احترام انسانیت اسلامی تعلیمات کی بنیادی خوبی ہے: پروفیسر سہیل امیر شیخ۔
عمرکھیڑ ، ضلع ایوت محل (نمائندہ): "دلوں کو جوڑنے کے لیے ایک دوسرے کے قریب آنا ضروری ہے۔ آج دنیا میں جو تقسیم پیدا ہو رہی ہے، اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ انسان خود کو بڑا سمجھنے لگا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تمام انسان ایک ہی خالق کی اولاد ہیں۔ ایک دوسرے کا احترام کرنا ہی اسلام کا اصل پیغام ہے اور یہی سوچ ہمیں دنیا میں آگے لے جا سکتی ہے،" ان زرین خیالات کا اظہار معروف سماجی کارکن پروفیسر سہیل امیر شیخ نے عمر کھیڑ ضلع ایوت محل میں ہندو اور مسلمانوں کے اجتماعی پروگرام میں کیا۔
جماعت اسلامی ہند، شاخ عمرکھیڑ کی جانب سے 12 اپریل کو مقامی اننت راؤ دیوسرکر سبھاگروہ میں ایک خصوصی پروگرام کا انعقاد کیا گیا تھا۔ جس میں وہ بطورِ صدر جلسہ خصوصی رہنمائی کر رہے تھے۔
روزے کے روحانی پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے پروفیسر سہیل امیر شیخ نے کہا کہ "روزہ کا مطلب ہے 'رک جانا'۔ انسان اللہ کے حکم کی خاطر اپنے حق کے کھانے اور پینے سے بھی باز رہتا ہے۔ اگر ہم گیارہ مہینے حرام کمائی اور نشہ آور عادات سے دور رہیں، تب ہی روزے کا اصل مقصد حاصل ہوگا۔ جو شخص اپنی بیوی پر بری نظر نہیں ڈال سکتا، وہ دوسروں کی ماؤں اور بہنوں کی طرف بری نظر کیسے ڈال سکتا ہے؟ یہی سبق روزہ ہمیں دیتا ہے۔"
سماجی ذمہ داری اور امن :
انہوں نے کہا کہ معاشرے میں امن قائم کرنے کے لیے "خالق کی پہچان" (خدا کا خوف) ضروری ہے۔ اگر ہر انسان کو یہ احساس ہو جائے کہ وہ اللہ کی نگرانی میں ہے، تو جرائم اور نفرت خود بخود ختم ہو جائیں گے۔ "اگر تمہیں کچھ جلانے کا شوق ہے تو غریبوں کے چولہے جلاؤ،" اس جذباتی اپیل کے ساتھ انہوں نے کہا کہ غریبوں کی ضروریات پوری کرنا اور بچوں کو اخلاقی تعلیم دینا ہی حقیقی سماجی ترقی کی بنیاد ہے۔
اس پروگرام کے ذریعے محبت اور بھائی چارے پر مبنی ہندوستان کی تعمیر کے لیے دعا بھی کی گئی۔
اس عظیم الشان گنگا جمنی پروگرام میں بہت بڑی تعداد میں ہندو اور مسلمان بھائیوں کے علاوہ دیگر مذاہب کے مذہبی رہنماؤں اور اخباری نمائندوں کے علاوہ پولیس انتظامیہ کے اعلی عہدے داران نے بھی خصوصی شرکت کی اور پروگرام سے استفادہ کیا ۔
اس موقع پر مہمانانِ خصوصی میں بودھ دھرم گرو بھنتے کیرتی بودھی، عقیل مرزا سر ، شیخ نعیم (پوسد)، دھرم گرو ہنومنت راؤ گائیکواڑ، وجئے بیتےواڑ، شنکر پانچال، شیواجی راؤ وانکھڈے، وجئے ریگھاٹے، ڈاکٹر آشیش کھمبالکر، ڈاکٹر دلوی، پروفیسر دھنراج تائڈے سمیت شہر کے معزز شہری اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات بڑی تعداد میں موجود تھیں۔
Comments
Post a Comment