ٹمل تہذیب و ثقافت پر مسلمانوں کے اثرات۔ ازقلم : اسانغنی مشتاق رفیقیؔ، وانم باڑی۔
ٹمل تہذیب و ثقافت پر مسلمانوں کے اثرات۔
ازقلم : اسانغنی مشتاق رفیقیؔ، وانم باڑی۔
موجودہ ریاست ٹمل ناڈو جو پہلے مدراس پرسیڈنسی ہوا کرتی تھی جس میں کیرلا کرناٹکا اور آندھرا پردیش کے علاقے بھی شامل تھے جنوبی ہندوستان کے طور پر ایک الگ ہی پہچان کی حامل رہی ہے۔ یہاں کی تاریخ، رسوم و رواج، زبان و ادب، رہن سہن اور کھانے پینے کے طور طریقوں میں ہندوستان کے دوسرے علاقوں سے کافی بُعد پایا جاتا ہے، حتاکہ مذہبی معاملات میں بھی کئی زاوئے سے اختلافات نظر آتے ہیں۔ آزادی کے بعد جب ریاستوں کی لسانی بنیادوں پر صف بندی ہوئی تو جنوبی ہندوستان کو چار بڑی ریاستوں میں تقسیم ہونا پڑا اور آج کل یہ پانچ اسٹیٹس ٹمل ناڈو،کیرلا، کرناٹکا، آندھرا پردیش اور تلنگانہ اور دو یونین ٹریٹیریس پانڈیچیری اور لکشادیپ میں منقسم ہیں۔
جنوبی ہندوستان میں مسلمانوں کی آمد بنسبت شمالی ہندوستان کے جہاں وہ بحیثیت حکمران فوج کشی کر کے وارد ہوئے، بطور تاجر ہوئی۔ بحیثیت تاجر یہ روز اول سے ہی راست عوامی رابطے میں آئے اور مقامی آبادی کے ساتھ خوشگوار تعلقات مضبوط کرتے رہے جس کے نتیجے میں آج بھی عوامی سطح پرمسلمانوں اور مقامی آبادیوں میں بھید بھاؤ اور اختلافات کم ہی پائے جاتے ہیں۔
ٹمل ناڈو کے ساتھ عربوں کے رابطے تین ہزار سال پرانے ہیں، یہ تجارتی مقاصد سے یہاں آتے رہے ہیں۔ ساتویں صدی میں اسلام کی آمد کے بعد اس رابطے میں اور ترقی و تیزی آئی۔ کے اے نیل کنٹھ شاستری اپنی کتاب جنوبی ہند کی تاریخ میں رقم طراز ہیں، "نویں صدی سے عرب سیاح اور ماہرین جغرافیہ جنوبی ہندوستان کی تاریخ کے لئے اہم ثابت ہونے لگتے ہیں۔ ہندوستان کی زیادہ تر تجارت ابتدائی زمانہ سے عربوں کے ہاتھ میں تھی، عروج اسلام کے بعد اس میں مزید اضافہ ہوا اور اس کے اثرات محض مذہب اور سیاست تک ہی محدود نہیں رہے بلکہ سائنس اور تجارت پر بھی پڑے۔ چونکہ پیغمبر اسلام خود تاجر رہ چکے تھے، اس لئے مسلم سوداگروں کی بڑی عزت تھی۔" آگے ان مسلمان سیاحوں اور مصنفوں کا جنہوں نے جنوبی ہندوستان پر لکھا، تفصیل سے ذکر کر کے بطورخاص ابن بطوطہ کے حوالے سے شاستری جی لکھتے ہیں،" سب سے زیادہ اہم عرب مصنف حبشی ابن بطوطہ ہے جو ملکوں کی دریافت میں انتھک تھا۔ یہ تقریبا 1500 میں تینجیر میں پیدا ہوا ۔ بائیس سال کی عمر میں اپنا آبائی وطن چھوڑا اور آئندہ تیس سال تک لگاتار سفر کرتا رہا۔ 1377 میں بمقام فیض آباد انتقال کیا ۔ ابن بطوطہ کئی سال ہندوستان میں رہا۔ وہ اس وقت بھی یہیں تھا جب محمد تغلق کی مجنونانہ مطلق العنانی نے تمام صوبوں کے گورنروں کو کھلی بغاوت کرنے پر مجبور کر دیا تھا اور نتیجتاً سلطنت کے مختلف حصوں میں خود مختار حکومتیں قائم ہو گئی تھیں ۔ پیشہ سے وہ اسلامی قانون اور روایات کا عالم تھا ۔ وہ بڑا باہمت اور آدمیوں اور واقعات کا گہرا مطالعہ کرتا تھا۔ اس کی تصنیف کا کافی بڑا حصہ اس کی جنوبی ہندوستان کی سیاحت اور وہاں کے تجربات کے ذکر پر مشتمل ہے ۔ ان بیانات سے اس زمانے کے سیاسی مذہبی اور سماجی حالات کے بارے میں بہت بڑی حد تک صحیح معلومات حاصل ہوتی ہیں۔" آگے اسلام کے عنوان پر وہ مزید لکھتے ہیں، " شمالی ہندوستان کی بہ نسبت جنوبی ہندوستان سے اسلام کا رابطہ بہت زیادہ قدیم ہے۔۔۔ مسلم تاجر ہندوستان آئے اور قدیم ربط و ضبط کو جاری رکھتے ہوئے مالابار کے ساحل کے کئی حصوں میں آباد ہوگئے۔۔۔ ہندو حکمرانوں نے ان مسلم تاجروں کی ہمت افزائی کی تاکہ وہ انہیں ان کی گھوڑ سوار فوج کے لئے گھوڑے مہیا کریں، اسکے علاوہ انہیں اپنے جہازی بیڑے میں بھی مسلمانوں کی ضرورت تھی۔"
مذکورہ بالا اقتسابات سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اسلام اپنے اوائل دور میں ہی ان عربوں کی وساطت سے جو اسلام قبول کر چکے تھے ٹمل ناڈو میں پہنچ چکا تھا۔ مقامی راجاؤں نے مسلمان تاجروں کی نہ صرف ہمت افزائی کی بلکہ انہیں رہنے اور اپنے انداز میں پوری آزادی کے ساتھ زندگی گزارنے کا مو قع دیا۔ یہ عرب تمل نسل کے تمل بولنے والے مسلمان تاجر اور سوداگر، جنہیں جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا کی تجارت اپنے بڑوں سے جنہوں نے ہندوستانی سمندری تجارت پر تقریبا اجارہ داری حاصل کرلی تھی، ورثے میں ملی اور یہ پندرہویں صدی تک کورمنڈل ساحل کی سمندری تجارت پر حاوی رہے۔ تمل ناڈو کی مقامی سلطنتیں چیرا،چولا اور پانڈیا نے اپنے اپنے دور میں ان کی سرپرستی کی اور ان کی عبادت گاہوں کے لئے زمینیں عطا کیں۔
اگرچہ عرب مسلم تاجروں کی آمد کا بنیادی مقصد تجارت تھا، لیکن انہوں نے انہماک اور خلوص کے ساتھ لوگوں میں اسلامی تعلیمات کی تبلیغ بھی کی، جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں مقامی لوگوں نے اسلام قبول کیا اور یوں اسلامی بستیاں وجود میں آتی گئیں۔ تروچیراپّلی جسے ترچی بھی کہاجاتا ہے وہاں 734 عیسوی/ ہجری 116 میں مسلمانوں نے عبادت کے لئے ایک چھوٹی سی مسجد بنائی جو ٹمل ناڈو کی پہلی مسجد مانی جاتی ہے۔ کلو پلی کے نام سے مشہور یہ چھوٹی مسجد آج بھی ترچی میں فورٹ اسٹیشن کے قریب موجود ہے اور تمل ناڈو میں موجود قدیم ترین اسلامی یادگار مسجد سمجھی جاتی ہے۔ اسی دور میں کیلا کرائی میں عالی شان جامع مسجد بھی بنائی گئی جو تمل طرز تعمیر کی نمایاں خصوصیات کی حامل ہے۔ تروچیراپّلی میں 116 ہجری / 134 عیسوی کی عربی تحریر اور کایلپٹنم میں نویں صدی کے وہ کتبے، جن میں پانڈیا حکمرانوں کی طرف سے مساجد کو دیے گئے اوقاف (عطیات) کا ذکر ہے، اس بات کے ثبوت ہیں کہ وہاں کے راجاؤں اور مسلمانوں کے درمیاں کتنے خوشگوار تعلقات تھے۔
شروعات میں یہ مسلمان تجار زیادہ تر ساحلی شہروں میں بستے گئے اور ان میں جماعت کا نظام اول روز سے ہی مضبوط رہا۔ اسی لئے انہیں مقامی لوگوں میں انجوونّم کے نام سے پکارا جانے لگا جس کا مطلب انجمن یا مجلس ہے۔ تنکاسی ، ضلع ترنلویلی میں ایک قدم مسجد آج بھی انجونّم پلی واسل کے نام سے موجود ہے۔
ان مسلمان تجار کی وجہ سے تمل ناڈو میں بڑی خوشحالی پیدا ہوئی اور خاص کر ان علاقوں کی معشیت کو غیرمعمولی استحکام حاصل ہوا جہاں یہ آباد ہوئے۔ انگریزوں کے ریکارڈس میں ناگور، ناگاپٹنم کو مور پورٹس، ترونلویلی کی بندرگاہوں کو مریکائر پورٹس، کڈالور کو اسلام آباد اور پورٹو نوویا پرنگیپیٹائی کو محمد بندر کے نام سے ذکر کیا گیا ہے۔
تاجروں کے علاوہ صوفیا کرام کی ایک بڑی تعداد بھی ٹمل ناڈو میں عرب سے تبلیغ اسلام کے غرض سے آئی۔ مقامی آبادی کی ایک بڑی تعداد نے ان کے کردار اور ان کے سماجی رویوں کو دیکھ کر اسلام قبول کیا، آخر میں یہ مبلغین یہیں کے ہو کر رہ گئے، ان کے مزارات آج بھی ٹمل ناڈو بھر میں پھیلے ہوئے ہیں، جیسے کماری ضلع کے کونارو شہر میں عراق کے خرزم ولی اور ترونلویلی ضلع کے گودرسا پہاڑ پر عبدالرحمٰن ولی کا مزارہے جو ساتویں صدی کے بتائے جاتے ہیں۔ اسی طرح ترچی میں طبل عالم نطہر اولیا، مدورائی میں علی یار شاہ، ایرواڈی میں سلطان سید ابراھیم شہید، نو منتاکڑی میں سید محمد بخاری، دیوی پٹنم میں سید احمد وغیرہ صوفی حضرات و مبلغین نے بھی اپنے آبائی وطن کو چھوڑ کر اپنے مشن کے لئے ٹمل ناڈو کو اپنا مسکن بنایا اور یہیں کی مٹی کے ہو کر رہ گئے۔
عرب تجار مسلمانوں سے ریاست میں جو نسل پھیلی ان میں نمایاں نام مراکیار، لبّے، راؤتر، سوناکا ماپلا، کیالراور تلوکر کا آتا ہے۔ مراکیار: ساتویں صدی سے بحری تجارت سے وابستہ ایک اہم برادری ہے جو موتیوں اور قیمتی پتھروں کی تجارت کرتے تھے۔ یہ زیادہ تر کیلاکرائی، کائلپٹنم اور ناگور جسیے ساحلی علاقوں میں آباد ہیں۔ ہندوستان کے گیارہویں صدر اے پی جے عبدالکلام بھی اسی طبقے سے تھے۔ لبّے: عربوں اور ان کی مقامی بیویوں سے پیدا ہونے اولاد اور ان کی نسل کو لبّے کہا جاتا ہے۔ یہ برادری ریاست کے کئی اضلاع میں پھیلی ہوئی ہے اور اکثر تجارت سے وابستہ ہے۔ راؤتر: گھوڑوں کی تجارت سے وابستہ یہ برادری تمل ناڈو کی ایک نمایاں اور خوشحال مسلم برادری ہے جو تنجاؤر، ترووارور اور ناگپٹنم اضلاع میں آباد ہیں۔ سوناکا ماپلا: مالابار کے ملیالی زبان بولنے والے مسلمانوں کو تمل ناڈو میں سوناکا ماپلا کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ "سوناکا" تمل مسلمانوں کا ایک قدیم نام بھی تھا، جو ہند-عرب نسل کے مسلمانوں کے لیے استعمال ہوتا تھا، جن کی عربی نسبت یمن سے تھی۔ کیالر: دیگر تمل مسلماںوں کی طرح یہ بھی عرب تاجروں اور مقامی نومسلم افراد کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں پر شافعی فقہ سے وابستہ ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ انہوں نے شافعی مسلک کے عربوں کے اثر سے اسلام قبول کیا۔ تلوکر: یہ ترک نسل سے وابستہ مسلم گروہ ہے۔ لیکن تمل ادب کی متعدد کتابوں میں تمام مسلمانوں کو تولکر کہا گیا ہے اور آج بھی اکثر مقامی لوگ تمام مسلمانوں کے لیے یہی اصطلاح استعمال کرتے ہیں اور مسلمان عورتوں کو تلوکچی کہا جاتا ہے۔ یہ تمام مسلم گروہ مقامی لوگوں کے ساتھ شادیاں کرکے ازدواجی تعلقات کے ذریعے تمل ثقافت اور سماج کا حصہ بن گئے ہیں۔ان میں سے زیادہ تر کا پیشہ تجارت رہا ہے، جبکہ آج بھی یہ بڑی حد تک کاروبار سے ہی وابستہ ہیں۔ ان کے علاوہ ریاست میں دکنی مسلمانوں کی بھی ایک بڑی آبادی موجود ہے جس کے ذیل میں سید شیخ پٹھان نوائطی آتے ہیں۔
تاجروں کی طور پر ٹمل ناڈو کے ساحلوں پر اُترے مسلمان مقامی باشندوں سے شادیاں کر کے ان سے رشتے داریاں قائم کر کے، اپنی کشتیاں جلا کر نہ صرف یہیں کے ہوکر رہ گئے بلکہ یہاں کی مقامی روایتوں اور تہذیب پر بھی اپنے گہرے اثرات چھوڑے۔ جہاں آنے والوں نے کئی مقامی رسوم و رواج کو اپنے روزمرہ زندگی میں شامل کیا وہیں مقامی لوگ بھی اپنے روزمرہ کے معاملات میں ان سے متاثر ہوتے چلے گئے اور مذہب یا رسوم و رواج کو لے کر کبھی ان کی مخالفت نہیں کی۔ مقامی راجاؤں نے مسلمانوں کی عبادت گاہوں کے لیے بڑھ چڑھ کرعطیات دیے۔
ضلع ترونلویلی کا شہر کائلپٹنم جنوبی ہندوستان کی ابتدائی مسلم بستیوں میں سے ایک ہے۔ یہاں آج بھی کئی قدیم مساجد موجود ہیں جن میں موجود کتبوں سے پتہ چلتا ہے یہ دسویں اور بارہویں صدی کے مساجد پانڈیا راجاؤں، سری ویرا پانڈیا اور جٹا ورمن کُلاسیکھراپانڈیا کی وقف کردہ زمین پر بنائی گئی ہیں۔ اسی طرح چودہویں صدی کی ایک مسجد کے ستون پر ملنے والے کتبے سے معلوم ہوتا ہے کہ بادشاہ چیرا اُدیامارتھنڈن (جنہوں نے 1383ء سے 1444ء تک حکومت کی) نے اس مسجد کی مرمت اور دیکھ بھال کے لیے مالی امداد فراہم کی۔ بادشاہ نے اس مسجد کا نام "اُدیامارتھنڈا پیرُم پلّی" رکھا اور یہاں کے قاضی کو بھی اپنا نام دے کر "اُدیامارتھنڈا خضریار" کہا۔ مدورائی کی قاضی سید تاج الدین مسجد 1284ء کے بارے میں تحقیق ہے کہ مسجد کی زمین پانڈیا بادشاہ کُلا سیکرا پانڈیا نے دی تھی اور گوری پالیم مسجد اور درگاہ کی تعمیر نائک حکمران تروملئی نائک نے کی تھی۔ رانی منگمّا اور رانی میناکشی نے 1701ء اور 1733ء میں ترچناپلی کے طبل علم نطہر شاہ بابا کی درگاہ کو کئی گاؤں بخشے۔ 1753ء میں تنجاؤر کے باشاہ تلجاجی نے ناگور درگاہ کے لئے کئی گاؤں وقف کئے۔ اسی طرز پر مسلمانوں نے بھی مندروں کو عطیات دئے اور ان کے انتظامات میں اپنے غیر مسلم بھائیوں کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ ضلع کانچی پورم ، سیّور کے مرگن ٹمپل کو 1645ء میں کوئنسار راؤتر کے ذریعے کالا راؤتر ، نلن راؤتر، الّی راؤتر، خان راؤتر نامی چار مسلماںوں نے ایک باغ دیا جس میں آم ، کٹھل اور ناریل کے درخت تھے۔ ضلع نامکل کے تعلقہ راسی پورم میں برہمنوں کی ایک آبادی کے لئے ٹیپو سلطان کی طرف سے دئے گئے عطیات کا وہاں موجود ایک کتبہ سے پتہ چلتا ہے، اسی طرح ان کی جانب سے ضلع ایروڈ کے علاقے پرندرے کے کرچی گاؤں میں ایک مندر کو دئے گئے عطیات کا بھی دستاویزت سے پتہ چلتا ہے۔ گول کنڈہ کے سلطان ابوالحسن تاناشاہ نے کانجی پورم کے شنکر مٹھ کے لئے 1677ء اور 1686ء میں دو الگ الگ عطیات دئے اور میل پاکم گاؤں کی ساری آمدنی چندر مالیسور مندر کے لئے وقف کردی۔ کرناٹک کے نواب سعادت اللہ خان کے حکم پر راجہ توڈرمل نے درگا سوامی پرمال مندر کو پلیان کڈی، پتور وغیرہ پانچ گاؤں وقف کی اور 1674ء میں پنے ملے مندر کو عطیہ دیا جس کا کتبہ موجود ہے۔ تروناگیشورم میں مسلمان اور ہندو تاجروں نے مل کر ہنڈیاں بنائیں اور ان میں جو رقم جمع ہوتی تھیں اس کا ایک حصہ مسجد کو ایک حصہ مندر کو دیا جاتا رہا۔ مسلمان اور ہندو راجاؤں اور تاجروں کی جانب سے مندروں مسجدوں اور درگاہوں کو دئے گے بے شمار عطیات جو کتبات اور دستاویزات میں محفوظ ہیں اس بات کا اشارہ دیتی ہیں کہ ریاست ٹمل ناڈو میں شروعات سے قومی یکجہتی کی نادر مثالیں موجود رہی ہیں۔
عرب تاجروں کو مقامی آبادی سے جو تمل زبان بولتی تھی، جن کے ساتھ ان کا تعلق تاجرانہ بھی تھا اور ان کے ساتھ رشتہ داریاں بھی قائم ہوگئی تھی، بات چیت میں دشواری پیش آتی تھیں۔ کیونکہ عربی ایک سامی زبان تھی اور تمل زبان کے ساتھ اس کا دور دور کا بھی تعلق نہیں تھا تو ایسے میں ایک رابطہ کی زبان عرب تمل وجود میں آئی، جسے لسان الاروی بھی کہا گیا۔ یہ دونوں زبانوں کا ایک حسین سنگم اور امتزاج تھا، جس میں تمل زبان کو ترمیم شدہ عربی رسم الخط میں لکھا جاتا تھا۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے آج کل جدید تعلیم یافتہ نسل اردو کو انگریزی رسم الخط میں لکھ کر پڑھتی ہے۔ اس کی وجہ سے تمل ناڈو میں آباد عربوں اور ان کی نسل کو عربی رسم الخط کے ذریعے نہ صرف ٹمل زبان سیکھنے کا موقع ملا بلکہ مقامی آبادی سے بھی راست بات چیت کر کے ان کے ساتھ خوشگوار رابطہ بنانے کا ماحول میسر آیا۔ اس کے علاوہ یہ زبان ان کی تجارتی سرگرمیوں اور حساب و کتاب کرنے اور لکھنے میں بھی بڑی معاون ثابت ہوئی۔ عرب تمل یعنی اروی زبان اور اس میں پیدا ہوا ادب اسلامی تعلیمات کے فروغ اور مقامی آبادی میں تبلیغ کے لئے بڑا موثر ذریعہ بن گیا۔ صدیوں یہ زبان سمجھی اور پڑھی جانے کے بعد آج کل معدوم ہوتی جارہی ہے۔ راقم نے اپنی نانی محترمہ ملے اُمہانی سے یہ زبان سنی اورانہیں اس زبان کی کتابیں پڑھتے ہوئے دیکھا، وہ کتابیں آج بھی محفوظ ہیں لیکن انہیں پڑھنا ہمارے لئے سخت دشوار ہے۔
تمل ادب کی ترقی اور ترویج میں بھی مسلماںوں کا کافی بڑا کردار رہا ہے۔ یوں تو مسلماںوں کا اروی زبان میں لکھا گیا ادب اب ضایع ہونے کی کگار پر ہے، مگر خالص تمل زبان میں جو ادب ان کے ذریعے پیش کیا گیا وہ تمل ادب کا ایک درخشاں باب تصور کیا جاتا ہے اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ پالسنتھمالائی کو اولین تمل اسلامی ادبی تخلیق مانا جاتا ہے جس کی تخلیق کا زمانہ 1350ء بتایا گیا ہے۔ چودھویں صدی میں تمل ادب کی تاریخ کے مصنف اروناچلم کے مطابق یہ تمل شعری تصنیف وگوتھا پوری ریاست کے بادشاہ ونّن کی مدح میں لکھی گئی ہے۔ اس کلاسیکی تصنیف کے اب تک صرف آٹھ شعر ہی دستیاب ہوسکے ہیں جنہیں پروفیسر ویاپوری پلئی نے 1931ء میں شائع اپنی کتاب کلاویہ کاریگئی میں نقل کٸے ہیں۔ سترھویں صدی میں عمر پلور اور کنّنگڈی مستان صاحب کے نام سے دو ایسے ممتاز شاعر پیدا ہوئے جو تمل ادب میں نمایاں مقام بنانے میں کامیاب رہے۔ عمر پلور کی سیرا پرانم، جس میں انہوں نے پیغمبر اسلام حضرت محمدﷺ کی سیرت بیان کی ہے اور کنّنگڈی مستان صاحب کی کنّنگڈی مستان پاڈلگل، تمل ادب میں معتبر تصنیف سمجھی جاتی ہیں۔ سیرا پرانم کو تمل ادبی تخلیقات میں بطور حوالہ آج بھی کثرت سے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ شاہکار تصنیف 5027 اشعار پر مشتمل ہے۔ ماضیء قریب میں توتیکورِن ضلع کے ایٹّایاپورم میں واقع عمر پلور کے قبر پر موجود عمارت کو حکومت ٹمل ناڈو نے ازسر نو تعمیر کر کے عوامی زیارت کے لئے کھول دیا ہے۔ ان کے علاوہ الیان کڈی کے پاشا پلور، کمبم کے پیر محمد پلور،ترچنا پلی کے سید امام پلور، النکڈے کے شیخو تمبی پاولر، تنڈی کے محمد ابراھیم پلور، راجہ پالیم کے نینا محمد پلور اور مدو کلتور کے ونا کلنجیا پلور وغیرہم نے تمل ادب میں اپنے تصنیفات سے گراں قدر اضافہ کیا۔
موجودہ دور میں کوی کو عبدالرحمٰن جنہیں تمل جدید شاعری میں ایک منفرد مقام حاصل ہے، محمد میتا، ایس عبدالحمید منوشیاپتّرن، رقیہ راجاتّی سلمیٰ، توپل محمد میراں وغیرہم، تمل جدید ادب میں نمایاں مقام حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں اور ان شعرا نے مختلف ادبی اصناف جن میں روایتی کلامبکم اور انتاتی سے لے کر جدید شاعری تک شامل ہے میں نمایاں خدمات انجام دی ہے اس طرح انہوں نے اسلامی عقیدے اور تمل ثقافت کے درمیان ایک خوبصورت ربط قائم کیا ہے۔
محقق و شاعر مختار بدری اپنی کتاب ٹمل ناڈو میں مسلمان، میں رقم طراز ہیں، " تمل مسلماںوں نے تمل ادب کو اپنی تخلیقات سے مالا مال کیا ہے، حضورﷺ کی حیات طیبہ پر کئی کتابیں ، قرآن مجید کے مطالب اور تفاسیر بھی تحریر کی گئی ہیں نئے اصناف کے علاوہ روایتی اصناف میں بھی اسلامی تخلیقات موجود ہیں۔ سولہویں صدی میں مالدار مسلمانوں نے مسلم تخلیق کاروں کی بڑی ہمت افزائی کی، کیلا کرے، کائل پٹنم اور ناگور تمل اسلامی ادب کے اہم مراکز تھے، کیلا کرے کے مشہور بحری تاجر پریاتمبی مریکائرنے تمل زبان میں اسلامی ادب کو متعارف کرانے کے لئے بڑی فیاضی سے کام لیا۔"
"مسلمان قلمکاروں نے تمل زبان کو پانچ ہزار سے زیادہ عربی، فارسی اور اردو کے الفاظ دئے، آج بھی روزمرہ کی بول چال میں یہ الفاظ مستعمل ہیں۔ مسلمانوں نے تمل ناڈو میں یونانی طریقہء طب کو مروج کیا۔ کرناٹک موسیقی کو مسلماںوں نے عربی اور حسینی نامی دو راگوں سے متعارف کرایا۔ پہلے دراوڑی طرز تعمیر پر عمارتیں بنتی تھیں ، مسلمانوں نے انڈو اسلامک طرز تعمیر کی داغ بیل ڈالی، یہ دونوں مل کر انڈو ڈراوڈین اسلامک آرکٹکچر نامی تیسرے طرز تعمیر کو وجود میں لائیں۔"
اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے چارلس جیمس اپنے ایک تحقیقی مقالے میں رقم طراز ہیں،" (تمل) اسلامی ادب کا اثر تمل ناڈو کے ادبی اور ثقافتی میدانوں میں بھی واضح طور پر نظر آتا ہے۔ اسلامی شاعری اور نثر، جو روحانیت اور اخلاقی اقدار کے موضوعات سے مزین تھیں، تمل ادیبوں میں بڑی پذیرائی حاصل کرتی رہیں۔ خاص طور پر صوفی ادب نے ثقافتی فاصلے کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا، کیونکہ اس کے آفاقی موضوعات— محبت، عقیدت اور وحدت — مذہبی اور سماجی حدود سے ماورا ہو کر لوگوں کے دلوں کو متاثر کرتے تھے۔ (تمل) اسلامی ادب نے تمل ناڈو کی تعلیمی تاریخ پر ایک انمٹ نقش چھوڑا ہے، جس نے اس خطے کی فکری روایات کو تشکیل دیا اور علم و ثقافتی تبادلے کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔"
انگریزوں کے خلاف جنگ آزادی میں بھی ریاست ٹمل ناڈو کے مسلمانوں کا بڑا کردار رہا ہے۔ نیلور کے صوبہ دار یوسف خان، خان صاحب اور مرودانائگن کے نام سے مشہور محمد یوسف خان کے علاوہ ویلو نائچار اور کٹا بومن کے ساتھ بھی کئی مسلمان بہادروں نے انگریزی افواج سے ٹکر لی جس کی داستانیں تاریخ کی کتابوں میں موجود ہیں۔
دوسری جنگ آزادی اور اس سے جڑی مختلف تحریکوں میں جن مسلماںوں نے حصہ لیا ان کی ایک طویل فہرست ہے جن میں نمایاں نام مدورائی کے اےای وی محی الدین عبدالقادر پاولر، تاراپورم کے پی این عبدالکبیر، وردو نگر کے عبدالرحمٰن، کمبم کے پیر محمد پاولر، مدورائی علی یار، مولانا عبدالحمید باقوی، پلا پٹی کے منی مژی مولانا، پلی کنڈا کے علامہ حضرت امانی، تمبوتالے عالم سا، مدورائی مولانا، ترچی مصطفےٰ حضرت، فقیر محمد حاجیار، قائد ملت محمد اسمٰعیل، ترپور کے سپہ سالر محی الدین،ترچناپلی کے خواجہ میاں راؤتر، مجاہد پلاور عابدین، رام ناتھ پورم کے سید محمد، کرور کے نھنا صاحب، پیاری بی نھنا صاحب، مولانا ابولاحسن شاہ باقوی، مولانا کریم غنی، ہانک کانگ یونس، ایروڈ کے پچئے محمد اور امان اللہ خان، آمبور کے ویکم عبدالقادر، واؤ عبدالغفور وغیرہم کے علاوہ آزاد ہند فوج میں بھی تمل ناڈو کے کئی مسلمان اعلیٰ عہدوں پر فائز تھے جیسے بابا عثمان غنی، کیپٹن محمد اکرم، کرنل آزاد محمد، میجر زماں کیانی، کرنل شاہ نواز خان، کرنل کبیر اور کرنل حبیب احمد جنہیں تاریخ کبھی فراموش نہیں کرسکتی۔
جنگ آزادی کے بعد اور جنگ آزادی سے متصل ریاست ٹمل ناڈو میں جو اس وقت مدراس پریسیڈنسی کے نام سے جانا جاتا تھا، میں رونما ڈراوڑین تحریک میں بھی مسلمانوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور مٹی کے ساتھ وفاداری کا کھل کر اظہار کیا ۔ مدراس پریسیڈنسی میں برہمن غلبے کو لے کر سنہ 1916 میں جسٹس پارٹی قائم ہوئی جو آگے چل کر ڈراوڑ تحریک کی بنیاد بنی، دیوان خان بہادر پی خلیف الاللہ اور خان بہادر سر محمد عثمان اس کے نمایاں لیڈران میں شمار ہوتے ہیں۔
پریار ای وی راماسوامی نے جب تحریک عزت نفس شروع کی تومسلمانوں نے پہلے تو ان کے الحاد پر مبنی تحریک کو بڑے شکوک کی نظروں سے دیکھا مگر جب علامہ کریم غنی جو نیتاجی سبھاش چندر بوس کے صف اول کے سپاہیوں میں سے تھے اور پہلی تامل مسلم خاتون ناول نگار سدھی جنیدہ بیگم جنہوں نے اپنی تحریروں کے ذریعے پریار کی سماجی انصاف پر مبنی خود اعتمادی کی تحریک پر اعتماد کا اظہار کیا تو وہ بھی اس تحریک میں شامل ہوگئے۔ اپنے کھلے الحاد کے باوجود پریار اسلام اور مسلمانوں کے تئیں بہت مثبت سوچ رکھتے تھے، انہوں نے 1947 کے اوائل میں کُڈی اراسو میں یوں لکھ کر کہ چھوت چھات کو مٹانے کے لئے اسلام ہی تریاق ہے، خود اپنے ماننے والوں کو حیران کردیا تھا۔ یہی نہیں آزادی کے بعد تقسیم کی وجہ سے رونما ہونے مشکل حالات میں بھی پریار مسلمانوں کے ساتھ کھڑے رہے اور بعد میں سی این انادورئی جنہوں نے پریار سے الگ ہو کر ڈی ایم کے کی بنیاد رکھی وہ بھی قول و عمل سے ریاستی مسلمانوں کے ساتھ جڑے رہے۔ پریار کی ڈی کے کے برعکس ڈی ایم کے "اونڈرے کلم، اوروونے دیئوم" (ایک خدا ، ایک لوگ) کے نعرے کے ساتھ جب انتخابی سیاست کے دنگل میں اتری تو اس کا مسلمانوں کی ایک بڑی اکثریت نے گرم جوشی سے استقبال کیا۔ ڈراوڑین پارٹیوں کے ساتھ ریاست کے مسلمانوں کا یہ اتحاد بہت سارے اونچ نیچ آنے کے باوجود آج بھی برقرار ہے کیونکہ اس کی بنیاد مضبوط ہے۔ ڈراوڑین تحریک کو مضبوطی بخشنے اور اسے سیاسی طور پر استحکام دینے میں قائد ملت اسمعیل صاحب کے مثبت کردار کو تاریخ کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔
ریاست ٹمل ناڈو پر اسلام اور مسلماںوں کے اثرات کتنے گہرے ہیں اس کا اندازہ لگانا کافی مشکل ہے۔ کیونکہ اسلامی روایات یہاں لگ بھگ ایک ہزار سال سے زائد عرصے سے موجود ہیں۔ ایسے میں ان کا یہاں کی تہذیب میں سرایت کر جانا کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔ تمل ناڈو کی ثقافت پر مسلمانوں کا اثر ایک گہرا اور ہمہ گیر امتزاج ہے، جس میں اسلامی روایات اور تمل زبان صدیوں ایک ساتھ زیادہ عرصے تک باہم جڑی رہی ہیں۔ اس کے نمایاں پہلوؤں میں اَروی زبان،عربی رسم الخط میں لکھی جانے والی تمل، مخصوص غذائی امتزاج، صوفی اثرات سے مزین ادب، اور مسجدوں و درگاہوں کی خوبصورت طرزِ تعمیر شامل ہیں۔ اس کے علاوہ تمل ناڈو میں مسلم برادری کا دیرپا اثر اس کی تمل شناخت میں گہری شمولیت کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے، جہاں مذہب اور علاقائی روایات ایک دوسرے میں مدغم ہو کر ایک منفرد اور ہم آہنگ ثقافتی منظرنامہ تشکیل دیتے ہیں۔ یہ مقامی دراوڑی ثقافت اور اسلامی اقدار کا حسین امتزاج جس کے نتیجے میں ایک منفرد اور مضبوط برادری وجود میں آئی جو معاشرے میں بخوبی ضم ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی جداگانہ ثقافتی شناخت کو بھی برقرار رکھے ہوئے ہے، ایک ایسا تجربہ ہے جس کی خمیر صدیوں تیار ہوتی رہی ہے۔
کے اے نیل کنٹھ شاستری دے دبے لفظوں میں ہی سہی اپنی کتاب جنوبی ہند کی تاریخ میں اس کا اظہار یوں کرتے ہیں، " یہ بتانا بہت مشکل ہے کہ جنوبی ہندوستان میں ہندو دھرم کے مذہبی خیالات اور رسوم ورواج کو اسلام نے کس حد تک متاثر کیا ۔ ہندو مذہب کے احیا کی بعض خصوصیات مثلاً وحدانیت پر زیادہ زور دینا ، جذباتی طور پر عبادت کرنا، خود فراموشی اور ریاضت کے سلسلہ میں ایک روحانی معلم کی ضرورت پر خاص توجہ مبذول کرنے کے ساتھ ساتھ ذات پات کے اصولوں کی پابندی میں تساہلی اور کم سے کم بعض فرقوں کے رسوم و رواج کی جانب سے بے التفاتی برتنا کسی حد تک اسلام کے اثرات بتائے جاتے ہیں۔"
موجودہ ریاست ٹمل ناڈو میں مسلمان چھ سے سات فیصد کے درمیان پائے جاتے ہیں، یہ ضلع رامناتھ پورم، ویلور، نیلگیری، اور ترپاتور میں دس فیصد سے زائد ہیں تو ضلع اریالوراور نامکّل میں دو فیصد سے بھی ک
Comments
Post a Comment