ڈاکٹر شہاب افسر کے گھر ادبی تقریب۔


اورنگ آباد (نامہ نگار )۔ اورنگ آباد کے وہ قلم کار جو افسانے ، افسانچے، انشائیے لکھتے ہیں ڈاکٹر شہاب افسر خان کے گھر ان کے بھی دعوت نامہ پر جمع ہوئے۔ مقصد ایسے قار کاروں سے ان کی غیر مطبوعہ نگارشات سننا اور ان کی حوصلہ افزائی کرنا تھا۔ اس نجی محفل میں ڈاکٹر ارتکاز افضل ، سلطان شمیم خان ( حال مقیم نیو یارک ۔ امریکہ ) ،ڈاکٹر عظیم راہی، ڈاکٹر غزالہ پروین، معز ہاشمی سعید زیدی، خان افرا تسکین ، ڈاکٹر ادریس فاروقی (عسکری)، قاضی انیس ، ڈاکٹر دوست محمد خان ، زہرہ طلعت صاحبہ اور خود ڈاکٹر شباب افسر خان موجود تھے ۔ اس پروگرام کا افتتاحتلاوت قرآن پاک کی تلاوت سے ہوا۔ میزبان شہاب افسر خان نے سب ہی قلم کاروں کا استقبال کیا۔ ڈاکٹر غزالہ پروین نے اپنا افسانہ راز سنایا اور سامعین سے داد و تحسین حاصل کی۔ بابائے افسانچہ ڈاکٹر عظیم راہی نے اپنا تحریر کردہ جدید افسانہ بولتی خاموشی سنایا جسے بہت پسند کیا گیا۔ سعید زیدی نے اپنے انشائیہ کے اہم حصے سنائے ۔ ان کے انشائیوں میں قدیم اور نگ آباد کی جھلک ملتی ہے جو سب ہی کو پسند آتی ہے، خان افراء نے اپنا افسانہ چھاوں کے نیچے داد حاصل کی ۔ معز باشی سے نان خلیہ پر طنز مزاح کی لوگوں کی توقع تھی لیکن انھوں نے اپنے تین افسانچے سنائے اور واہ واہ لوٹی۔ میزبان ڈاکٹر شباب افسر نے اپنا افسانہ پنکی خان سنایا جسے بہت پسند کیا گیا۔
ڈاکٹر ارتکاز افضل نے اپنی مخاطبت میں چند دلچسپ باتیں بتائیں اور اپنا کلام سنایا۔ یہ تمام سبق آموز باتیں سامعین کے لیے بے حد مفید تھیں ۔ آخر میں سلطان شمیم خان صاحب نے اپنے منفرد اور ڈرامائی انداز میں " نان اور آذان " نئی تخلیق سنائی جسے بہت پسند کیا گیا۔ ڈاکٹر ادریس فاروقی ( عسکری) نے ڈاکٹر شباب افسر خان کو گلہائے عقیدت پیش کی۔ پروگرام کے آخر میں ڈاکٹر دوست محمد خان نے اپنی سریلی آواز میں غزلیں سنا کر محفل کا موڈ بدل دیا۔ ڈاکٹر شباب افسر خان کے اظہار تشکر پر محفل اختتام پزیر ہوئی

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ