شکر ہے تیرا خدایا میں تو اس قابل نہ تھا - بقلم : محمد ناظم ملی تونڈا پوری، جامعہ اکلکواں۔


شکر ہے تیرا خدایا میں تو اس قابل نہ تھا - 
بقلم : محمد ناظم ملی تونڈا پوری، 
جامعہ اکلکواں۔

طالبان علوم سے چندباتیں عزیز طلبہ ! طویل تعطیلات گزار کر اپنوں کے درمیان رہ کر ماں باپ اور بھائی بہنوں اور اعزاء و اقربا ء کا پیار لے کر اور ان کی مقبول و مستجاب دعوات صالحات لے کر پھر رب قدیرو اکبرنے ہم خاک ساروں کو اورایک مرتبہ شناوران علوم اسلامیہ میں شامل فرما کر اپنے خالی دامنوں کو علوم قرانیہ کے لوء لوءو مرجان اور موتیوں سے لبریز کرنے کے لیےپھر ایک بار جامعہ کے اس علمی بقعہ نور میں لا کھڑا کیا ہے
فالحمدللہ علی ذلک
رب کریم کی عنایتوں اور اس کی نوازشوں اور مہربانیوں کا کہاں؟ کب؟ اور کیسے؟شکریہ ادا کیا جا سکتا ہے یقینا زبان اس کی ادا ئگی سے قاصر ہے دل عاجز ہے نگاہ جھک گئی ہے اور جسم کا انگ انگ محو شکر الہی ہے کہ اج پھر سے اس نے اپنے رفقا ءاور اپنے محسنوں مربیوں اور مشفق اساتذہ کرام کے درمیان میں علوم و فنون سے اپنے سینوں اور نہا خانہ دل کو معمور کرنے کے لیے جمع کر دیا ایک بار پھر میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں اور یقینا اپ نے بھی کر لیا ہوگا اور اگر نہ کیا ہو تو ضرور اس کا اہتمام کر لیں کیونکہ شکر کرنے والی زبان اور صبر کرنے والا دل خدا کو بہت محبوب ہے بلکہ بارگاہ ایزدی سے انعام لینے کا ایک واحد راستہ زبان شکر ہے ہاں اس تصور کے ساتھ کہ 

 شکر ہے تیرا خدایا میں تو اس قابل نہ تھا 
اللہ کا شکر ہے ورنہ تو نہ جانے جہالت وہ تاریکی کے کس کوڑہ دان پر ہم کھڑے ہوئے ہوتے جہالت و لاعلمی کی کن گلیاروں میں ہم اندھوں کی طرح ٹھوکریں کھا رہے ہوتے اللہ کی کرم فرمائی سے یہ دن نصیب ہوئے اور اس تصور کے ساتھ بھی کہ خداوند عالم کا یہ غیبی نظام میرے حق میں خیر و بھلائی کا ضامن ہے کہ محبوب کبریا حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد عالی ہے
 من يريد الله به خيرا يفقهه في الدين 
لمحہ فکریہ 
جب خالق کون و مکان نے میرے حق میں خیر و بھلائی کا فیصلہ کر کے جادہ علوم و معرفت پر ڈال دیا شعور و اگہی کی شمع روشن کرنے نور ہدایت اور نور علم و معرفت سے میرے سینہ سیاہ کو روشن کرنے کے لیے بہترین مواقع مقدر فرما دیے تو اب میں بھی بھلے مانسوں کی طرح خیر فلاح و صلاح اور علوم قران و حدیث اور علوم معرفت الہیہ کے حصول میں کیوں نہ منہمک ہو کر اور سب طرف سے ہٹ کر سارے مشاغل وعلائق سے کٹ کر جادہ علم معرفت سے منسلک نہ ہو جاؤں؟کہ مشغولیت انہماک اور مصروفیت بعینہ ٹھیک اسی طرح تن من دھن سب کچھ اس پر ارپن کرنا قربان کرنا ہی اس راستے کی شرط اول ہے 
عربی کا یہ مشہور مقولہ اس سے قبل بھی اپ کے گوش گزار ہو چکا ہوگا اور ایک بار اعادہ کر لیجئے 
العلم لا تعطيك شيئا حتى تعطيه كله
 اور اس تصور کے ساتھ بھی بقول شاعر
مجھ کو نہ اپنا ہوش ہے نہ دنیا کا ہوش ہے 
بیٹھا ہوں مست ہو کے تیرے حصول میں 
تاروں سے پوچھ لو میری روداد زندگی 
راتوں کو جاگتا ہوں تیرے حصول میں 
من طلب العلا سهر الليالي
طلبہ عزیز 
علم ہے ہی ایسی قیمتی چیز کہ جب تک لوازمات حیات پر اس کو فوقیت نہیں دی جائے گی اپنا ارام اپنی راحت لذت کام و دہن لذت قلب و جگر کو اس کے لیے قربان نہیں کیا جائے گا تب تک علم اپنی اب و تاب کے ساتھ نہیں اتا اور جب اس کے تقاضوں کو پورا کر کہ حصول کیا جاتا ہے تو پھر بےمائیگی ناداری اور قلاشی کے باوجود وہ اپنے حامل کو سلطان بنا دیتا ہے 
بقول شاعر 
علم انسان کو انسان بنا دیتا ہے 
علم بے مایا کو سلطان بنا دیتا ہے 
محققین امت لکھتے ہیں"کہ علم میں صفت سلطانیت ہے اور اس کے اپنے حقیقی عامل کو وہ سلطان بنا دیتا ہے تاریخ ایسے سنہرے واقعات سے لبریز ہیں اصحاب صفہ ائمہ اربعہ شیخین صاحبین امام بخاری امام مسلم ابو داؤد ترمذی ابن ماجہ اسحاق بن راہویہ عبداللہ بن مبارک اور ہر زمانے اور عہد میں ایسی ایسی مبارک ہستیاں مل جائیں گی جن کی زندگیاں انتہائی کسم پرسی لاچاری قلاشی اور محتاجگی کا شکار تھیں بعض تو فاقہ مست تنگدست اور قلاش تھے بعضے نان شبینہ کے محتاج تھے لیکن حصول علم کے بعد دنیا نے دیکھا سلطانوں کی سلطانیت ان بزرگوں کے قدموں کی دھول بنی اور یہی علم عرفان کے شناوران شاہوں حکمرانوں اور تاجداروں کے قلب و ذہن پر حکومت کرتے رہیں حضرت امام ابو یوسف جو قاضی ابو یوسف کے نام سے جانے جاتے ہیں اپ ان کی سوانح پڑھیے محسوس ہوگا کہ کتنی بے کس اور لاچاری کے ساتھ زندگی گزار رہے تھے لیکن قدرت کو منظور تھا امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی مجلس میں پہنچے علوم اسلامیہ سے اپنے سینے کو معمور کیا اور بہت جلد اسلامی سلطنت میں قاضی القضاۃ کے عہدے پر سرفراز کیے گئے۔ جاری

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ