حد بندی پر ہنگامہ: تمل ناڈو میں سیاسی ہلچل - ایک صدا، ایک احتجاج: ایک سیاسی زلزلہ۔


چنئی (محمد رضوان اللہ کے ذریعے) چنئی کی فضاؤں میں آج احتجاج کی ایک گونج سنائی دی جب وزیر اعلیٰ تمل ناڈو، جناب ایم۔ کے۔ اسٹالن نے حد بندی (Delimitation) کے مجوزہ عمل کے خلاف ایک بھرپور عوامی تحریک کا آغاز کیا۔

یہ محض ایک سیاسی قدم نہیں بلکہ ایک واضح پیغام ہے جو جنوبی ہند کی تشویش، بے چینی اور ممکنہ سیاسی محرومی کے خدشات کی عکاسی کرتا ہے۔

آنے والے انتخابی موسم کے پیش نظر، دراوڑ منیتر کزگم (ڈی ایم کے) نے ریاست بھر میں احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ پارٹی کارکنان کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ شہروں، قصبوں اور گاؤں کی سطح تک نکل کر عوامی بیداری پیدا کریں۔ اس سلسلے میں 16 اپریل سے تین دن تک گھروں اور دکانوں پر سیاہ جھنڈے لگا کر خاموش احتجاج درج کرایا جائے گا۔

وزیر اعلیٰ نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ یہ مسئلہ کسی ایک ریاست کا نہیں بلکہ پورے ملک کے جمہوری توازن سے جڑا ہوا ہے۔ ان کے مطابق مجوزہ حد بندی جنوبی ریاستوں کے ساتھ ناانصافی کا باعث بن سکتی ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ جمہوریت کے تحفظ کے لیے بھرپور مگر پُرامن انداز میں اپنی آواز بلند کریں۔

مرکزی حکومت کی جانب سے پیش کردہ تجاویز نے ملک بھر میں نئی بحث چھیڑ دی ہے، خصوصاً آبادی کی بنیاد پر نشستوں میں ممکنہ اضافے (543 سے 850 تک) اور نئی حد بندی کے عمل نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ آئینی تقاضوں کے مطابق اگلے مرحلے میں مزید نشستوں کے لیے فریم ورک تیار کیا جا سکتا ہے، جس پر سیاسی حلقوں میں شدید غور و فکر جاری ہے۔

اب اصل سوال یہ ہے:
کیا آبادی کی بنیاد پر نئی حد بندی ملک کے وفاقی توازن کو بدل دے گی؟

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ