کہا کہ اردو صرف ہمارے پڑوسی ملک یا پھر ہمارے ملک تک محدود نہیں ہے آسٹریلیا اور سو ئزر لینڈ میں بھی اردو بولنے اور سمجھنے والوں کی کافی تعداد پائی جاتی ہے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر ارشاد بلخی کے والد جناب محمد اسحاق بلخی مرزائی نے کہا کہ اولاد کے لیے والدین کا سب سے بڑا تحفہ تربیت ہوتی ہے انہیں اپنے بیٹے ڈاکٹر ارشاد بلخی پر ناز ہے کہ انہوں نے پروفیسر مسعود احمد کے شعری مجموعے کا جرمن زبان میں ترجمہ کیا ہے انہوں نے کہا کہ مجھے فخر ہے کہ اللہ تعالی نے میرے بیٹے کو اعلی صلاحیتوں سے نوازا ہے انہوں نے کہا کہ جرمن زبان میں ترجمہ کوئی آسان کام نہیں ہے اور پھر شاعری کا ترجمہ تو بڑا ہی مشکل کام ہوتا ہے لیکن ڈاکٹر ارشاد بلخی نے اپنی جستجو سے یہ کام کر دکھایا ہے مصنف لمعات مسعود پروفیسر محمد مسعود احمد نے اپنے خطاب میں ڈاکٹر ارشاد بلخی کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ ارشاد بلخی کی ابتدائی تعلیم نا رائنا کالج سے ہوئی تھی اس کے بعد وہ جرمنی گئے اور وہاں پر ایم بی بی ایس کیے اور 11 سال تک وہاں پر زیر تعلیم رہے اردو ادب اور صوفی ازم پر ان کا گہرا مطالعہ رہا ہے پروفیسر مسعود نے اپنے خطاب میں کہا کہ اس کتاب کو جرمن کے تمام امور کو ذہن میں رکھ کر لکھا گیا ہے اس میں شعری اور شریعتی اصلاح کا بھی خاص خیال رکھا گیا ہے انہوں نے کہا کہ جرمن ایک ترقی یافتہ ملک ہے ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے اور جرمن بھائیوں کے درمیان اتحاد و اتفاق کے مزید راستے ہموار ہوں انہوں نے اپنے شعری مجموعوں میں اساتذہ ڈاکٹر فاروق شکیل مخدوم ایوارڈ یافتہ اور جناب سمیع اللہ حسینی سمیع کی رہنمائی کا شکریہ ادا کیا انہوں نے اپنے شعری مجموعے سے کچھ اشعار بھی سنائے
جس دیس میں جمنا دریا ہے وہ دیس ہمارا بھارت ہے 
دنیا سے ہمیں جو پیارا ہے وہ دیس ہمارا بھارت ہے 
ہندو بھی ہیں اس میں مسلم بھی عیسائ بھی اس میں اور سکھ بھی 
ہر کوئی خوشی سے رہتا ہے وہ دیس ہمارا بھارت ہے 
مسجد میں نمازیں ہوتی ہیں مندر میں بھی پوجا ہوتی ہے 
جس دیس میں ایسا ہوتا ہے وہ دیس ہمارا بھارت ہے 
     پروفیسر مسعود احمد نے برلن شہر کے حالات پر بھی اشعار سنائے 
یہ علم و ہنر کا درپن ہے برلن جو جہاں میں روشن ہے
اخلاص ہی اس کا مخزن ہے برلن جو جہاں میں روشن ہے 
دیوار گرا دی نفرت کی تمثیل بنائی الفت کی  
امن کا اب یہ مسکن ہے بر‌لن جو جہاں میں روشن ہے
پروفیسر مسعود احمد نے بتایا کہ ان شاءاللہ گیارہویں کتاب بھی بہت جلد منظر عام پر آئے گی جناب شفیع الدین اعجاز کرسپانڈنٹ شانگریلا ہائی اسکول نے پروفیسر مسعود کو لمںعات مسعود کی تصنیف پر قلبی طور پر مبارکباد دی اور کہا کہ اردو زبان کے فروغ کے لیے موصوف کی کاوشیں قابل ستائش ہیں ادبی اجلاس کی کاروائی ڈاکٹر آصف علی نے بڑی ہی عمدگی کے ساتھ چلائی انہوں نے بھی پروفیسر مسعود احمد کو لمعات مسعود کی تصنیف پر دلی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ پروفیسر مسعود طبی خدمات کے ساتھ ساتھ ادبی خدمات انجام دیتے ہیں یہ سبھی کے لیے قابل تقلید اقدام ہے پروفیسر عبدالستار امریکہ نے کہا کہ طبی صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ پروفیسر مسعود احمد میں ادبی صلاحیتیں قابل ستائش ہیں انہوں نے اپنے دیرینہ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پروفیسر مسعود کے لکھنے کا انداز بالکل نیا ہے اور آنے والی نسلوں کے لیے یہ انداز قابل تقلید ہے حضرت صابر پاشاہ بلخی مرزائی نے بھی پروفیسر مسعود احمد کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے نیک تمناؤں کا اظہار کیاغزل سنگر عدنان سالم نے پروفیسر مسعود کا کلام مترنم انداز میں سنایا انہوں نے لمعات مسعود کی رسم اجرا پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ کتابیں معاشرے کی ادبی اور شعری ضرورتوں کو پورا کرتی ہیں پروفیسر مسعود احمد نے اس موقع پر پروفیسر ایس اے شکور ،جناب سید انوار الہدی ، ڈاکٹر ارشاد بلخی ،پروفیسر عبدالستار، کلاسیکل غزل سنگر عدنان سالم اور دیگر کی شال پوشی کی کمسن طالب علم سید اسد علی متعلم پریرینا ہائی اسکول وجے نگر کالونی( ولد جناب سید شعیب علی )نے گلدستہ پیش کرتے ہوئے انہیں دلی مبارکباد پیش کی بعد ازاں مخدوم ایوارڈ یافتہ ڈاکٹر فاروق شکیل کی صدارت میں سنجیدہ و مزاحیہ مشاعرہ منعقد ہوا جس میں صدر مشاعرہ ڈاکٹر فاروق شکیل کے علاوہ ،جناب سمیع اللہ حسینی سمیع ,پروفیسر مسعود احمد طاہر گلشن آبادی، شاہد عدیلی ،جناب فرید سحر ،شکیل حیدر کانپوری ،ڈاکٹر طیب پاشاہ قادری، خادم رسول عینی، حنا شہیدی ،تقیہ غزل،الزبتھ کورین مونا ،جناب لطیف الدین لطیف، وحید‌پاشاہ قادری ،ظفرفاروقی ،انجنی کمار گوئل ‌نے کلام سنایا اس موقع پر جناب منور حسین صدر بزم احمد حسین، جناب رفیع ڈھاکلی، جناب سلیم احمد فاروقی بانی اردو اکیڈیمی جدہ ،جناب سید ظہور الدین چیئرمین سکندراباد کوآپریٹو بینک،ماہر تعلیم جناب محمد حسام الدین ریاض،ڈاکٹر ناظم علی سابق پرنسپل موڑتاڑ کالج نظام اباد ،جناب جہانگیرقیاس اور دیگر معززین موجود تھے جناب لطیف الدین کے شکریہ پر اس محفل کا اختتام عمل میں ایا

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ