پی یوسی کالجس کے نتائج، خانگی کالجس تذبذب میں ”آیا مسلم طالبات کی تصاویر عام کی جائیں یانہیں؟“
بیدر۔ 13/اپریل (محمدیوسف رحیم بیدری) پری یونیورسٹی کورس کالجس کے آرٹس، سائنس، کامرس، کمپیوٹر وغیرہ کے بورڈ امتحانات کے نتائج 9/اپریل کو افشاں کئے جاچکے ہیں۔ ان نتائج کے ساتھ ہی ضلع بیدر کے خانگی کالجس خصوصاً سائنس کالجس میں عجیب سا ماحول بناہواہے۔ پہلے تو یہ کہ کسی طرح نتائج کومبینہ طورپر بڑھ چڑھاکر پیش کیاجارہاہے۔ اس کے لئے بھلے ہی مجموعی نتیجہ اچھا نہ ہوتو کسی طالب علم یاطالبہ کااچھا نتیجہ کالج سطح کانتیجہ بتاکر یہ باور کرایاجائے کہ کالج کا مجموعی نتیجہ بھی یہی ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ جو بھی نتائج خانگی کالجس بتادیتے ہیں ان کوچیک کرنے کاکوئی نظام مبینہ طورپر نہیں ہے۔ اگر پی یوبورڈ سے بات کی جاتی ہے تو وہ اپنی لاچاری کااظہار کرتے ہیں۔ اسلئے کہانہیں جاسکتاکہ خانگی کالجس کے نتائج وہی ہیں جو وہ بتارہے ہیں۔ لیکن آج ہمارا موضوع ایسے خانگی کالجس ہیں جہاں مسلمان لڑکیاں زیرتعلیم ہیں۔ اوروہ ابھی تک فیصلہ نہیں کرپائے ہیں کہ جب نتائج آتے ہیں تو ان بالغ مسلمان لڑکیوں کی کھلے چہرے کی تصاویر کو ہورڈنگ، سوشیل میڈیا اور پرنٹ میڈیا میں اشاعت کے لئے دیا جائے یانہیں۔ کمٹھانہ کاایک مینارٹی کالج ہے، اس کالج کے نتائج میں مسلم لڑکیوں کوماسک کے بغیر دکھایاگیا اورکہیں پر مسلمان لڑکیوں کے چہروں کوماسک سے ڈھانپ کر دکھایاگیا۔ دوسری طرف بیدر جیسے تہذیب یافتہ شہر میں مسلمان لڑکیوں کی تصاویر دھڑلے سے دکھائی جارہی ہیں بلکہ ہماری طالبات چہرہ کھلا رکھ کر مائیک پر اپنے تعلیمی عزم کااظہا رکررہی ہیں۔ شاید ہی کوئی نقاب والی طالبہ ہویاپھر ہوسکتاہے نقاب لگانے والی طالبہ کو مائیک کے سامنے بولنے نہیں دیاجاتاہوگا۔ اس عمل سے کالج انتظامیہ کی نظر میں داخلے کم ہوتے ہوں گے لہٰذا چہر ہ کھلا رکھ کر بولنے والی طالبات سوشیل میڈیاپر قریب قریب صد فیصد نظر آرہی ہیں۔حیرت ہی نہیں افسوس اس بات پر ہے کہ حفاظ لڑکیوں کی تصاویر بھی کھلے چہرے کے ساتھ عام ہورہی ہیں۔ دوسری جانب ریاست کے دیگر اضلاع کے پی یو سی کامیاب مسلم طالبات کا حال یہ ہے کہ وہ سر پر پلو اوڑھے بغیربالکل چھوٹی لڑکیوں کی طرح منہ کھولے بغیر برقعہ کے سوشیل میڈیا پر اپنی کامیابی کے تعلق سے بیان دے رہی ہیں۔ اس طرح کی جرأت پر حیرت ہوتی ہے۔ کرناٹک میں لڑکیوں کے نقاب کامعاملہ ابھی تک عدالت میں زیر دوراں ہے۔ آخر سمجھاکیاجائے؟ کیایہ سمجھا جائے کہ طالبات پردہ کرنا نہیں چاہتیں۔ یاخانگی کالجس طالبات کو پردہ کرنے دینا نہیں چاہتے؟مسلم والدین کوتوقع یہی ہے کہ خانگی کالجس مسلمان طالبات کواچھا پڑھائیں گے اور ان کے نقاب اور پردہ ہی کانہیں ان کے مذہب کا بھی پورا پورا خیال رکھیں گے۔ تاہم دیکھنے میں یہی آرہاہے کہ طالبات کو کہیں نہ کہیں بے پردہ کیاجارہاہے۔ والدین چاہتے ہوئے بھی اس کے خلاف آواز نہیں اٹھاپارہے ہیں۔ایک ٹاپر مسلم لڑکی کی تصویر کالج والوں نے عام کردی۔ اس کے بعد اسی لڑکی کی تصویر کے چہرے کو بلر دکھاکر عام کیاگیا۔ اور بھی واقعات اس دوران ہوئے ہیں۔ جس سے پتہ چلتاہے کہ بالغ مسلمان لڑکیوں کے چہرے آیا دکھائے جائیں یانہیں؟ ملت اسلامیہ اس معاملے میں شاید یکسو نہیں ہے۔ آخری بات یہ کہ خانگی کالجس کے نتائج لاکھوں روپئے خرچ کرنے کے بعد اگر اچھے آئے ہیں تو ان ہی کے بین بین مرارجی دیسائی سرکاری رہائشی کالجس کے نتائج بھی بہترین آئے ہیں۔ مرارجی دیسائی سرکاری رہائشی کالجس میں تعلیم اور رہائش دونوں حکومت کی جانب سے مفت ہیں۔کچھ لوگوں کاسوال ہے کہ جب خانگی اور سرکاری کالجس دونوں کے نتائج قریب قریب آرہے ہیں تو پھروالدین کو لاکھوں روپئے خرچ کرکے بچوں کوخانگی کالجس میں پڑھانے کی ضرورت ہی کیوں ہے؟
Comments
Post a Comment