غزل - ازقلم : ہیرے کوڑی۔کرناٹک۔
غزل -
ازقلم : ہیرے کوڑی۔کرناٹک۔
9902130714
آوکہ ہم اس جہاں کو جنت سا بنائے
آسمان تلے کی دھرتی کو گلستان سا بنائے
حرص نے تو بانٹ دیا زمین کو سرحد کی لکیروں میں
دلوں کے بٹوارے کومگر نا کام سا بنائے
ہر سمت فریب، دھوکہ اور لوٹ کا ہے چرچا
زمین کے ہر چھپے کو اب امن کا گہوارہ سا بنائے
جنگ تو ایک مصلح ہے، حل مگر پوشیدہ ہے گفتگو میں
اس قول کو مگر اب ہم عام وخاص سا بنائے
نا جلے اب غریب کا گھر، نا پامال کسی کی عزت
انسان کو انسان کا غمخوار سا بنائے
دفا ہو ہر دل سے خوف ودہشت اب تو
دیس میں پردیس میں امن کوممکن سا بنائے
پروفیسر، سلیم عباس دیسای
ہیرے کوڑی۔کرناٹک
9902130714
Comments
Post a Comment