لباس دیکھ کر فیصلہ کرنا کہاں تک درست؟ - ازقلم : عالمہ مبین پالیگار، بیلگام کرناٹک۔
لباس دیکھ کر فیصلہ کرنا کہاں تک درست؟ -
ازقلم : عالمہ مبین پالیگار، بیلگام کرناٹک۔
M A M Ed
8904317986
"ہر ٹوپی اور جبہ والا عالم نہیں ہوتا” یہ بات بظاہر سادہ لگتی ہے، لیکن اس کے اندر ایک بہت گہرا توازن (Balance) چھپا ہوا ہے جسے سمجھنا ضروری ہے۔ اگر اس جملے کو صحیح انداز میں نہ سمجھا جائے تو انسان یا تو ظاہربینی (صرف لباس کو معیار بنانا) کا شکار ہو جاتا ہے، یا پھر بدگمانی (ہر عالم پر شک کرنا) میں مبتلا ہو جاتا ہے—حالانکہ اسلام دونوں چیزوں سے روکتا ہے۔
سب سے پہلے اصولی بات یہ سمجھ لیں کہ اسلام میں ظاہری شکل و صورت کو مکمل طور پر رد نہیں کیا گیا، بلکہ اسے ایک حد تک اہمیت دی گئی ہے، مگر اصل معیار نہیں بنایا گیا۔ قرآن مجید واضح طور پر بتاتا ہے: “إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ” یعنی اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہو۔
اس آیت سے معلوم ہوا کہ اصل وزن تقویٰ کا ہے، جو دل اور عمل سے ظاہر ہوتا ہے، نہ کہ صرف لباس سے۔
اسی طرح نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “اللہ تمہاری صورتوں اور مالوں کو نہیں دیکھتا بلکہ تمہارے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے” یہ حدیث ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ اللہ کے ہاں اصل قدر انسان کے باطن، نیت اور کردار کی ہے۔
لیکن یہاں ایک اہم نکتہ سمجھنا ضروری ہے:
یہ تعلیم ہمیں یہ نہیں سکھاتی کہ ہم ظاہر کو بالکل نظر انداز کر دیں یا ہر اس شخص کو جھوٹا سمجھیں جو دینی لباس میں ہو۔ بلکہ اسلام ہمیں حسنِ ظن (اچھا گمان) اور احتیاط دونوں سکھاتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ لباس ایک “اشارہ” (indicator) ہو سکتا ہے، مگر “فیصلہ کن معیار” نہیں۔
یعنی اگر کوئی شخص دینی لباس میں ہے تو عام طور پر اس سے نیکی اور دینداری کی توقع کی جاتی ہے، لیکن اگر وہ اس معیار پر پورا نہ اترے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ دین میں خرابی ہے، بلکہ اس فرد کی کمزوری ہے۔
آج کے دور میں اس جملے کا ایک غلط استعمال یہ ہو رہا ہے کہ کچھ لوگ کہتے ہیں: “ہر ٹوپی والا مولانا نہیں ہوتا” اور پھر اس بہانے سے وہ علماء کی بات سننے سے ہی انکار کر دیتے ہیں، یا دین سے دوری اختیار کر لیتے ہیں۔
یہ رویہ خطرناک ہے، کیونکہ یہ انسان کو علمِ دین سے محروم کر دیتا ہے۔
نبی کریم ﷺ نے علماء کے بارے میں فرمایا: “علماء انبیاء کے وارث ہیں” اس کا مطلب یہ ہے کہ علماء دین کی اصل تعلیمات کے محافظ اور منتقل کرنے والے ہوتے ہیں۔ اس لیے ان کا احترام کرنا اور ان سے دین سیکھنا ضروری ہے۔
البتہ یہ بھی حقیقت ہے کہ عالم ہونے کے لیے صرف لباس کافی نہیں، بلکہ تین بنیادی چیزیں ضروری ہیں:
علمِ دین (صحیح اور مستند علم)
عمل (اس علم پر خود عمل کرنا)
تقویٰ (اللہ کا خوف اور اخلاص)
اگر ان میں کمی ہو تو وہ شخص مکمل عالم نہیں کہلا سکتا، چاہے اس کا لباس کیسا ہی کیوں نہ ہو۔
جہاں تک بریسلٹ یا دیگر زیورات کا تعلق ہے، اسلام نے مردوں اور عورتوں کے درمیان ایک فطری فرق رکھا ہے۔ مردوں کے لیے چاندی کی انگوٹھی کی اجازت ہے، لیکن ایسے زیورات جو عورتوں سے مشابہت رکھتے ہوں یا غیر اسلامی تہذیب کی علامت ہوں، ان سے بچنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
نبی ﷺ کا فرمان ہے: “جو کسی قوم کی مشابہت اختیار کرے، وہ انہی میں سے ہے” لہٰذا اگر کوئی شخص ایسا کرتا ہے تو یہ اس کی ذاتی غلطی ہے، نہ کہ دین کا حکم۔
اب اس پوری گفتگو کا خلاصہ سمجھ لیں:
اسلام ہمیں اعتدال سکھاتا ہے
نہ صرف لباس کو معیار بنائیں، نہ ہی اسے مکمل نظر انداز کریں
ہر ٹوپی اور جبہ والا عالم نہیں ہوتا، لیکن ہر عالم پر شک کرنا بھی درست نہیں
چند افراد کی غلطیوں کی وجہ سے پورے علماء کو بدنام کرنا ناانصافی ہے
اصل معیار ہمیشہ علم، عمل اور تقویٰ ہی ہے
دین کو افراد کے بجائے قرآن و سنت کے اصولوں سے پہچاننا چاہیے
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ ایک مومن کا رویہ متوازن ہونا چاہیے۔ وہ نہ اندھا اعتماد کرے اور نہ اندھا انکار، بلکہ تحقیق، حسنِ ظن اور اصولوں کی روشنی میں دین کو سمجھے۔ یہی راستہ انسان کو گمراہی سے بچاتا ہے اور صحیح دین تک پہنچاتا ہے۔
Comments
Post a Comment