بیدر کو پیشہ ور بھکاریوں سے پاک بنانے کی مثالی مہم: بی بی ایف کی سنجیدہ پیش رفت:ڈاکٹرعبدالقدیر۔
بیدر۔ یکم/ اپریل(نامہ نگارمحمدعبدالصمد) بیدر شہر میں پیشہ ور بھکاریوں کے بڑھتے ہوئے رجحان کے خلاف ایک مؤثر اور منظم مہم کا آغاز کیا گیا ہے، جس نے نہ صرف سماجی سطح پر بیداری پیدا کی ہے بلکہ دینی و اخلاقی اعتبار سے بھی ایک اہم بحث کو جنم دیا ہے۔ اس مہم کی قیادت بیدر بیٹرمنٹ فاؤنڈیشن کے صدر ڈاکٹر عبدالقدیر کی خصوصی دلچسپی اور رہنمائی میں کی جا رہی ہے، جس کا مقصد شہر کو پیشہ ورانہ گداگری کے ناسور سے پاک کرنا اور حقیقی مستحقین تک امداد کو منظم انداز میں پہنچانا ہے۔ یہ مہم کلسٹر سطح پر بیدر کی 130 مساجد کے اطراف و اکناف کامیابی کے ساتھ جاری ہے، جہاں رضاکاروں کی ٹیمیں باقاعدہ سروے کر کے پیشہ ور بھکاریوں کی نشاندہی کر رہی ہیں۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ بھیک مانگنے کو ایک پیشہ بنانے والوں کی حوصلہ شکنی کی جائے اور معاشرے میں ایک صحت مند اور باوقار نظام کو فروغ دیا جائے، جہاں امداد صرف حقیقی ضرورت مندوں تک پہنچے۔ اس ضمن میں ممتاز عالم دین مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب کا یہ مؤقف خاص طور پر قابلِ توجہ ہے کہ پیشہ ورانہ طور پر بھیک مانگنا شرعاً حرام ہے، اور ایسے افراد کی مالی مدد کرنا بھی گناہ کے زمرے میں آتا ہے۔ اس فتوے نے اس مہم کو دینی بنیاد فراہم کی ہے اور عوام میں شعور بیدار کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ مہم کے تحت عوام سے اپیل کی جا رہی ہے کہ وہ اپنے اپنے علاقوں، خصوصاً مساجد کے اطراف میں موجود افراد کا بغور جائزہ لیں اور اگر کوئی واقعی مستحق، مجبور یا نادار شخص موجود ہو تو اس کی نشاندہی کریں۔ بیدر بیٹرمنٹ فاؤنڈیشن نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ایسے مستحقین کی ہر ممکن مدد کی جائے گی، تاکہ انہیں عزت کے ساتھ زندگی گزارنے کے مواقع فراہم کیے جا سکیں۔ مزید برآں، اس مہم کے تحت ایک منظم طریقۂ کار اپنایا گیا ہے، جس کے مطابق ہر مسجد کے اطراف کا مکمل سروے کیا جاتا ہے۔ اگر کسی علاقے میں پیشہ ور بھکاریوں کی موجودگی نہ پائی جائے تو اس مسجد کو باضابطہ طور پر “پیشہ ور بھکاریوں سے پاک” قرار دیا جاتا ہے۔ یہ اقدام نہ صرف ایک اعزاز کی حیثیت رکھتا ہے بلکہ دیگر علاقوں کے لیے بھی ایک مثال بنتا جا رہا ہے۔ الحمد للہ، اس مہم کے مثبت اثرات نمایاں ہونے لگے ہیں، اور اب تک بیدر شہر کی 15 مساجد کو پیشہ ور بھکاریوں سے پاک ہونے کا اعلان کیا جا چکا ہے۔ یہ پیش رفت اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر منظم حکمت عملی، دینی رہنمائی اور عوامی تعاون یکجا ہو جائیں تو معاشرتی برائیوں کا خاتمہ ممکن ہے۔ یہ مہم دراصل ایک وسیع تر سماجی اصلاح کی تحریک ہے، جو نہ صرف بھیک مانگنے کے کلچر کی حوصلہ شکنی کرتی ہے بلکہ خودداری، محنت اور باعزت روزی کے تصور کو بھی فروغ دیتی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ شہر کے تمام طبقات، ائمہ مساجد، سماجی کارکنان اور عوام الناس اس مہم کا حصہ بنیں اور بیدر کو ایک مثالی اور باوقار شہر بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ اگر یہی جذبہ اور تعاون برقرار رہا تو وہ دن دور نہیں جب بیدر شہر مکمل طور پر پیشہ ور گداگری سے پاک ہو کر ایک مہذب، خوددار اور منظم معاشرے کی روشن مثال بن جائے گا۔
Comments
Post a Comment