ملت میں بیداری لانے علامہ اقبال کی فکر کو عام کرنے کی ضرورت - جلسہ یاد اقبال سے حافظ عبدالرحیم، سید عبدالرحیم، عزیز اللہ سرمست کا خطاب۔


ملت میں بیداری لانے علامہ اقبال کی فکر کو عام کرنے کی ضرورت - 
جلسہ یاد اقبال سے حافظ عبدالرحیم، سید عبدالرحیم، عزیز اللہ سرمست کا خطاب۔

 گلبرگہ 28 اپریل : علامہ اقبال کی شاعری ہر دور میں فکری انقلاب لانے کا وصف رکھتی ہے موجودہ سنگین حالات میں جبکہ مسلمان جمود و تعطل اور مایوسی کا شکار ہیں علامہ اقبال کی فکر کو عام کرنے کی ضرورت ہے۔اس خیال کا اظہار سنیئر صحافی عزیز اللہ سرمست صدر حضرت صوفی سرمستؒ اسلامک اسٹڈی سرکل گلبرگہ نے کیا ہے۔ وہ علامہ اقبال کے یوم وفات پر حضرت صوفی سرمست ؒاسلامک اسٹڈی سرکل گلبرگہ اور وحدت اسلامی گلبرگہ کے زیر اہتمام منعقدہ جلسہ یاد اقبال کو مخاطب کر رہے تھے۔ سید عبدالرحیم نقیب وحدت اسلامی کرناٹک و تلنگانہ نے جلسے کی صدارت کی۔مولانا محمد نوح ریاستی جنرل سیکریٹری انڈین یونین مسلم لیگ کرناٹک عبدالجبارگولہ ایڈوکیٹ صدر سٹی زنس لیگل اکیڈمی گلبرگہ ضلع نے مہمانان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی۔ عزیز اللہ سرمست نے ملک کے موجودہ حالات میں مسلمانوں کی زبوں حالی اور عالم اسلام میں جاری کشمکش کے حوالے سے علامہ اقبال کے اشعار پیش کرتے ہوئے کہا کہ علامہ اقبال نے مسلمانوں کی پستی اور زبوں حالی کے دو اسباب بیان کئے ایک مسلمانوں کی بحیثیت فرد اسلامی اخلاق و کردار سے محرومی دوسرے مسلمانوں کا بحیثیت ملت اسلامیہ اجتماعی نظام کو ترک کرنا۔ عزیز اللہ سرمست نے کہا کہ اقبال کے نزدیک مسلمانوں کا دنیا کے نفع و نقصان کو پیش نظر رکھنا نظریہ توحید کے منافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقبال کے نزدیک مسلمان کا کام صرف عبادات میں مشغول رہنا نہیں بلکہ عمل پیہم ہے۔ عزیز اللہ سرمست نے اقوام متحدہ کی منافقت اور امریکہ اسرائیل ایران جنگ کے حوالے سے علامہ اقبال کے اشعار پیش کرتے ہوئے کہا کہ اقبال نے لیگ آف نیشنز اور اقوام متحدہ کو فرنگیوں کے ہاتھوں کا کھلونا، کفن چوروں کی انجمن اور شیطان کی داشتہ قرار دیا تھا۔ علامہ اقبال نے مکہ کو جینوا کے مقابل اور تہران کو مشرقی دنیا کے مرکز کے طور پر پیش کیا۔اقبال کی یہ فکر آج سچ ثابت ہو رہی ہے کہ مشرق اگر عالمی کردار قائم کر لے تو وہ مغرب کو سرنگوں کر سکتا ہے۔ ماہر اقبالیات مولوی حافظ عبدالرحیم نے علامہ اقبال پر کلیدی لیکچر دیتے ہوئے جاوید نامہ کے حوالے سے کہا کہ اقبال کی شاعری میں مسلمانوں کے مابین اتحاد کو بنیادی اہمیت دی گئی ہے۔اقبال نے مسلمانوں کے عروج و زوال کی تاریخ کو بیان کرتے ہوئے مسلمانوں کو ایک پیغام دیا ہے کہ وہ اپنے دشمنوں کو پہچانیں اور ان کے آلہ کار نہ بنیں مسلمانوں کو آپس میں لڑا کر ان کے علاقوں پر قبضہ کرنا یہود و نصاری کی ہر دور میں سازش رہی ہے اور آج بھی فلسطین ایران کیخلاف یہی سازش کارفرما ہے۔مولوی حافظ عبدالرحیم نے مزید کہا کہ علامہ اقبال مسلمانوں کے عالمی تصور کے حامی تھے اور انہوں نے کبھی اپنا تعارف کسی علاقے سے نہیں کروایا۔اقبال نے وطنیت کی نفی کرتے ہوئے کہا کہ ہمیشہ وطن کے نام پر جنگ اور عصبیت کا مظاہرہ ہوتا رہا ہے۔علامہ اقبال ملوکیت اشتراکیت اور جمہوریت کے بھی سخت مخالف تھے اور ان کے نزدیک یہ تینوں نظام باطل و انسان دشمن تھے۔ مولوی حافظ عبدالرحیم نے مزید کہا کہ علامہ اقبال نے دنیا سے محبت اور قرآن سے دوری کو مسلمانوں کے زوال اور پستی کا سب سے بڑا سبب قرار دیتے ہوئے مسلمانوں کو شاہین صفت اور درویش صفت بننے اور درویشی اختیار کرنے،عالمی اتحاد کو قائم کرنے پر زور دیا۔ مولوی حافظ عبدالرحیم نے مزید کہا کہ اقبال نے اپنی شاعری میں روحانی شخصیات کی زبانی مسلمانوں کو پیغام دینے کی کامیاب کوشش کی ہے کہ وہ کس طرح سے عروج حاصل کر سکتے ہیں۔ اقبال نے خلافت کے تصور کو پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ زمین اللہ کی ہے اور زمین پر حکومت بھی اللہ کی ہی ہونی چاہیے۔ انسان زمین پر خلیفہ ہے اللہ کی حکمرانی قائم کرنا اس کا فرض منصبی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقبال کے نزدیک مسلمانوں کی طاقت ان کی قیادت سے ہے اور قیادت کے بغیر غلبہ کے حصول ممکن نہیں۔صدارتی تقریر میں سید عبدالرحیم نقیب وحدت اسلامی کرناٹک و تلنگانہ نے کہا کہ اقبال کی شاعری الہامی اور فلسفیانہ ہے اسی لئے ادبی حلقہ انہیں شاعر تسلیم نہیں کرتا۔انہوں نے کہا کہ اقبال پہلے شاعر ہیں جنہوں نے فلسفے کے اظہار کیلئے شاعری کو ذریعہ بنایا۔ سید عبدالرحیم نے کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ علامہ اقبال کی شاعری پڑھنے سے ہی اردو سیکھی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرد مومن اقبال کی شاعری کا مرکزی کردار ہے۔ انہوں نے جلسہ یاد اقبال کے انعقاد کیلئے عزیز اللہ سرمست اور مولوی حافظ عبدالرحیم کی ستائش کی اور علامہ اقبال کی شاعری پر مسلسل اجلاس منعقد کرنے پر زور دیا۔مبین احمد زخم شاعر و صحافی نے نہایت خوش اسلوبی کے ساتھ نظامت کے فرائض انجام دیئے اور آخر میں شکریہ ادا کیا۔ باذوق احباب کی کثیر تعداد نے جلسے میں شرکت کی۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔