تاريخي شرمناک خيانت و منافقت۔۔ از قلم: ظفر هاشمي ندوی۔
تاريخي شرمناک خيانت و منافقت۔
از قلم: ظفر هاشمي ندوی۔
اب تک ہرگز ھرگز یقین نہیں آتا ہے کہ دنیا بھر کے تمام مسلمان اور خصوصا ان کے عرب و عجم کے تمام علماء کرام اور ان کے تمام دینی ادارے اور تمام مفتیان کرام موجودہ صلیبی جنگ میں صلیبیوں کا ساتھ دیں گے اور شیعہ مسمانوں کا صرف ان کے شیعہ ہونے کی وجہ سے ساتھ نہیں دیں گے۔ خصوصا انڈیا پاکستان اور افغانستان کے مسلمان اور علماء کرام اور مفتیان عظام جن کی دینی حمیت و غیرت دنیا کے باقی تمام مسلمانوں کے مقابلہ میں ہمیشہ زیادہ رہی ہے اور ان ملکوں کے علماء و مفتی حضرات نے
خنجر چلے کسی پہ تڑپتے ہیں ہم امیر
سارے ( مسلمانوں) کا درد ہمارے جگر میں ہے-
کا ہمیشہ ثبوت دیا ہے مگر اس خطرناک صلیبی جنگ میں ہم سب نے تاریخی اور انتہائی شرمناک خیانت اور منافقت کا ثبوت دیا ہے-
کیا تمام سنی مسلمان قیامت میں اللہ تعالیٰ کو یہ جواب دیں گے کہ شیعوں کی شیعیت کی وجہ سے ہم نے ان کی تائید نہیں کی ؟
کہا جا سکتا ہے اور کہا گیا ہے کہ ایران اور حزب اللہ شیعی گروپ نے ماضی قریب میں عراق اور سوریا کے سنی مسلمانوں کے ساتھ وحشیانہ سلوک کیا ہے- یہ بات بالکل صحیح ہے - تو پہر اللہ تعالیٰ کا فرمان ( ولا يجرمنكم شنآن قوم على ان لا تدلوا ، اعدلوا هو أقرب للتقوى) تمہیں کسی قوم کے ساتھ بغض اور دشمنی انصاف کرنے سے نہ روک دے-
اور ( ادفع بالتی ہی أحسن فاذا الذی بینك وبينه عداوة كانّه ولي حمیم) تمہاری جس کے ساتھ دشمنی ہے ، اس کے ساتھ بہتر سے بہتر سلوک کرو تو وہ تمہارا جگری دوست بن جائے گا-
ہمارے مفتیان کرام جو ہر وقت فتویٰ کا راکٹ چھوڑ دیتے ہیں ، ان خطرناک حالات میں کیوں چپ رہ گئے؟ کیا موجودہ صلیبی جنگ کے لحاظ سے جہاد کا فتوی نہیں دینا چاہیے تھا؟ جب کہ مسٹر ترامب کے آفس میں عیسائی راہبوں نے اپنے طریقہ کے مطابق مذہبی دعا کرائی۔
کیا اس صلیبی جنگ سے پہلے ایران ، حزب اللہ اور حوثیوں نے غزہ کی مدد نہیں کی؟ اور اس وقت بھی عرب و عجم کے تمام مسلمانوں نے غزہ کے مسلمانوں کو مرنے کے لئے چھوڑ دیا- البتہ خلیجی ممالک خصوصا متحدہ عرب امارات نے غزہ کے مسلمانوں کی ہر طرح سے مالی ، غذائی اور طبی مدد کی-
اس وقت بھی ہم مسلمانوں کو سچی توبہ کرنے کا موقع ہے - میں تمام دینی مدارس خصوصا سرتاج مدارس دار العلوم دیوبند ، ندوۃ العلماء ، مظاہر العلوم ، جامعہ سلفیہ اور ان سب دینی قلعوں کے ساتھ ساتھ جماعت اسلامی ، جمعیۃ العلماء ، مجلس اتحاد المسلمین اور ہر دینی غیرت رکھنے والے مسلمان سے گزارش کرتا ہوں کہ شہید مسلمانوں کے ورثاء اور زخمی مسلمانوں کے علاج اور جن کے گھر تباہ ہو چکے ہیں ان سب کی انڈیا کے قوانین کی روشنی میں ہر ممکن مالی ، غذائی اور طبی امداد روانہ کریں تاکہ قیامت میں ہماری پکڑ نہ ہو-
دوڑو زمانہ چال قیامت کی چل گیا۔
Comments
Post a Comment