روٹی کی اہمیت۔ مصنفہ : ٹی این بھارتی ، دہلی۔
روٹی کی اہمیت۔
مصنفہ : ٹی این بھارتی ، دہلی۔
ادھر گرمی کی چھٹیوں کا بگل بجا ادھر بچو ں نے شور وغل مچا دیا نانی کے گھر جائیں گے
دودھ ملائی کھائیں گے ۔ پانچ برس کی شرارتی مدیحہ نے امی اور ابو سے ضدی انداز میں کہا مجھے نانی کے گھر جانا ہے ۔ اپنی بیٹی کو نانی کے گھر ضرور لے چلیں گے ابو نے مدیحہ کو گود میں بیٹھاتے ہوئے کہا چلو تیار ى کر لو صبح پانچ بجے کی ٹرین سے نانی کے گھر چلتے ہیں ۔ مدیحہ نے ابو کے رخسار پر بوسوں کی بارش کردی میرے پیارے ابو جان کہہ کر اپنے کمرے کی طرف قدم بڑھا دئیے بھائی جان صبح کی ٹرین سے ہم نانی کے گھر جا رہے ہیں ذرا میرا بیگ نیچے ا تار دیجئے میں اپنی گڑیا کو بھی ساتھ لے کر جاو گی ۔ ا رے رے رے نانی کے گھر کھلونے نہیں لے کر جاتے وہاں اتنی مستی کر یں گے کہ تم کو گڑ یا سے کھیلنے کاوقت ہی نہیں ملے گا ۔ دس سالہ باسق ارحم نے مدیحہ کو سمجھایا نہیں بھائی جان میں تو اپنی گڑیا ساتھ لے کر ہی جاوں گی ۔ امی جان نے کمرے میں داخل ہو تے ہوئے کہا چلو بچوں آپ کے بیگ تیار کر دوں تم دونوں باہر کھیلنے جاو مدیحہ نے مچل کر کہا امی جان میری گڑیا بھی بیگ میں رکھئے گا ۔ اچھا با با رکھ لیتی ہوں ۔
فرحت نے ذرا دیر میں سامان پیک کر لیا ۔ دونوں بچے صبح سویرے جاگ گئے ابو جان باسق کو لے کر فجر کی نماز ادا کرنے چلے گئے ۔ مدیحہ نہا کر تیار ہوگئ ۔چاروں نے جھٹ پٹ ناشتہ کیا اور سفر کے لئے روانہ ہوئے۔ مدیحہ تم تو پہلی مرتبہ ٹرین کا سفر کرو گی تو شرارت بالکل نہ کرنا باسق نے چھوٹی بہن کو سمجھایا۔ ٹھیک ہے بھائی جان میں شرا رٹ نہیں کرو گی ۔ پلیٹ فارم پر جاتے ہی دونوں بچے خوشی سے جھوم کر گانے لگے ریل گاڑی چھک چھک ریل گاڑی چھک چھک چھک چھک بھئ چھک چھک ۔۔۔۔۔ ڈبہ میں داخل ہو کرمدیحہ نے ابو کی گود سے اترتے ہی کہا مجھے کھڑکی کی طرف بیٹھنا ہے لو جی اپنی پیاری بیٹی کو کھڑکی کے پاس ہی بیٹھا دیتا ہوں۔
جیسے ہی ریل نے رفتار پکڑی مدیحہ نے ابو جان سے سوال کیا یہ ریل گاڑی کیسے چلتی ہے ؟ بیٹی ریل میں سب سے آگے ایک انجن ہوتا ہے اور انجن کے ساتھ تمام ڈبوں کو جوڑ دیا جاتا ہے ۔
تیز رفتار گاڑی منزل کی جانب رواں دواں تھی مدیحہ نیند کی آغوش میں جا چکی تھی ۔ کرت پور اسٹیشن آتے ہی فرحت کی آنکھ پر نم ہوگئ پورے چھ برس بعد وہ اپنے ما ئیکہ جا،رہی تھی ۔مدیحہ ریل سے اترتے ہی نانا جان کی گود میں سما گئ ۔ ما موں جان نے باسق کو گلے لگایا ۔ دروازے پر دستک کی آواز سنتے ہی نانی نے د روا زہ کھو لا تو فرحت ماں کے گلے لگ گئ ۔ سب نے منہ ہاتھ دھو کر ناشتہ کیا ۔ عائشہ اور عارض ماموں کے بچے مدیحہ اور باسق کے ساتھ باہر کھیلنے چلے گئے مدیحہ کے ابوجان ، ما موں جان اور نا نا جان بھی بازار چلے گئے ۔ نانی نے باورچی خانہ کی راہ لی ۔ پسینہ سے شرابور بچوں نے بھوک لگ رہی ہے بھوک کی رٹ لگائی تو مدیحہ کی ممانی نے مٹی کے چولہے میں لکڑی جلاتے ہوئے کہا بچوں تم سب پہلے نہا لو تب تک میں روٹی پکا تی ہوں ۔
ممانی جان میں تو اس میں نہا وں گی مدیحہ نے صحن میں بنی حو ضی کی طرف اشارہ کیا اچھا تو رکو !! حوضی میں پانی بھر دیتی ہوں ۔ ہینڈ پمپ سے حوضی میں پانی بھر کر ممانی نے چولہے کا رخ کیا اور روٹی پکانی شروع کر دی عائشہ اور مدیحہ حوضی میں کود پڑ یں ۔ چھپاک چھپاک ایکدوسرے پر پانی ڈا ل کر کبھی حو ضی کے اندر کبھی باہر !! مدیحہ جل کی رانی ہے جیون اس کا پانی ہے !! ارے بدھو ! غلط بول رہی ہو عائشہ نے مدیحہ کو ٹوکا ! مچھلی جل کی ہے رانی بولو !!
مدیحہ نے چھوٹی سی با لٹی میں پانی بھرا اور دوڑ کر روٹی پکارہی ممانی جان کے اوپر ڈال دیا پھر ایک اور بالٹی بھر کر تھال میں رکھی سو کھے آٹے کی خشکی کو پانی میں بہا دیا ۔ اف اللہ !! یہ کر دیا ؟؟ اب میں روٹی کیسے پکا و ں ؟ سب لوگ باہر گئے ہیں اور آٹا بھی ختم ہو گیا ہے ۔ باسق چلایا امی جان ! امی جان ! جلدی باہر آ یئے مدیحہ نے سارا آٹا خراب کر دیا ۔ امی حیرت سے مدیحہ کو دیکھتے ہوئے غصہ سے بولیں یہ کیا کر دیا تم نے سارا آٹا بہا دیا ۔ کتنا غلط کیا!! رزق کھا کر پیٹ بھرتا ہے ۔جسم میں طاقت آتی ہے۔
تم کو معلوم کسان کتنی محنت سے اناج اگاتا ہے ؟ لیکن امی جان ہمارے گھر تو ابو جان آ ٹا لے کر آتے ہیں تو کیا وہ کسان ہیں ؟ آپ تو ہم کو روٹی پکا کر دیتی ہیں رزق کیا ہوتا ہے ؟ مدیحہ کے معصوم سوال پر فر حت
مسکرا دی بتائیے امی جان آٹا کہاں سے آتا ہے ؟ آٹا کون بناتا ہے ؟ آٹے میں پانی ڈالنے سے روٹی کیوں نہیں بن سکتی؟ کیا نا نا جان اور ما موں جان کسان ہیں۔
مدیحہ کے معصوم سوال پر فر حت
مسکرا دی بتائیے امی جان آٹا کہاں سے آتا ہے ؟ آٹا کون بناتا ہے ؟ آٹے میں پانی ڈالنے سے روٹی کیوں نہیں بن سکتی؟ کیا نا نا جان اور ما موں جان کسان ہیں ؟ آف توبہ اس شرارتی بیٹی کے سوالات سے تو میں عاجز آگئی
ارے بیگم کیا ہوا ہماری بیٹی کو کیوں ڈانٹ رہی ہو ؟ دیکھئے ناں اپنی لاڈلی کی شرارت آٹے میں پانی بھر دیا اور سوالوں کی بو چھار کر دی فرحت نے تمام سوالات دہرائے تو مدیحہ کے ابو نے کہا بیٹی کل صبح تم کو کھیتوں میں لے چلیں گے پھر دیکھنا آٹا کہاں سے آتا ہے ؟ مدیحہ نے تالی بجائی بہت مزہ آئے گا میں تو کھیت دیکھنے جاوں گی ۔ عائشہ عارض اور باسق چلائے ہم بھی چلیں گے ہاں ہاں سب بچے صبح جلدی جاگنا تا کہ تازہ ہوا کے ساتھ کھیتوں کا مزہ لے سکو ۔
کھیتوں میں جانے کی خوشی میں تما م بچے صبح سویرے نہا دھو کر تیار ہوگئے چلو بھئی بیل گاڑی آگئی سب بچے بیٹھ جاو بیل گاڑی ہچکولے کھاتے ہوئے کرت پور کی کچی شا ہر اہ پر چل دی ۔ لہلہاتے کھیت دیکھ کر بچے خوشی سے جھوم اٹھے ۔ بیل گاڑی سے چھلانگ لگا تے ہوئے مدیحہ نے پوچھا ابو جان یہاں تو کہیں بھی آٹا نہیں ہے ؟ روٹی تو آٹے سے بنتی ہے اور آٹا تو آپ لے کر آتے ہیں ارے مدیحہ تم بیوقوف ہو کیا ؟ باسق نے بہن کو ٹوکا کھیت میں آٹا تھوڑی ملتا ہے پھر بتاو ناں بھائی جان روٹی کے لئے آٹا کہاں سے آتا ہے ؟ عا رض بولا ہما رے گھر میں آٹا تو مزدور لوگ لاتے ہیں ۔ مدیحہ نے ابو کی انگلی تھا م کر پھر سوال کیا ابو جان مجھے تو آٹا نظر نہیں آرہا ہے ۔ بیٹی وہ دیکھو سامنے ہر یا لی وہ دیکھو لمبی لمبی با لیں وہ سب گندم کے کھیت ہیں ابو جان گندم کیا ہوتا ہے ؟ گندم مطلب گیہوں کی بالیں سمجھو یہ کچی مٹی ہے اس مٹی میں کسان گیہوں کے بیچ ڈالتا ہے کھاد ڈالتا ہے پانی ڈال کر سنچائی کرتا ہے ۔ وہ کیا ہے ابو وہ دو بیل کیا کر رہے ہیں وہ ہل چلا رہے ہیں تاکہ گیہوں کی پیداوار اچھی ہو۔ آو کھیت کے اندر ٹیوب ویل پر چلتے ہیں وہ کیا ہوتا ہے ؟ اس مشین سے کھیتوں میں پانی ڈالنے کا کام لیا جاتا ہے دیکھو بیٹی وہ بڑی سی حوض میں مو ٹا سا پائپ ہے بجلی سے اس کی موٹر چلے گی اور پورے کھیت کی ہر ایک بالی میں پانی پھیل جائے گا پھر ہر ایک بالی میں گیہوں کے ان گنت دانے پیدا ہوں گے پھر کسان فصل کاٹ کر گیہوں نکال کر شہرکے با زار میں فروخت کر دے گا لیکن ابو جان کسان آٹا کیوں نہیں بنا سکتا ؟پیاری بیٹی سب کام ایک ہی آدمی نہیں کر سکتا باسق درمیان میں بولا گیہوں کا آ ٹا تو چکی پر پستا ہے ۔ بھائی جان چکی کیا ہوتی ہے ؟ مدیحہ تم بہت سوال کر تی ہو کھیت میں انجوائے کرو ۔
ابو جان نے مدیحہ کو تسلی دی بیٹی تم کو وا پسی میں چکی بھی دیکھا ئیں گے ۔ ا بو جان بر سات میں بارش سے بھی تو کھیت میں پانی جاتا ہے ہا ں باسق بیٹا بارش کا پانی ، دھوپ کی روشنی ، مٹی ، کھاد ، ہل یہ سب چیزیں کھیتی کے لئے بہت ضروری ہیں جب بارش نہیں ہوتی تب ٹیوب ویل کا پانی کھیتوں میں استعمال کیا جاتا ہے ۔
مدیحہ نے مچل کر کہا اچھا تو ابو جان موٹر چلا ئیے مجھے ٹیوب ویل میں نہانا ہے سب بچے ایک ساتھ بولے ہمیں بھی نہانا ہے ۔ موٹر چلتے ہی تیز دھار پانی سے حوضی لبا لب بھر گئ بچے پانی میں کودے چھپاک چھپاک چھپ چھپ مدیحہ جل کی ہے رانی جیون اس کا ہے پانی ۔ عارض نے قہقہہ لگایا پگلی ہو کیا؟ ؟ مدیحہ نہیں مچھلی جل کی ہے رانی بولو ۔
واپسی میں گاوں کے بازار میں ایک جگہ بیل گاڑی روک کر بچوں نے آم کی لسی پی اچانک باسق کی نظر آتے کی چکی پر پڑی ارے مدیحہ دیکھو وہ گیہوں کا آ ٹا پس رہا ہے ۔ ابو جان مجھے وہاں لے چلئے چلو ہم بھی چلتے ہیں سب بچوں نے آٹے کی چکی کی طرف قدم بڑھا دیئے ۔ دیکھو بیٹی فصل کاٹ کر کسان گیہوں کو ان دکا نوں پر فروخت کر دیتے ہیں پھر چکی میں آٹا پیس کر بوریوں میں بھر کر شہر میں لے جا کر فروخت کیا جاتا ہے پھر ہم پیسے دے کر آٹا خرید کر اپنے گھر لے جاتے ہیں اور آپ کی امی جان آٹا گوندھ کر کبھی روٹی کبھی پراٹھا کبھی لڈو تو کبھی کچوری پکاتی ہیں ۔ مدیحہ مزے سے کھاتی ہے ۔ د یکھا بیٹی کسان کتنی زیادہ محنت کرتا ہے کتنی محنت سے آٹا تیار ہوتا ہے ۔ ہمیں آٹا بر باد نہیں کر نا چاہیے چلو وعدہ کرو آٹا کبھی خراب نہیں کرو گی ۔ نہیں میں کبھی بھی آٹا بر باد نہیں کروں گی۔ روٹی پراٹھا کچوری بھی خراب نہیں کروں گی ۔
سبھی بچو ں نے کھیتوں سے واپس آکر منہ ہاتھ دھو یا اور کھانا کھانے بیٹھ گئے ۔ دسترخوان پر رکھی روٹی سے مدیحہ بہت متاثر تھی باسق نے روٹی رکابی میں رکھی اور آلو گوشت کے شوربہ سے لگا کر کھانے لگا روٹی کے کچھ ٹکڑے دسترخوان پر گرتے دیکھ مدیحہ تپاک سے بولی بھائی جان روٹی بر باد نہیں کیجئے ۔ ابھی ہم سب نے کھیت میں دیکھا تھا ناں کسان اور بیل دھوپ میں کام کر رہے تھے۔ اوہو کیا بات ہے ؟ میری پیاری بہن تو بہت سمجھ دار ہو گئ ہے ۔ممانی جان مجھے تو بر یانی کھانی ہے لو بیٹی مدیحہ چمچ سے بریانی کھاو مدیحہ نے چمچ سے بر یانی اس سلیقہ سے کھائی کہ ایک دانہ بھی دستر خوان پر نہیں گرایا ۔
پیا رے بچو ں اب مدیحہ بڑی ہو کر ایک اسکول میں ٹیچر کے عہدہ پر فائز ہے اسکول کے بچوں کو وہ اسمبلی میں آٹے کی اہمیت بتا تے ہوئے کہتی ہے بچوں ہمیں رزق کی بر با دی نہیں کرنا چاہیے جتنی ضرورت ہو پلیٹ میں اتنا ہی کھانا رکھو اگر کسی شادی میں جا رہے ہو تو وہاں بھی کھانا بر باد نہیں کر و چھوٹے چھوٹے نوالے بنا کر خوب چبا چبا کر کھانا کھا و جب پلیٹ میں کھانا ختم ہو جائے تو دوبارہ لے لو ۔ گھر میں ہو یا کسی ریسو ٹو رینٹ میں یا کسی کے گھر دعوت میں شرکت کرنے جاو یا شادی میں جاو کسی جگہ بھی روٹی کا ایک ریز ہ بھی ضائع نہ کرو روٹی کی اہمیت کو سمجھو !!!!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔××× ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Comments
Post a Comment