جو جیتا وہی سکندر: ایران دنیا کا نیا سپر پاور۔۔ ازقلم : ڈاکٹر محمد عظیم الدین۔
جو جیتا وہی سکندر: ایران دنیا کا نیا سپر پاور۔
ازقلم : ڈاکٹر محمد عظیم الدین۔
وہ قومیں جو تاریخ لکھتی ہیں، پہلے خود آگ سے گزرتی ہیں۔ جب بمباری کی گرج آسمان کو چیرتی ہو، جب شہر دھویں میں لپٹے ہوں، جب دشمن کے طیاروں کی پرچھائیاں زمین پر رقص کریں اور دنیا یہ سمجھ بیٹھے کہ اب یہ قوم گھٹنے ٹیک دے گی، ٹھیک اسی لمحے کچھ قومیں ایسی ہوتی ہیں جو راکھ سے اٹھتی ہیں، سینہ تان کر کھڑی ہو جاتی ہیں اور تاریخ کا رُخ موڑ دیتی ہیں۔ ایران نے یہی کیا۔ دنیا کی سب سے طاقتور فوجی مشین کے سامنے نہ جھکا، نہ بکھرا، بلکہ اپنی شرائط کی تختی واشنگٹن کی میزوں پر رکھ دی اور انتظار کیا کہ دشمن خود آئے اور قبول کرے۔ یہ کوئی معجزہ نہیں تھا، یہ اس قوم کا وہ ناقابلِ تسخیر ضمیر تھا جو ہزاروں سال کی تہذیب، قربانی اور مزاحمت کے خمیر سے گندھا ہوا ہے۔ تاریخ نے ایک بار پھر اپنا ازلی فیصلہ سنایا؛ جو جیتا وہی سکندر۔
اپریل 2026ء کی وہ تاریخی رات، جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکہ اور ایران دو ہفتے کی جنگ بندی پر متفق ہو گئے ہیں، دراصل وہ لمحہ تھا جب دنیا نے محسوس کیا کہ مشرقِ وسطیٰ کی بساطِ سیاست پر ایک نئی طاقت اپنا تاج سر پر رکھ چکی ہے۔ یہ محض ایک عارضی جنگ بندی نہیں تھی، یہ ایک نئے عالمی توازن کا اعلانِ ظہور تھا۔
یہ جنگ اچانک نہیں بھڑکی تھی۔ اس کی جڑیں دہائیوں کی تذلیل، اقتصادی پابندیوں اور امریکی و اسرائیلی جارحیت کی گہری مٹی میں پیوست تھیں۔ فروری 2026ء سے شروع ہونے والے اس مسلح تنازع نے پورے مشرقِ وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ فضائی کارروائیوں نے تہران تک کو نشانہ بنایا، مگر ایران نے بھی یمن سے لبنان تک اور خلیجی ریاستوں سے اسرائیل تک اپنے علاقائی نیٹ ورک کو بھرپور طریقے سے متحرک کر دیا۔ اس خونریز جنگ میں ایران کی طرف سے ڈیڑھ ہزار سے زائد جانیں گئیں، لبنان میں ہزار سے زیادہ افراد لقمۂ اجل بنے، امریکی افواج کے تیرہ اہلکار ہلاک ہوئے اور اسرائیل میں سولہ اموات ریکارڈ کی گئیں۔ یہ اعداد و شمار اس حقیقت کے گواہ ہیں کہ ایران نے اس آزمائش میں بھاری قیمت چکائی، مگر اپنا قدم پیچھے نہیں ہٹایا۔
مارچ 2026ء کے اواخر میں جب امریکہ نے پندرہ نکاتی امن تجویز پیش کی، جس میں جوہری پروگرام پر نگرانی، میزائل پابندیاں اور آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کی شرائط شامل تھیں، تو ایران نے اسے انتہائی یک طرفہ اور ناقابلِ قبول قرار دے کر یکسر مسترد کر دیا۔ ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے ٹیلی ویژن پر برملا اعلان کیا کہ تہران نے کسی جنگ بندی مذاکرات میں شرکت نہیں کی اور نہ ہی کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ یہ وہ تاریخی لمحہ تھا جب دنیا دم بخود رہ گئی، کیونکہ ایک ایسا ملک جو امریکی اور اسرائیلی بمباری کا سامنا کر رہا تھا، وہ میدان چھوڑنے کی بجائے اپنی شرائط پر امن کا مطالبہ کر رہا تھا۔ یہ کمزوری نہیں، یہ اس قوم کا وہ ناقابلِ تسخیر عزم تھا جو صدیوں کی تہذیب اور تاریخ سے جنم لیتا ہے۔
ایران کا اپنا دس نکاتی منصوبہ تاریخ میں ایک منفرد سفارتی دستاویز کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ اس منصوبے میں آبنائے ہرمز پر ایران کی مکمل خودمختاری، ایران اور اس کی حلیف قوتوں پر تمام حملوں کا فوری خاتمہ، امریکی افواج کا خطے سے مکمل انخلاء، جنگی ہرجانے کی ادائیگی، بین الاقوامی پابندیوں کا خاتمہ، منجمد اثاثوں کی واپسی اور اقوامِ متحدہ کی قرارداد کے ذریعے امن معاہدے کو قانونی تحفظ جیسے پُرعزم مطالبات شامل تھے۔ یہ مطالبات کسی مغلوب قوم کے نہیں تھے؛ یہ ایک ایسی طاقت کی دبنگ آواز تھی جو طے کر چکی تھی کہ وہ اپنی شرائط پر یا تو فاتح بن کر نکلے گی یا میدان میں ڈٹی رہے گی۔ سفارتِ عالم نے دیکھا کہ ایران کی یہ دلیری محض جذباتیت نہیں بلکہ ایک گہری اسٹریٹیجک سوچ کا اظہار ہے۔
اپریل 2026ء کے آغاز میں پاکستان، مصر اور ترکی کی ثالثی میں مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوا۔ پاکستانی وزیرِ اعظم اور آرمی چیف نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس تک رسائی حاصل کی، جبکہ امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے ایران کے وزیرِ خارجہ سے براہِ راست رابطہ قائم کیا۔ عمان، جو پہلے بھی ایران اور امریکہ کے درمیان خفیہ جوہری مذاکرات میں سہولت کاری کر چکا تھا، نے اس جنگ بندی کو آنے والی تباہی سے عارضی پسپائی قرار دیتے ہوئے سنجیدہ مذاکرات کی فوری ضرورت پر زور دیا۔ آٹھ اپریل 2026ء کو جب ٹرمپ کے جنگ بندی کے اعلان کے فوراً بعد ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل نے اسے امریکہ کی "دیرپا سفارتی شکست" قرار دیا تو واشنگٹن کے ایوانوں میں سناٹا چھا گیا۔
اس پورے واقعاتی سلسلے کو سمجھنے کے لیے ایران کی وہ حکمتِ عملی سمجھنا ازبس ضروری ہے جسے عالمی ماہرین "غیر ہم آہنگ طاقت" ( Asymmetric Power Projection) کہتے ہیں۔ ایران نے کبھی بھی روایتی فوجی قوت پر یکسر انحصار نہیں کیا۔ اس کے بجائے اس نے ایک وسیع علاقائی نیٹ ورک تیار کیا جس میں لبنان میں حزب اللہ، عراق میں شیعہ ملیشیا، یمن میں حوثی تحریک اور شام کی حکومت شامل ہیں۔ یہ وہ "محورِ مزاحمت" ہے جس نے ایران کو اسرائیل اور امریکہ دونوں کے لیے ایک ایسا پیچیدہ چیلنج بنا دیا جسے صرف فضائی بمباری سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیلی فوج نے لبنان میں زمینی آپریشن جاری رکھے حالانکہ سرکاری سطح پر جنگ بندی کا اعلان ہو چکا تھا، جو اس بات کی دلیل ہے کہ ایران کا علاقائی نیٹ ورک دشمن کے لیے کس قدر درد ناک ثابت ہوا۔
جغرافیائی لحاظ سے ایران کی جو مرکزی اہمیت ہے وہ کسی بھی سپر پاور کی حسرت کا باعث بن سکتی ہے۔ وسطی ایشیا، خلیجِ فارس اور مشرقی بحیرۂ روم کے سنگم پر واقع یہ ملک دنیا کی توانائی کی سیاست کے قلب میں دھڑکتا ہے۔ آبنائے ہرمز، جس سے دنیا کی خام تیل کی ایک بہت بڑی مقدار گزرتی ہے، ایران کے ہاتھ میں ایک ایسا ہتھیار ہے جو بغیر ایک گولی چلائے پوری عالمی معیشت کو لرزہ بر اندام کر سکتا ہے۔ اسی لیے ایران کے دس نکاتی منصوبے میں آبنائے ہرمز کو اپنی خودمختاری کے تحت رکھنے کا مطالبہ محض علامتی نہیں بلکہ انتہائی گہری اسٹریٹیجک سوچ کا عکاس تھا۔ جو قوم دنیا کی شہ رگِ توانائی پر ہاتھ رکھتی ہو، وہ خود بخود عالمی سیاست کا مرکز بن جاتی ہے۔
ایران کی اس ابھرتی ہوئی طاقت کو چین اور روس کا خاموش مگر مؤثر سہارا بھی حاصل رہا ہے۔ گزشتہ برسوں میں بیجنگ اور تہران کے درمیان عسکری تعاون اور تجارتی تعلقات میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ چین نے سعودی عرب اور ایران کے درمیان تاریخی سفارتی مفاہمت کروا کر پہلے ہی ثابت کر دیا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ میں اس کا کردار محض اقتصادی نہیں بلکہ سیاسی اور تزویراتی بھی ہے۔ روس نے بھی مغربی دباؤ کے باوجود ایران کو تنہا نہیں چھوڑا، کیونکہ ماسکو بخوبی جانتا ہے کہ اگر تہران کمزور پڑا تو یوریشین اتصال کا خواب بھی ادھورا رہ جائے گا۔ اس طرح ایران ایک ایسے اسٹریٹیجک مثلث کا ناگزیر حصہ بن چکا ہے جو امریکی یکطرفہ عالمی غلبے کو کھلا چیلنج دے رہا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ "انتہائی خطرناک موڑ" پر آ کھڑا ہوا ہے۔ سلامتی کونسل میں قرارداد تو منظور ہوئی مگر خود ایران کو ہونے والے ناقابلِ تلافی نقصانات کا کوئی احتساب نہ ہوا۔ یہ اس عالمی نظام کا وہی پرانا دوہرا معیار ہے جسے ایران اور اس کے حامی برسوں سے بے نقاب کرتے آئے ہیں۔ مگر جنگ بندی کے بعد جب ایران کی سکیورٹی کونسل نے کہا کہ دشمن کو ہماری شرائط قبول کرنی پڑیں، تو یہ محض بیانیہ نہیں تھا، یہ ایک حقیقی اور ٹھوس سفارتی فتح کا با وقار اعلان تھا جو تاریخ کے سینے پر سنہرے حروف سے لکھا جائے گا۔
تاریخ میں سکندرِ اعظم نے بھی ایرانی سرزمین کو فتح کرنے کی جسارت کی تھی اور وقتی طور پر کامیاب بھی رہا، مگر فارس کی روح نے ہمیشہ اپنا لوہا منوایا۔ آج کا ایران وہ فارس نہیں جو ٹوٹ جائے اور گھٹنے ٹیک دے؛ یہ وہ ایران ہے جس نے دنیا کی سب سے طاقتور فوجی مشین کے سامنے اپنی شرائط پر جنگ بندی کروائی، آبنائے ہرمز کی چابی اپنی مٹھی میں قائم رکھی اور اپنے علاقائی اثر و رسوخ کا کامیابی سے تحفظ کیا۔ جنگ بندی بے شک عارضی ہو سکتی ہے، مذاکرات ناکام بھی ہو سکتے ہیں، مگر تاریخ اس درخشاں لمحے کو ہمیشہ یاد رکھے گی جب ایران نے ثابت کر دیا کہ نئے عالمی دور میں طاقت صرف جوہری ہتھیاروں یا ڈالر کی تعداد سے نہیں ناپی جاتی، بلکہ اس عزمِ راسخ اور ارادۂ فولادی سے ناپی جاتی ہے جو میدانِ جنگ میں بھی اپنے نظریے پر سینہ سپر رہے، اپنی شرائط پر ڈٹا رہے اور بالآخر دشمن کو اپنی زبان بولنے پر مجبور کر دے۔ جو جیتا وہی سکندر؛ اور آج کا سکندر تہران میں جلوہ افروز ہے۔
Comments
Post a Comment