مسلمان آے۔پی۔ایل۔ میں پریشان۔ مولانا احمد بیگ ناندیڑ۔


مسلمان آے۔پی۔ایل۔ میں پریشان۔  مولانا احمد بیگ ناندیڑ۔

اللہ تعالیٰ اپنی مقدس کتاب قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے اے رسول پاکیزہ اور حلال رزق کھاؤ اور نیک عمل کرو۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نماز پڑھو یہاں تک کہ تمہاری پیٹھ ٹیڑھی ہو جائےاور روزہ رکھو یہاں تک کہ بال کی طرح باریک ہو جاؤ اِس کا کوئی فائدہ نہیں جب تک کہ تم حرام کھانا پینا ترک نہ کر دو۔ دونوں جگہ یہ بیان کیا گیا ہے کہ حلال اور پاکیزہ رزق کھانے سے اعمال قبول ہوتے ہیں، انسان کے دل و دماغ پر، اس کے بچوں پر،اس کی بیوی پر اور اس کے اعمال پر اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔اس حدیث کی وضاحت کرتے ہوئے امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جس نے چالیس دن تک ایسا لقمہ کھایا جس کے حلال ہونے میں شک ہو اس کا دل کالا ہو جاتا ہے۔اور دل کو زنگ لگ جاتا ہے۔محمّد عربی (ص)  کی دنیا میں تشریف لانے سے پہلے لوگ بہت سارے گناہوں میں ملوث تھے، شراب پینا، جسم فروشی کرنا، کمزوروں کو ستانا، سود کا کاروبار کرنا،ناچ گانے کی محفلیں لگانا،زنا کرنا لڑکیوں کو زندہ دفن کرنا وغیرہ، یہ تمام برائیاں اس زمانے میں عام تھیں، جب رسول اللہ (ص) تشریف لائے اور نبی بنائے گئے تو آپ نے اِن برائیوں کے نقصانات مسلمانوں کو بتائے اور اِن کاموں کو حرام قرار دیا،مسلمانوں کو ان برائیوں کااحساس ہوا اور اللّٰہ کا حُکم اور نبی کی بات اُن کے سمجھ میں آئی فر ایک ایک کر کے تمام برائیاں مسلمانوں نے چھوڑ دیں، اسلام کی تعلیمات پر عمل کیا، تو وہ صحابہ بن گئے اور دنیا میں بہترین انسان کہلائے، جب تک مسلمان اسلام پر ثابت قدم رہے،انہوں نے دنیا میں عزت کی زندگی گزاری،ان کے پاس حکومتیں تھیں، خزانہ ان کے ہاتھ میں تھے، وہ دنیا کی طاقتور قوم مانی جاتی تھی، دنیا ان سے ڈرتی تھی اور اُن کو عزت کی نگاہ سے دیکھتی تھی۔پھر آہستہ آہستہ مسلمانوں میں بگاڑ آنے لگا،مسلمان اسلامی تعلیم سے دور ہوتے چلے گئے، خزانہ ان کے ہاتھوں سے نکل گئے، ظالم و جابر حکمران ہم پر غلبہ پانے لگے، جاہلوں نے حکومت کرنا شروع کر دی،جو قوم اس وقت حاکم تھی،آج مظلوم ہو گئے، کبھی ہم نے غور و فکر کیا کہ آخر ایسا کیوں ہوا ہے؟ ہم عزت کی بلندی سے ذلّت کے گڑھے میں کیسے گرے؟ اس کی وجہ کیا ہے؟ اس کی وجہ ہے ہم نے اللہ کی حرام کی ہوئی چیزوں کو اپنے لیے حلال کر لیا ہے۔ ہم نے حلال اور حرام کے فرق کو ختم کر دیا، دنیاوی دولت کے حصول کو اپنا مقصد زِندگی بنایا ہے۔ انسانیت ایک بار پھر اسی دل دل میں دھنس گئی جہاں سے 1400 سال قبل اسلام نے اُنہیں نکالا تھا۔ وہ تمام برائیاں جو 1400 سال پہلے کے لوگوں میں موجود تھیں وہ آج کے مسلمانوں میں واپس آگئی ہیں۔اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ ’’اے ایمان والو شراب اور جوا برے کام ہیں، یہ شیطان کا عمل ہے،ان سے دور رہو" (سورہ مائدہ)۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امت مسلمہ کا ایک بہت بڑا طبقہ ان تمام برائیوں کے جال میں پھنس گیا ہے جنہیں اسلام نے 1400 سال پہلے حرام قرار دیا تھا۔آج آئی پی ایل کے نام پر مسلمان کروڑوں کا جوا کھیل رہے ہیں۔ اس سے کئی مسلم خاندان برباد ہو چکے ہیں۔آئی پی ایل کی وجہ سے کئی نوجوانوں نے اپنی زندگیاں برباد کی ہیں۔کئی نوجوان اپنی جانیں گنوا چکے ہیں گھر، کاروبار، دکان، زندگی، سب کچھ تباہ ہو چکا ہے، پھر بھی ہمارے مُسلم نوجوان سیدھے راستے پر آنے کے لئے تیار نہیں ہیں،اُن کے دلوں میں اللہ کا ڈر خوف نہیں،اور نہ ہی ہمیں اندھیری قبر کا احساس ہے نہ ہی آخرت میں جواب دہی کی فِکر ہے۔اگر ہم حرام کا ایک لقمہ کھائے تو کئی دن تک اللہ کے دربار میں ہماری دعائیں قبول نہیں ہوتی۔ ذرا غور کیجئے جس کا کھانا، پینا، لباس سب کچھ حرام کے پیسوں پر ہے اُس کا قبر میں کیا حال ہوگا، آخرت میں اس کا کیا ہوگا۔ ہم اس بارے میں کیوں نہیں سوچتے؟ آخر اس امت کو کیا ہوگیا ہے؟ یہ امت تباہی کی طرف کیوں جا رہی ہے؟ وہ اپنے لیے جہنم کے شعلے کو کیوں بھڑکا رہے ہیں؟ اللہ کے غضب کو کیوں دعوت دے رہے ہیں؟ اے امت محمدیہ کے نوجوانوں حرام کھانے سے بچو۔ اپنی دنیا اور آخرت کو تباہی سے بچا لو۔اپنی نمازوں،اپنے کاروبار، اپنے بچوں، اپنے گھروں کو جہنم کی آگ سے بچائیں۔ توبہ کرو اور پلٹ کر واپس آ جاؤ۔ یاد رکھو مسلمانو جو بچے حرام کھا کر بڑے ہونگے حرام سے پرورش پائیں گے وہ نہ آپ کے کسی کام آئیں گے، نہ امت کے کام آئینگے اور نہ ہی اسلام کے کسی کام آئیں گے۔ حرام کے پیسوں سے بنائے گئے گھر کبھی آباد نہیں ہوسکتے،حرام کی کمائی سے بنائی ہوئی عمارت کبھی خوشی کا پیغام نہیں دے سکتی۔امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ سے ایک شخص نے پوچھا کہ دل نرم کیسے ہوتا ہے؟ امام احمد بن حنبل نے فرمایا: حرام سے بچو اور حلال کھاؤ، اس سے دل نرم ہوتا ہے۔ یہ ہے ہمارے بڑے بزرگوں کا درس، یہ ہے ہمارے بزرگوں کے اخلاق۔ مسلمانوں اپنی زندگی اللہ کے حکم اور نبی کی سنت کے مطابق بسر کرو۔ جوا، مٹکا، ستہ، شراب، سود، زنا جیسی تمام برائیوں سے اپنے آپ کو بچاؤ تاکہ اللہ دنیا اور آخرت میں ہم سے راضی ہوجائے۔ آمین

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ