اردو کی خدمت آسان ہے، مگر اسے پیچیدہ بنا دیا گیا خلوصِ دل سے کام کرنے کی ضرورت: سید حسین اختر - ممبئی میں اردو ساہتیہ اکادمی دفتر میںاستقبال و اہم ملاقات، سرکاری اسکیمات اور اردو کے فروغ پر تبادلۂ خیال -
اردو کی خدمت آسان ہے، مگر اسے پیچیدہ بنا دیا گیا خلوصِ دل سے کام کرنے کی ضرورت: سید حسین اختر -
ممبئی میں اردو ساہتیہ اکادمی دفتر میںاستقبال و اہم ملاقات، سرکاری اسکیمات اور اردو کے فروغ پر تبادلۂ خیال -
ممبئی (نامہ نگار):مہاراشٹر راجیہ اردو ساہتیہ اکادمی کے دفتر ممبئی میں ایک اہم اور بامقصد ملاقات منعقد ہوئی، جس میں اکادمی کے چیئرمین سید حسین اختر کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ اس موقع پر ڈاکٹر قاضی امیر الدین (ڈائریکٹر، مولانا آزاد مالیاتی کارپوریشن و صدر الامین مسلم ویلفیئر ایجوکیشن سوسائٹی، ایوت محل) نے ان کا خیرمقدم کرتے ہوئے گلدستہ پیش کیا اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔اس موقع پر اکادمی کے ایگزیکٹیو آفیسر ڈاکٹر شعیب ہاشمی، روزنامہ انقلاب کے نائب مدیر قطب الدین شاہد اور محمد حسن نائیک بھی موجود تھے۔ ملاقات کے دوران اردو زبان کی ترقی و ترویج، سرکاری اسکیمات کے مؤثر نفاذ اور ادبی و ثقافتی سرگرمیوں کو فروغ دینے سے متعلق مختلف امور پر نہایت سنجیدہ اور صحت مند تبادلۂ خیال کیا گیا۔شرکاء نے اس بات پر اطمینان اور مسرت کا اظہار کیا کہ سید حسین اختر کی بطور چیئرمین تقرری کے بعد اکادمی کی سرگرمیوں میں نمایاں تیزی آئی ہے۔ بالخصوص ڈاکٹر شعیب ہاشمی اور سید حسین اختر کے باہمی تال میل اور فعال حکمتِ عملی کے باعث مہاراشٹر اردو ساہتیہ اکادمی دیگر ریاستی اکادمیوں کے مقابلے میں زیادہ متحرک اور نتیجہ خیز ثابت ہو رہی ہے۔گفتگو کے دوران حالیہ عرصے میں مختلف ادبی و ثقافتی سرگرمیوں کے لیے رکی ہوئی مالی رقوم (اماؤنٹس) کی اجرائی پر بھی اطمینان کا اظہار کیا گیا، جسے اردو کے فروغ کے لیے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا گیا۔اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے سید حسین اختر نے کہا:“اردو کی ترقی و ترویج کا کام فی نفسہٖ مشکل نہیں ہے، مگر بدقسمتی سے اسے غیر ضروری طور پر پیچیدہ بنا دیا گیا ہے۔ دراصل یہ خدمت وہی انجام دے سکتا ہے جس کے دل میں اردو کے لیے سچی محبت، خلوص اور لگاؤ موجود ہو۔ اگر نیت صاف ہو اور عزم مضبوط ہو تو اردو کے فروغ کی راہیں خود بخود ہموار ہوجاتی ہیں۔”انہوں نے مزید کہا کہ اکادمی کا مقصد صرف تقریبات کا انعقاد نہیں بلکہ اردو زبان و ادب کو نئی نسل تک مؤثر انداز میں منتقل کرنا اور اسے عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہے، تاکہ یہ زبان ترقی کے نئے مراحل طے کرسکے۔یہ نشست خوشگوار ماحول میں منعقد ہوئی اور اسے اردو کے فروغ اور سرکاری سطح پر اس کی فعالیت کو مزید مستحکم بنانے کی جانب ایک مثبت قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
Comments
Post a Comment