غزل - میرؔبیدری، بیدر،کرناٹک۔


غزل - 
میرؔبیدری، بیدر،کرناٹک۔

کتنی شہری لڑکیاں بے پردہ ملیں 
اتنی پیاری بیٹیاں بے پردہ ملیں 

کیسی کیسی چھوریاں بے پردہ ملیں 
علم پڑھنے والیاں بے پردہ ملیں 

اِس کا ہے افسوس ہم سادہ دِل رہے 
دوست تیری دوریاں بے پردہ ملیں 

زلف رکھتے تھے لپیٹے، پھر یو ں ہوا
سیدھی سادھی انگلیاں بے پردہ ملیں 

اُن اِشاروں اورکنایوں سے آگے پھر 
آج ڈھیروں گالیاں بے پردہ ملیں 

دھیرے دھیرے کہنا پڑتا ہے اب کہ میرؔ
شہر کی مجبوریاں بے پردہ ملیں

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔