ماؤں کے دشمن کبھی اولادوں کے خیر خواہ نہیں ہوتے - از قلم: تحسینہ ماوینکٹی۔


ماؤں کے دشمن کبھی اولادوں کے خیر خواہ نہیں ہوتے - 
از قلم: تحسینہ ماوینکٹی۔

انسانی تہذیب کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جہاں کہیں بھی خاندان مضبوط رہا، وہاں معاشرہ مستحکم، اخلاقی اقدار بلند اور انسانی رشتے متوازن رہے، اور جہاں خاندان کمزور ہوا وہاں انتشار، بے راہ روی اور اخلاقی زوال نے جنم لیا۔ اس پورے نظام میں اگر کسی ایک ہستی کو مرکزی حیثیت حاصل ہے تو وہ ماں ہے۔ ماں صرف ایک رشتہ نہیں بلکہ ایک مکمل ادارہ ہے جو محبت، قربانی، تربیت، شعور اور تہذیب کا سرچشمہ ہوتی ہے۔ اسی لیے یہ جملہ کہ “ماؤں کے دشمن کبھی اولادوں کے خیر خواہ نہیں ہوتے” محض ایک جذباتی نعرہ نہیں بلکہ ایک گہری سماجی، نفسیاتی، اخلاقی اور تاریخی حقیقت ہے جسے ہر دور میں سچ ثابت ہوتے دیکھا گیا ہے۔
بچے کی شخصیت کی تعمیر پیدائش کے بعد نہیں بلکہ اس سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، اور اس ابتدائی تشکیل میں ماں کا کردار سب سے زیادہ اثر انداز ہوتا ہے۔ ماں کی گود وہ پہلی درسگاہ ہے جہاں بچہ بولنا سیکھتا ہے، محبت کو محسوس کرتا ہے، اچھے اور برے کی تمیز حاصل کرتا ہے اور دنیا کو دیکھنے کا زاویہ اختیار کرتا ہے۔ اگر اس درسگاہ کو کمزور کیا جائے، اس کے وقار کو مجروح کیا جائے یا اس کی حیثیت کو نظر انداز کیا جائے تو اس کا براہِ راست اثر بچے کی شخصیت پر پڑتا ہے۔ ایک ایسی ماں جو خود ذہنی دباؤ، سماجی ناانصافی یا بے قدری کا شکار ہو، وہ اپنی اولاد کو وہ سکون، اعتماد اور مثبت تربیت فراہم نہیں کر سکتی جو ایک متوازن شخصیت کی بنیاد ہوتی ہے۔ اس طرح ماؤں کے خلاف ہونے والا ہر عمل درحقیقت آنے والی نسل کے خلاف ایک خاموش سازش بن جاتا ہے۔
مذہبی تعلیمات میں بھی ماں کے مقام کو غیر معمولی اہمیت دی گئی ہے۔ اسلام نے جس طرح ماں کے احترام، خدمت اور اطاعت کو فرض قرار دیا ہے، وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ماں کی عظمت کو تسلیم کیے بغیر کوئی معاشرہ فلاح کی راہ پر گامزن نہیں ہو سکتا۔ حدیثِ نبوی ﷺ “جنت ماں کے قدموں تلے ہے” محض ایک روحانی بشارت نہیں بلکہ ایک سماجی اصول بھی ہے جو اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اگر ماں کو عزت اور مقام دیا جائے تو اس کے اثرات نسلوں تک پہنچتے ہیں۔ اس کے برعکس اگر ماں کی توہین یا تضحیک کی جائے تو یہ صرف ایک فرد کی بے عزتی نہیں بلکہ ایک پورے اخلاقی نظام کی شکست ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جو عناصر ماں کے مقام کو گرانے کی کوشش کرتے ہیں، وہ دراصل ایک صالح معاشرے کی بنیادوں کو کمزور کر رہے ہوتے ہیں۔
سماجی سطح پر اگر ہم موجودہ دور کا جائزہ لیں تو ایک پیچیدہ صورتحال سامنے آتی ہے۔ جدیدیت، ترقی اور آزادی کے نام پر بہت سی ایسی اقدار کو فروغ دیا جا رہا ہے جو بظاہر دلکش معلوم ہوتی ہیں لیکن ان کے اثرات نہایت گہرے اور نقصان دہ ہوتے ہیں۔ ماں کے کردار کو محدود یا غیر ضروری قرار دینا، مادریت کو ایک بوجھ کے طور پر پیش کرنا، اور عورت کو صرف معاشی یا نمائشی حیثیت تک محدود کر دینا ایسے رجحانات ہیں جو خاموشی کے ساتھ معاشرے کی جڑوں کو کھوکھلا کر رہے ہیں۔ میڈیا، تعلیمی نظام اور بعض فکری تحریکیں بھی بعض اوقات نادانستہ طور پر ایسے تصورات کو فروغ دیتی ہیں جن سے ماں کی اصل حیثیت دھندلا جاتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ نئی نسل اپنی جڑوں سے کٹ جاتی ہے، خاندانی نظام کمزور پڑ جاتا ہے اور افراد کے درمیان جذباتی ربط ختم ہونے لگتا ہے۔
نفسیات کے میدان میں ہونے والی جدید تحقیقات بھی اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ بچے کی ذہنی اور جذباتی نشوونما میں ماں کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ ماں کی محبت بچے کو تحفظ کا احساس دیتی ہے، اس کی موجودگی بچے میں اعتماد پیدا کرتی ہے اور اس کی تربیت بچے کی شخصیت کو متوازن بناتی ہے۔ اس کے برعکس اگر ماں کو نظر انداز کیا جائے، اس کی اہمیت کو کم کیا جائے یا اسے خود عدم تحفظ کا شکار بنایا جائے تو بچہ بھی ذہنی انتشار، خوف، جارحیت اور بے چینی کا شکار ہو جاتا ہے۔ یہی بچے آگے چل کر معاشرے میں عدم استحکام کا سبب بنتے ہیں۔ اس طرح ایک ماں کی کمزوری پورے معاشرے کی کمزوری میں تبدیل ہو جاتی ہے، اور یہی وہ مقام ہے جہاں یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ ماؤں کے دشمن کبھی اولادوں کے خیر خواہ نہیں ہو سکتے۔
تاریخ کے مطالعے سے بھی یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ عظیم قوموں کی بنیاد عظیم ماؤں نے رکھی ہے۔ دنیا کے بڑے مفکرین، رہنما اور مصلحین اپنی ماؤں کی تربیت، دعاؤں اور قربانیوں کا نتیجہ تھے۔ ایک باشعور، باہمت اور باکردار ماں ہی ایک ایسے فرد کو پروان چڑھا سکتی ہے جو آگے چل کر معاشرے میں مثبت تبدیلی لا سکے۔ اگر ان ماؤں کو کمزور کر دیا جاتا، ان کی تربیت کو نظر انداز کیا جاتا یا انہیں سماجی دباؤ کا شکار بنا دیا جاتا تو شاید وہ شخصیات بھی وجود میں نہ آتیں جنہوں نے تاریخ کا رخ موڑا۔ اس لیے یہ کہنا بجا ہے کہ ماں کی عزت دراصل قوم کی عزت ہے اور ماں کی بے عزتی قوم کی زوال پذیری کی علامت ہے۔
موجودہ دور میں ماؤں کو جن چیلنجز کا سامنا ہے وہ نہایت سنگین ہیں۔ معاشی دباؤ نے انہیں دوہری ذمہ داریوں میں جکڑ دیا ہے، سماجی رویوں نے ان کے کردار کو کم اہم بنا دیا ہے اور میڈیا نے ان کی تصویر کو مسخ کر کے پیش کیا ہے۔ ایسے حالات میں اگر معاشرہ ماں کے ساتھ کھڑا نہ ہو، اس کی معاونت نہ کرے اور اس کے مقام کا تحفظ نہ کرے تو آنے والی نسلوں سے خیر کی توقع رکھنا محض ایک خوش فہمی ہوگی۔ ماؤں کے حقوق کو نظر انداز کرنا دراصل ایک ایسی خاموش تباہی کو دعوت دینا ہے جو آہستہ آہستہ پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔
حقیقت یہی ہے کہ ماں کا احترام، اس کی تعلیم، اس کی ذہنی اور جذباتی صحت کا خیال رکھنا کسی ایک فرد کا نہیں بلکہ پوری انسانیت کا مشترکہ فریضہ ہے۔ اگر ہم ایک بہتر، مہذب اور باکردار معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں سب سے پہلے ماں کے مقام کو تسلیم کرنا ہوگا اور اس کے خلاف ہونے والی ہر سازش، ہر ناانصافی اور ہر منفی رویے کے خلاف آواز بلند کرنی ہوگی۔ کیونکہ ماں کو کمزور کرنا دراصل مستقبل کو کمزور کرنا ہے، اور ماں کو مضبوط بنانا آنے والی نسلوں کو محفوظ بنانا ہے۔
 میں ہی کہونگی کہ ماؤں کے دشمن کبھی اولادوں کے خیر خواہ نہیں ہوتے، کیونکہ جو ہاتھ ماں کے وقار کو مجروح کرتے ہیں وہ دراصل نسلِ انسانی کے روشن مستقبل کو تاریکی میں دھکیل رہے ہوتے ہیں۔ اگر ہم واقعی اپنی اولادوں کے خیر خواہ بننا چاہتے ہیں تو ہمیں سب سے پہلے ماں کی عزت، اس کے حقوق اور اس کے مقام کا تحفظ یقینی بنانا ہوگا، کیونکہ ماں محفوظ ہے تو انسانیت محفوظ ہے، ماں مضبوط ہے تو قوم مضبوط ہے، اور ماں باوقار ہے تو مستقبل روشن ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔