ملت کی آواز، اتحاد کی پہچان - سید فاروق احمد قادری۔
ملت کی آواز، اتحاد کی پہچان -
سید فاروق احمد قادری۔
2024 میں اس اخبار کا اجرا ہوا جس کو دو سال کا کامیاب سفر کہتے ہیں
ملت پیپر آج اپنے دو سال مکمل کر چکا ہے، اور یہ صرف ایک مدت کا اختتام نہیں بلکہ ایک نظریے کی جیت ہے۔ ایسے وقت میں جب میڈیا کا ایک بڑا حصہ سنسنی اور تقسیم کی سیاست میں الجھا ہوا ہے، ملت پیپر نے سچائی، اعتدال اور اتحاد کا راستہ اختیار کیا۔ یہ اخبار صرف خبریں شائع نہیں کرتا بلکہ ایک واضح پیغام دیتا ہے — کہ صحافت کا اصل مقصد عوام کو جوڑنا ہے، نہ کہ بانٹنا۔
ملت پیپر نے اپنے دو سالہ سفر میں یہ ثابت کیا ہے کہ اگر نیت صاف ہو اور مقصد خدمت ہو، تو کم وقت میں بھی عوام کے دلوں میں جگہ بنائی جا سکتی ہے۔ یہ اخبار اب ایک آواز بن چکا ہے — ایسی آواز جو نہ دبتی ہے اور نہ جھکتی ہے، بلکہ سچ کے ساتھ کھڑی رہتی ہے۔
پس منظر — ایک تعلیمی مشن کی بنیاد
اس کامیاب سفر کے پیچھے ایک مضبوط بنیاد بھی ہے۔ مرحوم اختر سلیم نے بطور استاد جس تعلیمی مشن کی شروعات کی، وہی آگے چل کر ایک وسیع تحریک کی شکل اختیار کر گیا۔
“اس خواب کو حقیقت میں ان کے فرزند عمیر سلیم نے پورا کیا”
انہوں نے اپنے والد کے اس خواب کو عملی شکل دی اور اس مشن کو مزید مضبوط کیا۔ اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے، عمیر سلیم نے ملت پیپر کو ایک مؤثر پلیٹ فارم بنایا اور اسے ترقی کی راہ پر گامزن رکھا۔
تعلیمی خدمت — ملت اسکول
اسی مشن کا تسلسل ملت اسکول کی صورت میں بھی نظر آتا ہے، جہاں اردو، پرائمری، ہائی اسکول، سیمی انگلش اور انگلش میڈیم کے ذریعے معیاری تعلیم دی جا رہی ہے۔ یہ ادارہ نہ صرف تعلیم دے رہا ہے بلکہ ایک باشعور اور ذمہ دار نسل تیار کر رہا ہے۔
— ایک پیغام
“ملت پیپر کا یہ سفر صرف دو سال کا نہیں، بلکہ ایک سوچ، ایک ان اننظریہ اور ایک اتحاد کی داستان ہے — جو آنے والے وقت میں مزید مضبوط ہوگی۔”
Comments
Post a Comment