یکساں سول کوڈ کے نام پر مذہبی حقوق میں مداخلت ناقابلِ برداشت — جلگاؤں ایکتا سنگٹھنا۔


جلگاؤں (عقیل خان بیاولی): مہاراشٹر حکومت کی جانب سے مجوزہ "مہاراشٹر سمان ناگری سنہتا مہاراشٹر یکساں سول کوڈ بل 2026” کے حوالے سے مسلم پرسنل لاء سے متعلق جلگاؤں ایکتا سنگھٹنا نے شدید آئینی اعتراضات درج کرائے ہیں۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ یہ بل ہندوستانی آئین کی جانب سے دی گئی مذہبی آزادی اور بنیادی حقوق پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔ اہم اعتراضات: آئینی حقوق کی خلاف ورزی : 
ہندوستانی آئین کے آرٹیکل 25 اور 26 کے تحت ہر شہری کو اپنے مذہب پر عمل کرنے، اس کی پیروی کرنے اور اس کی تبلیغ کا بنیادی حق حاصل ہے۔ مسلم پرسنل لا محض سماجی ضابطہ نہیں بلکہ مذہبی فرائض کا حصہ ہے، لہٰذا اس میں مداخلت مذہبی آزادی کی صریح خلاف ورزی ہوگی۔
3) آرٹیکل 44 لازمی نہیں آرٹیکل 44 ہدایتِ اصولِ ریاستی پالیسی (Directive Principles of State Policy) کے تحت آتا ہے، جو عدالت کے ذریعے نافذ العمل نہیں ہے، اس لیے اسے بنیادی حقوق پر فوقیت نہیں دی جا سکتی۔ 4) آرٹیکل 366(25) اور 342 کے تحت امتیاز بل میں درج فہرست قبائل (ایس ٹی) کو استثنا دیا گیا ہے۔ تنظیم کا موقف ہے کہ اگر ثقافتی و مذہبی تنوع کی بنیاد پر ایس ٹی طبقات کو تحفظ دیا جا سکتا ہے تو مسلم سماج کو بھی وہی حقوق ملنے چاہئیں، بصورت دیگر یہ آرٹیکل 14 (حقِ مساوات) کی خلاف ورزی ہوگی۔
"مسلم پرسنل لا (شریعت) کی مذہبی حیثیت"۔ مسلم پرسنل لا (1937) صرف قانونی نہیں بلکہ اسلامی شریعت پر مبنی ہے، جس میں نکاح، طلاق اور وراثت جیسے معاملات قرآن و شریعت کے احکام کے تابع ہیں، لہٰذا ان میں تبدیلی مذہبی آزادی میں براہِ راست مداخلت ہے۔
2) سپریم کورٹ کا مؤقف۔ سپریم کورٹ نے مختلف مقدمات میں واضح کیا ہے کہ پرسنل لاء کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا جا سکتا بلکہ آئین کے دائرے میں توازن برقرار رکھنا ضروری ہے۔ 3) بل کی دفعہ 10(2) اگرچہ بل میں براہِ راست قانون کو ختم نہیں کیا گیا، تاہم اسے “غیر مؤثر” (Inoperative) بنانا بھی بالواسطہ طور پر حقوق کو محدود کرنے کے مترادف ہے۔
ایکتا سنگھٹنا کے مطالبات۔ مسلم پرسنل لاء کو اس بل سے واضح طور پر مستثنیٰ قرار دیا جائے۔ مذہبی آزادی کے تحفظ کے لیے خصوصی دفعات شامل کی جائیں۔
تمام طبقات سے وسیع مشاورت کے بعد ہی اس قانون کو نافذ کیا جائے۔ آخر میں تنظیم کے کوآرڈی نیٹر فاروق شیخ نے کہا کہ ہمارا ماننا ہے کہ “سماں ناگری سنہتا” سماجی ہم آہنگی کے لیے ہونی چاہیے، لیکن کسی بھی صورت میں یہ مذہبی آزادی اور بنیادی حقوق کو متاثر کرنے والی نہیں ہونی چاہیے۔ ڈپٹی کلیکٹر کو عرضداشت پیش۔سنگٹھنا کے حافظ عبد الرحیم پٹیل نے ڈپٹی ضلع کلیکٹر محترمہ ارچنا مورے کو مطالبات پر مشتمل عرضداشت پیش کی۔ محترمہ مورے نے وفد کو یقین دلایا کہ ان کے جذبات فوری طور پر حکومت تک پہنچائے جائیں گے۔ اس موقع پر فاروق شیخ کی قیادت میں وفد میں حافظ عبد الرحیم پٹیل، مظہر خان، انور خان، انیس شاہ، نجم الدین شیخ، ذکی پٹیل یوسف بلیٹ، سعید شیخ، مولانا غفران، سلیم ایماندار، شیندورنی سے عمران شیخ، خلیل خان، یوسف خان سمیت دیگر افراد موجود تھے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ