ہرمز کے کھارے پانی میں چین و امریکہ کی پھیلتی کڑواہٹ۔(واشنگٹن کی نئی تجارتی جنگ اور بیجنگ کا ردعمل)۔ بقلم: اسماء جبین فلک۔


ہرمز کے کھارے پانی میں چین و امریکہ کی پھیلتی کڑواہٹ۔
(واشنگٹن کی نئی تجارتی جنگ اور بیجنگ کا ردعمل)
بقلم: اسماء جبین فلک۔

حالیہ مشرق وسطیٰ کی نازک جنگ بندی کے فوراً بعد آبنائے ہرمز پر امریکی بحری محاصرہ بنیادی طور پر تہران کی معاشی شریانوں کو کاٹنے کی کوشش ہے، مگر اس میں بیجنگ کے تجارتی مفادات بھی شدید خطرے میں ہیں، جو کھارے پانیوں میں عالمی بالادستی کی ایک نئی اور تلخ صف بندی کو جنم دے رہا ہے۔
خلیج فارس کی تنگ اور شور انگیز لہریں، جو محض 21 ناٹیکل میل چوڑی ہیں، دنیا کی 20 فیصد خام تیل اور مائع قدرتی گیس کی لائف لائن ہیں، اب امریکی بحریہ کے جنگی جہازوں جن میں یو ایس ایس ٹرپولی اور دیگر 15 بحری جہاز شامل ہیں کی موجودگی سے ایک خطرناک تناؤ کا شکار ہیں۔ سات اپریل کو اسلام آباد میں پاکستانی ثالثی سے امریکہ اور ایران کے درمیان طے ہونے والی دو ہفتہ کی عارضی جنگ بندی کی سیاہی خشک ہونے سے پہلے ہی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 12 اپریل کو ایرانی بندرگاہوں اور آبنائے ہرمز کی مکمل ناکہ بندی کا اعلان کر دیا۔ یہ اقدام بظاہر تہران کے جوہری پروگرام اور علاقائی جارحیت کو روکنے کا ہے، مگر حقیقت میں یہ سعودی عرب، کویت، عراق اور متحدہ عرب امارات جیسے خلیجی ممالک کی برآمدات کو بھی براہ راست نشانہ بنا رہا ہے۔ فروری 2025 کی قلیل مدتی رکاوٹ نے تیل کی عالمی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کر دیا تھا، اور اب یہ ناکہ بندی، جو سینٹکام کی رپورٹ کے مطابق ایرانی بحریہ کے 158 جہازوں کی تباہی کے بعد نافذ ہوئی ہے، ایشیا سے یورپ تک رسد کی زنجیر کو مفلوج کر سکتی ہے۔ چینی دفتر خارجہ کے ترجمان گو جیاکون نے اسے انتہائی خطرناک اور غیر ذمہ دارانہ قرار دیا، جبکہ ایرانی کمانڈر اسماعیل قانی نے واضح الفاظ میں کہا کہ کوئی بھی امریکی جہاز قریب آیا تو اسے ختم کر دیا جائے گا۔ یہ تضاد ہے کہ امن کی بحالی کے نام پر معاشی جنگ چھڑ رہی ہے، جہاں عالمی بینک اور آئی ایم ایف کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ایسی رکاوٹ عالمی مجموعی قومی پیداوار کو نمایاں نقصان پہنچا سکتی ہے۔ بحری جہازوں کے ہارن اب محض سمندری سفر کا اعلان نہیں، بلکہ ایک تیزی سے پھیلتی ہوئی معاشی کڑواہٹ کی گھنٹیاں ہیں، جو کھارے پانیوں میں عالمی معیشت کی شہ رگ کو کاٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
اس امریکی اقدام کی جڑیں مشرق وسطیٰ کی طویل جغرافیائی سیاسی تاریخ میں گہری ہیں، جہاں 1980 کی دہائی کے ٹینکر وار سے لے کر 1979 کے ایرانی انقلاب تک امریکہ نے خلیج فارس کو اپنی بحری بالادستی کا مرکز بنایا۔ حالیہ اسلام آباد مذاکرات کی ناکامی نے اس روایتی حفاظتی چھتری کو ایک جارحانہ معاشی ہتھیار میں بدل دیا، جس کا بنیادی ہدف تہران ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا واضح مقصد ایران کی تیل برآمدات کو نمایاں طور پر کم کرنا ہے، جو ملک کی معاشی کمر توڑ دے گا، جہاں ایرانی ٹینکرز جیسے رچ سٹیری نے امریکی پابندیوں کے باوجود ناکہ بندی توڑ کر گزر کیا جو ایک ایسا جہاز ہے جو چینی ملکیت میں ہے۔ سعودی عرب نے بحیرہ احمر کا متبادل راستہ اختیار کیا مگر اس سے برآمدات میں تقابلی کمی آئی اور جہاز رانی کی لاگت بڑھ گئی۔ بیجنگ کا ردعمل ثانوی مگر شدید ہے، جو ایران سے اپنی صنعتی مشینری کے لیے نمایاں مقدار میں سستی توانائی حاصل کرتا ہے، اور اس نے سفارتی طور پر روس سے رابطے تیز کر دیے ہیں۔ یہ یک طرفہ پالیسی نہ صرف خلیجی ریاستوں کی معاشی کمزوری کو اجاگر کر رہی ہے بلکہ عالمی بحری تجارت کے نازک توازن کو بھی ہلا رہی ہے، جہاں ہرمز کی تنگی اور متبادل راستوں کی کمی کسی بھی رکاوٹ کو فوری عالمی بحران میں بدل دیتی ہے۔
اس تلخ محاذ آرائی کے پس پردہ تین بنیادی ساختی عوامل کارفرما ہیں، جو ایران کی مرکزی حیثیت کو اجاگر کرتے ہوئے چین امریکہ کی کڑواہٹ کو سمجھاتے ہیں۔ پہلا اور سب سے اہم، تہران کا جوہری پروگرام اور قدس فورس کی علاقائی سرگرمیاں ہیں، جو امریکی ناکہ بندی کا براہ راست جواز بنتے ہیں آئی اے ای اے کی تازہ رپورٹس کے مطابق ایران کی یورینیم افزودگی جوہری ہتھیار کی دہلیز کے قریب پہنچ چکی ہے۔ دوسرا، ایران کی معاشی کمزوری ہے، جہاں تیل کی برآمدات ملک کی مجموعی قومی پیداوار کا بڑا حصہ ہیں، اور ناکہ بندی انہیں نمایاں طور پر متاثر کر دے گی، جیسا کہ 2018 کی پابندیوں نے ثابت کیا جب ایرانی کرنسی میں شدید کمی آئی۔ تیسرا، چین کا ثانوی مگر بے پناہ انحصار ہے، جو ٹرمپ کی 50 فیصد درآمدی ڈیوٹی کی دھمکیوں سے براہ راست متاثر ہو رہا ہے بیجنگ کی کل تیل کی ضروریات کا نمایاں حصہ ایران سے آتا ہے، جو اس کی فیکٹریوں کی دھڑکن ہے۔ عالمی بینک کی رپورٹس بتاتی ہیں کہ ایسی ناکہ بندی سے ایشیا کی معیشتوں پر سب سے زیادہ دباؤ پڑے گا، جہاں پاکستان میں پیٹرول کی قیمتیں نمایاں اضافے کا شکار ہو سکتی ہیں اور بھارت کی افراط زر متاثر ہوگی۔ یہ عوامل مل کر جنگ بندی کو ایک عارضی سراب بنا رہے ہیں، کیونکہ ایران نے بحیرہ عمان کے متبادل راستوں کا اعلان کر دیا ہے اور چینی بحریہ اپنی آمدورفت کو یقینی بنانے کے لیے تیار ہے۔
اس صورتحال کا تقابلی جائزہ اگر دیگر عالمی آبی گزرگاہوں سے کیا جائے تو ہرمز کی سنگینی اور بھی واضح ہو جاتی ہے۔ باب المندب کی حالیہ رکاوٹ نے یمن کی جھڑپوں سے عالمی جہاز رانی کی لاگتوں میں نمایاں اضافہ کیا، جہاں دنیا کی ایک چوتھائی کنٹینرز متاثر ہوئے، مگر ہرمز کا حجم اس سے کئی گنا بڑا ہے اور اس کی تنگی متبادل راستوں کی شدید کمی پیدا کرتی ہے۔ آبنائے ملاکا میں بیجنگ کا دیرینہ خوف مغربی بحری رکاوٹ کا ہے، جہاں چین کی 80 فیصد تیل درآمدات گزرتی ہیں، اور اس نے اسی لیے بحریہ کی توسیع کی ہے حال ہی میں بیجنگ نے ملاکا کے لیے مشترکہ محفوظ راستوں کا معاہدہ کیا۔ بحیرہ جنوبی چین کے تنازعات میں امریکہ کی جہاز رانی کی آزادی کی مہم نے بیجنگ کو دفاعی پوزیشن میں لا کھڑا کیا، جیسے ہرمز میں اب ہو رہا ہے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات افریقی ساحلوں سے طویل راستے اپنا رہے ہیں، جو سالانہ اربوں ڈالر کا نقصان ڈال رہے ہیں اور انشورنس کی قسطیں نمایاں طور پر مہنگے کر رہے ہیں۔ آئی ایم ایف کی تازہ پیش گوئیوں کے مطابق، ہرمز اور باب المندب دونوں کی رکاوٹ عالمی تجارت کو نمایاں طور پر متاثر کر سکتی ہے۔ یہ موازنہ ثابت کرتا ہے کہ امریکی پالیسی نہ صرف ایران بلکہ عالمی رسد کی زنجیر کو دھمکی دے رہی ہے، اور کھارے پانیوں میں پھیلتی کڑواہٹ اب ایک کثیرالقطبی بحری جنگ کی طرف جا رہی ہے۔
واشنگٹن کے پالیسی سازوں کا جواز بظاہر مضبوط ہے کہ یہ ناکہ بندی ایران کو جوہری عزائم اور علاقائی توسیع سے روکے گی، اور جنگ بندی کو مستقل امن میں بدل دے گی صدر ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ ایرانی بحریہ مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے۔ یہ دلیل امریکی مفادات کے حق میں پرکشش ہے، مگر تنقیدی نظر سے بالکل بے بنیاد ثابت ہوتی ہے۔ ایل ایس ای جی کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ چینی جہاز ناکہ بندی توڑ رہے ہیں، جیسے رچ سٹیری نے کیا، اور ایرانی تیز رفتار کشتیاں اور ڈرونز فعال ہیں، جو امریکی محاصرے کو چیلنج کر رہے ہیں۔ ٹرمپ کا ایرانی بحریہ کی تباہی کا دعویٰ حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتا، جہاں تہران کی جدید آبدوزیں اور میزائل نظام بحیرہ عمان میں موجود ہیں۔ یہ امریکی غلط فہمی بیجنگ کے طویل مدتی صبر اور معاشی لچک کو کم سمجھتی ہے، جو 2018 کی تجارتی جنگ میں ثابت ہو چکی چین نے متبادل منڈیاں تلاش کر لیں۔ مزید برآں، یہ ردعمل روس کے ساتھ بیجنگ کی بڑھتی قربت کو نظر انداز کرتا ہے، جہاں حالیہ سفارتی ملاقاتیں یوریشین توانائی بلاک کی تشکیل کی نشاندہی کرتی ہیں۔ واشنگٹن کا حساب کہ معاشی دباؤ سے دونوں پیچھے ہٹ جائیں گے، کھوکھلا ہے، کیونکہ ایران نے چین کے ساتھ 25 سالہ معاہدہ کیا ہے جو اسے زندہ رکھے گا۔
اس کھارے پانی میں پھیلتی کڑواہٹ کے قلیل مدتی اثرات تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ، جہاز رانی کی شدید تاخیر اور انشورنس کی لاگتوں میں اضافہ کی صورت میں سامنے آ چکے ہیں، جہاں عالمی ماہرین کے مطابق بحالی میں چھ ماہ لگیں گے۔ جاپان اور جنوبی کوریا جیسی معیشتیں، جو خلیج سے 90 فیصد تیل لیتی ہیں، سب سے زیادہ متاثر ہوں گی، جبکہ یورپ میں گیس کی قیمتیں دگنی ہو سکتی ہیں۔ طویل مدتی تناظر میں یہ بحران ڈالر کی تیل تجارت پر امریکی اجارہ داری کو ختم کر دے گا، اور نئے راہداریوں جیسے انڈین پرائمریل اور بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کو مضبوط کرے گا۔ خلیجی معیشتیں، جو تیل پر منحصر ہیں، سیاسی تذبذب کا شکار ہوں گی، جہاں سعودی ویژن 2030 خطرے میں پڑ جائے گا۔ ترقی پذیر دنیا، خصوصاً پاکستان، بھارت اور انڈونیشیا، گندھک، تیل اور کھاد کی قیمتیں بڑھنے سے زرعی، صنعتی اور غذائی بحرانوں کا شکار ہوں گی عالمی بینک کے مطابق ایشیا کی مجموعی قومی پیداوار کی شرح نمو نمایاں طور پر کم ہو سکتی ہے۔ اقوام متحدہ جیسے ادارے سفارتی اعتبار سے کمزور ہوں گے، جبکہ نئی یوریشین صف بندی مضبوط ہوگی۔
عالمی تزویراتی سیاست اس نازک موڑ پر کھڑی ہے جہاں واشنگٹن کو بحری جارحیت کی بجائے اقوام متحدہ کے تحت کثیرالقطبی بحری معاہدوں اور مشترکہ محفوظ راستوں پر زور دینا چاہیے۔ اگر یہ امریکی پالیسی جاری رہی تو عارضی جنگ بندی ختم ہو جائے گی، اور ہرمز کے کھارے پانی اکیسویں صدی کی سب سے بڑی معاشی اور بحری جنگ کا محاذ بن جائیں گے۔ یہ تلخ کڑواہٹ صرف طاقت کے زور پر نہیں بلکہ سفارتی دانشمندی اور پائیدار شراکت داری پر قابو پانے والی طاقت ہی کم کر سکتی ہے، ورنہ عالمی معیشت کا خون کھارے پانیوں میں ہی ڈوب جائے گا۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ