عزم، حوصلہ اور تعلیم کی روشن مثال یاسمین جان محمد"ارادہ ہو اٹل تو معجزہ ایسا بھی ہوتا ہے". عقیل خان بیاولی جلگاؤں۔
عزم، حوصلہ اور تعلیم کی روشن مثال یاسمین جان محمد
"ارادہ ہو اٹل تو معجزہ ایسا بھی ہوتا ہے".
عقیل خان بیاولی جلگاؤں۔
معاشرے میں ایسے واقعات کم ہی دیکھنے کو ملتے ہیں جو نہ صرف انسان کو چونکا دیں بلکہ اس کے اندر ایک نئی توانائی، ایک نیا حوصلہ بھی پیدا کریں۔ ممبئی کی ایک تنگ و تاریک بستی اندھیری میں پروان چڑھنے والی رکشہ ڈرائیور کی بیٹی یاسمین جان محمد کی کامیابی اسی نوعیت کی ایک روشن مثال ہے، جو اس حقیقت کو آشکار کرتی ہے کہ اگر عزم پختہ ہو تو حالات کی سختیاں بھی راستہ نہیں روک سکتیں۔
محض 10×8 کے ایک مختصر کمرے میں چار افراد پر مشتمل خاندان، بارہا بستی کے اجڑنے کا کرب، معاشی تنگی، اور کورونا جیسے عالمگیر بحران ، یہ سب ایسے عوامل تھے جو کسی بھی کمزور ارادے کو توڑنے کے لیے کافی ہوتے ہیں۔ مگر یاسمین کے والد جان محمد، جو ایک رکشہ چلا کر گھر کا نظام سنبھالتے رہے، اور والدہ نورالعین کی غیر معمولی بصیرت ان کے خود کو ثابت کرنے کے تجربات و استقلال نے ان مشکلات کو شکست دینے کا عزم کیا۔ انہوں نے طے کر لیا تھا کہ چاہے حالات جیسے بھی ہوں، اپنی اولاد کو اعلیٰ تعلیم سے آراستہ ضرور کریں گے۔ یاسمین کا تعلیمی سفر بھی آسان نہ تھا۔ انگریزی ذریعہ تعلیم میں داخلہ، بڑھتے ہوئے اخراجات، رہائش کے مسائل، اور مسلسل عدم استحکام ، یہ سب چیلنجز اس کے راستے میں حائل رہے۔ مگر والدین کی قربانیاں اور اس کی اپنی محنت رنگ لاتی گئی۔ اس نے ممبئی سے بی ایچ ایم ایس مکمل کیا اور بعد ازاں جالنہ سے ایم ڈی میڈیسن اینڈ فلاسفی (ہومیوپیتھی) میں اول درجہ حاصل کر کے نہ صرف اپنے خاندان بلکہ اپنے علاقے اور بہشتی برادری کا نام بھی روشن کیا۔ یہاں یہ امر بھی قابل غور ہے کہ جس برادری سے یاسمین کا تعلق ہے، وہاں آج بھی تعلیم کو وہ اہمیت حاصل نہیں جو ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ ایسے میں یاسمین کی کامیابی محض ایک ذاتی کارنامہ نہیں بلکہ ایک اجتماعی پیغام ہے خاص طور پر مسلم لڑکیوں کے لیے،کہ وہ بھی عزم، محنت اور مستقل مزاجی کے ذریعے اعلیٰ منزلیں حاصل کر سکتی ہیں۔
اس کامیابی کے پیچھے جہاں والدین کی انتھک محنت شامل ہے، وہیں ماموں عبدالصمد، اور مشتاق بہشتی جلگاؤں جیسے افراد کی حوصلہ افزائی اور عملی تعاون ہر قدم پر رہنمائی بھی قابل ستائش ہے، جنہوں نے یاسمین کے تعلیمی سفر کو ایم ڈی تک جاری رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔ یاسمین خود بھی اپنی کامیابی کا سہرا اللہ تعالیٰ کے فضل، والدین کی دعاؤں، اساتذہ کی رہنمائی، اہل خانہ کا تعاون اور اپنی محنت کو دیتی ہیں۔ ان کا پیغام نہایت سادہ مگر مؤثر ہے۔ مقصد کا تعین کریں، اس پر ثابت قدم رہیں، حالات کا مثبت انداز میں مقابلہ کریں، اور سوشل میڈیا کو محض تعمیری مقاصد کے لیے استعمال کریں۔
آج کے اس پُر آشوب دور میں، جہاں نوجوان نسل اکثر مایوسی اور بے سمتی کا شکار نظر آتی ہے، یاسمین جان محمد کی کہانی ایک روشن چراغ کی مانند ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ کامیابی وسائل کی محتاج نہیں بلکہ ارادوں کی مرہونِ منت ہوتی ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے کرداروں کو نہ صرف سراہا جائے بلکہ انہیں مثال بنا کر معاشرے میں تعلیم، خاص طور پر بچیوں کی تعلیم، کو فروغ دیا جائے۔ یہی وہ راستہ ہے جو ایک مضبوط، باوقار اور ترقی یافتہ معاشرے کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔
Comments
Post a Comment