بندش (افسانہ) ازقلم : مسرورتمناپونا مہاراشٹر انڈیا۔
بندش (افسانہ)
ازقلم : مسرورتمنا
پونا مہاراشٹر انڈیا۔
راج کو وہ بہت اچھی لگی
اسکی معصومیت سادگی
راج نے دیکھا. کے سارے
کلیگ آپس میں گھل مل کر رہتے. مگر . وہ خاموشی سے اپنی جگہ بیٹھی کام کر رہی تھی شانتی اپنی نام کی طرح شانتی سے دفتر آتی اپنا کام کرتی اور شانتی سے چلی جاتی
یہ اور بات تھی خاموشی سے وہ ہلچل.کرتی تھی جوان دل کو آشانت مگر اسکےچہرے کی معصومیت دیکھکر کو ئ کچھ نا کہ پاتا .. .... مگر.. .
.........آج وہ پھوٹ پھوٹ کر
روئ تھی مہادیو کے سامنے
نہیں کہونگی کچھ نہیں کہونگی کیونکہ لوگوں کی حرکتوں سے عجیب وغریب سوالوں سے میں تنگ ہوں
کل راج نے میرا راستہ روک
لیا کہ رہا تھا دکھ ہر کسی کے نصیب میں ہوتا اپنا دکھ سب کو دکھانا تو ضروری نہیں چہرے پر اتنی اداسی بھر لو کے ذمانہ غمگین ہوجاے ارے . یہ بھی کوی ذندگی ہے. ... ھنس کے جیو کھل کے جیو لوگوں پر چھا جاو اپنی چھاپ سے انکے
دل کو رنگین کردو ایسی ہی عورت ترقی کے میدان میں آگے بڑھتی ہے..... میری غیرت کو اس نے للکارا اور میں ٹوٹ گی
چپ کرو تمھاری بکواس ختم ہوئ ہو تو میں کچھ کہوں
شانتی کی میٹھی آواز سن کر
راج گنگ ہوگیا.
سنو میں کوی بیوہ یا کنواری عورت نہیں ایک شادی شدہ عورت ہوں پندرہ سال پندرہ سال سے اپنے بیمار شوہر کی دیکھ بھال کے ساتھ اپنے بچوں
کی مستقبل کو سنورا انہیں بندش میں نہ ڈالا وہ اب باہر
دیس میں اپنی مرضی کی لایف
جی رہے.
اور میں اپنے پتی اپنے شوہر کے
لیے یہاں کام کرنے پر مجبور ہوں. معاف کرنا میں کوی کنواری لڑکی نہیں کے.آنکھوں میں خواب
بساوں کسی کی تمنا کروں
آنکھوں میں بسے خواب تو برسوں
پہلے ہی انسو بن کر بکھر گیے
اب تو ان آنکھوں میں آنسو بھی نہیں ....اور میں
کوئ بیوہ نہیں کے دوسرا گھر بسانے کی.سوچوں میں تو ایسے انسان کی بندش میں ہوں
جو نا مجھے سوچ سکتا ہے نا.محسوس کرتا ہے نا میرے حسن کی تعریف کرسکتا ہے
نہ محبت کے احساس کو قبول
کرسکتا ہے ایسے انسان کی بندش میں ہوں میرے غم کو نا
کرید میرا تماشہ نا بنا شانتی
ہو شانت دکھتی رہنے دے
راج تو چلا گیا مگر پھر کوی
مجھے ایسے حال میں بھی جینا
محال کریگا کس کس کو روکوں
جواب دوں اور دوں ہی کیوں
کیا میں پاپ کر رہی ہوں.
نہیں نا بس جی رہی ہوں
سانس چل رہی کے اس
انسان کو پال سکوں..
پھر بھی ... لوگ..
اس نے آپنے انسو پوچھے
ہے مہادیو تو تو بھولا ہے نا
پھر پھر کیوں اس بندش میں
ڈالا مجھے ...
Comments
Post a Comment