بزم کو مہکا رہا ہوں آقا پر پڑھ کے درود۔جلگاؤں؛ یومِ درودِ شریف کے پُرنور موقع پر نعتیہ مشاعرہ روحانیت و عقیدت کی مجلس۔


جلگاؤں (سعید پٹیل) جب ذکرِ مصطفیٰ ﷺ کی مہک فضا میں گھل جائے اور درود و سلام کی صدائیں دلوں کو منور کر دیں تو محفل محض ایک اجتماع نہیں رہتی بلکہ ایک روحانی تجربہ بن جاتی ہے۔ ایسے ہی نورانی اور بابرکت ماحول میں عالمی یومِ درودِ شریف کے موقع پر صوفی حضرت حکیم علامہ عثمان جوہری صاحب کی زیرِ صدارت ایک عظیم الشان نعتیہ مشاعرہ و محفل درود شریف و تصوف کا انعقاد ہوا، جسے صوفیانہ رنگ، عشقِ رسول ﷺ کی حرارت اور روحانیت کی لطافت نے ایک یادگار محفل میں بدل دیا۔ محفل کے آغاز ہی سے درود و سلام کی صداؤں نے دلوں کو جھنجھوڑ دیا۔ اپنے صدارتی خطاب میں حضرت عثمان جوہری صاحب نے نہایت پراثر اور روح پرور انداز میں ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے ملائکہ بھی سرورِ کائنات حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر درود بھیجتے ہیں، لہٰذا ہم امتیوں پر لازم ہے کہ اس سعادت کو اپنا شعار بنائیں۔ انہوں نے عصرِ حاضر کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے حقوقُ العباد، اخوت، اور انسانیت کے فروغ پر بھی نہایت بصیرت افروز گفتگو فرمائی، جس نے حاضرین کے دلوں میں عمل کی ایک نئی تڑپ پیدا کی۔موصوف 
 نے اپنے دل کی کیفیت کو نعتیہ اشعار میں ڈھال کر عشقِ رسول ﷺ کا ایسا سماں باندھا کہ ہر سمت عقیدت کی روشنی پھیل گئی۔ اپنے صوفیانہ کلام سے سامعین مسرور کیا۔ مائل پالدھوی نے اپنے منفرد اسلوب میں محبت و وارفتگی کے رنگ بکھیرے، اردو گجراتی زبان کے مشترکہ گیت کے انداز میں نعت مبارکہ "ننگے پاؤں گۓ جبریل آدھی رات کے بعد" پیش کرکے معراج النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے منظر کو نہایت روحانیت کے ساتھ پیش کیا ۔ 
اشفاق نظامی نے روایت اور جدت کا حسین امتزاج پیش کرتے ہوئے سامعین کو ایک نئی فکری جہت عطا کی، موصوف نے اپنی پاٹدار آواز میں "مدینے کی گلی کوچوں کو پاکے ہاتھ کیا آیا' 
" بہت خوش ہے غلام مصطفیٰ کہ ہاتھ کیا آیا' 
مریض عشقِ أحمد تھا مسیحا کیا نبض پاتا،
دوائیں لاکھ کیں لیکن دوا کے ہاتھ کیا آیا'۔ اور انیس کیفی نے اپنی قادرالکلامی سے بارگاہِ رسالت ﷺ میں عقیدت کے نذرانے پیش کرتے ہوئے فرمایا ۔
آپ شاہ دوسرا ہوئے 
آپ تاج انبیاء ہوئے جب سے پڑھ لی سیرتِ نبی 
رنج و غم کہ سب ہوا ہوۓ۔
اخلاق نظامی نے مترنم آواز نے محفل میں سوز و گداز کی کیفیت پیدا کی، 
"شاعری قربان ساری آیت شہکار پر
معجزہ نازل ہوا ایسا شہ ابرار پر 
زندگی کا کوئی گوشہ حفی نہیں 
رشک کرتا ہے زمانہ آپ ﷺ کے کردار پر" جبکہ مرزا ندیم بیگ کے دلنشیں اشعار سامعین کے قلوب میں اترتے چلے گئے
" جب ہوا عطر میں نہاتی ہے,
ان کے روضہ پر تب ہی جاتی ہے،
ان کے صدقے میں بن گئ ہے دنیا 
ورنہ رب کو کہا یہ بھاتی ہے۔'
اسی کے ساتھ موصوف نے جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان مبارکہ میں کب یہ پڑھا۔۔
" بزم کو مہکا رہا ہوں پڑھ کر آقا پر درود ،
اور ملتی جارہی ہے روح کو ضیاء "
تو مجموعہ سر دھوننے لگ گیا ۔
حافظ مشتاق ساحل نے سنجیدہ اور باوقار انداز میں کلام پیش کر محفل کی روحانیت کو مزید جِلا بخشی،
میری امید کہتی ہے بہرصورت بلاۓ گی ،
مجھے شہر مدینہ آپ کی چاہت بلاۓ گی ،
ابھی دنیا اسے کچھ بھی کہے لیکن سر محشر،
غلام مصطفیٰ کو دیکھنا جنت بلاۓ گی. انہی کے ساتھ صابر آفاق‌ نے صحابہ کرام تا آج تک کے عاشقان رسول ﷺ کے حوالات کے ساتھ اپنا کلام سنایا ۔
پہنچ گیا ہوں میں مدینہ مگر یقین کہاں،
مرا وجود کہاں اور وہ زمین کہاں ،
بقول حضرت ابوبکر یہ عقیدہ ہے،
میرے نبی سا جہاں میں کوئی حسین کہاں ہے۔اسی کے ساتھ ہی شعیب سر نے اپنا نعتیہ انتخاب نہایت دل نشیں انداز میں پیش کرکے مجموعہ میں کیف و سرور بھر دیا۔
نظامت کے فرائض آفاق منظر نے نہایت وقار، عقیدت اور سلیقہ مندی کے ساتھ انجام دیے، جس سے محفل کی ترتیب اور تقدس برقرار رہا۔ آخر میں نشست کے کنوینئر و کوآرڈینیٹر عقیل خان بیاولی نے رسمِ شکریہ ادا کرتے ہوئے تمام شرکاء اور مہمانانِ گرامی کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کیا۔
یہ محفل درحقیقت عشقِ رسول ﷺ کے اظہار، صوفیانہ فکر کے فروغ، اور روحانی بیداری کا ایک حسین سنگم تھی، جس نے ہر دل کو درود و سلام کی خوشبو سے مہکا دیا۔ اختتام پر عشائیہ کا اہتمام کیا گیا، مگر محفل کی اصل مٹھاس وہ روحانی سرور تھا جو دیر تک دلوں میں قائم رہے گی۔اس موقع پر مشتاق بہشتی، فرحان انصاری، بطور مہمان خصوصی موجود تھے پترکار شاہ اعجاز گلاب، عاصم خان ، احتشام شاہ و صوفی حضرت جوہری فاؤنڈیشن کے ہم نواؤں نے کامیابی کے لیے محنت کی ۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ