اہلِ ہند - ازقلم : صوفی حکیم حضرت عثمان جوہری جلگاؤں ۔


اہلِ ہند - 
ازقلم : صوفی حکیم حضرت عثمان جوہری جلگاؤں ۔

خوف کے سائے میں مستقبل کا چھینا کیوں نظام
تیل پانی اور کھانے کا یہ کیسا اہتمام
بزدلی سے یہ حکومت اور چل سکتی نہیں
گر گیا ہے ساری دنیا میں تجارت کا مقام

فلسفے پر ہند کا معیار کیوں کمزور ہے
کیا سبب ہے آج کی سرکار کیوں کمزور ہے
کوٹ نیتی کا جو فن تھا آج کیوں جاتا رہا
مذہبی جھگڑوں کی یہ دیوار کیوں کمزور ہے

حجتوں کے سنگ آئینِ روداری گیا
سنودھانی پیچ و خم میں نظم سرکاری گیا
ڈھول تاشے بج رہے ہیں علم و فن کے درمیاں
ناچ گانا چل رہا ہے شوق درباری گیا

کیا سیاست ہو رہی ہے آج ایوانوں کے بیچ
کون سی مخلوق آ پہنچی ہے انسانو کے بیچ
ذہن و دل ملبوس فطرت ہوگئے ہیں اس قدر
عقل کی املاک  کیوں الجھی ہے شیطانوں کے بیچ

گفتگو گمنام ہے شاید صحافت کے لیے
گنگ ہوتی ہیں زبانیں اب فصاحت کے لیے
ہوگئی مفلوج آخر کیوں یہاں اردو زباں
آب کوئی آزاد پھر اٹھے قیادت کے لیے

بے رخی مذہب کے آئینے میں پوشیدہ ہوئی
جو حقیقت تھی محبت کی وہ نمدیدہ ہوئی
نسلِ نو کی آرزوؤں کی خدایا خیر ہو
کیفیت ہر شخص کی غفلت میں رنجیدہ ہوئی

سنگلاخِ زخم بوید در نظر ہے یہ زمیں
من بہ گفتہ آتشِ فطرت ہوا ہے ہر نگیں
آب تو عثماں زندگی افسردگی کا نام ہے
کتنے سرگرداں نظر آتے ہیں بھارت کے مکیں۔

 صوفی شاعر حکیم عثمان جوہری
جلگاؤں ۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ