غزل - ازقلم : عامر سکندر نصیرآبادی۔
غزل -
ازقلم : عامر سکندر نصیرآبادی۔
بزم دیارِ غزل کے مصرعہ طرح پر کہی گئی غزل۔
بُلا لے میرے خدا مجھکو اب رلائے بغیر
سکوں ملے گا نہ دل کو مدینہ جائے بغیر
وفا کی راہ میں اُڑنے کا مشورہ کیسا
کوئی بھی اوج نہ پائے گا پر جلائے بغیر
کواڑ ہنسنے لگے میری بے قراری پر
قرار آئے گا کیسے کسی کے آئے بغیر
تڑپ رہی ہے تمنائے دید سینے میں
نہ میں ہی ماننے والا ہوں اُس کو پائے بغیر،،،
بھرم یہ ساقیِ محفل کا ٹوٹ جائے گا
خمار آئے گا کیسے اسے رلائے بغیر
صنم نے پوچھ ہی لی ہے مرے جنون کی حد
کفن سجے گا نہ اب چاکِ دل دکھائے بغیر
گھسے ہیں باپ کے تلوے تو راستہ چمکا
گیا نہ وہ مجھے منزل پہ بھی بٹھائے بغیر
مری یہ مفلسی بچوں پہ کھل نہ جائے کہیں
کھلونے والا چلا جائے لب ہلائے بغیر
جلا کے خونِ جگر سے چراغِ بزمِ سخن
اُٹھے گا کیسے سکندر یہ غم مٹائے بغیر
عامر سکندر نصیرآبادی۔
Comments
Post a Comment