واجد اختر صدیقی کی نقش تحریر :فکری و ادبی جہات - از قلم : ڈاکٹر نازنین سلطانہ آصف احمد۔(اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ اردو،چشتیہ کالج آف آرنس ، سائنس اینڈ کامرس، خلد آباد۔)


واجد اختر صدیقی کی نقش تحریر :فکری و ادبی جہات -  
از قلم : ڈاکٹر نازنین سلطانہ آصف احمد۔
(اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ اردو،چشتیہ کالج آف آرنس ، سائنس اینڈ کامرس، خلد آباد۔)
8149407438 :رابطہ نمبر
E-mail: naaz8149@gmail.com

اردو ادب میں تنقیدی، تحقیقی اور تخلیقی مضامین کی ایک مضبوط روایت رہی ہے۔ اس روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے واجد اختر صدیقی کی تصنیف "نقش تحریر"ایک اہم اضافہ ہے۔ اس کتاب میں مصنف نےگلبرگوی ادبا و شعرا کی تخلیقات کے مختلف پہلوؤں پر نہایت سنجیدہ، بصیرت افروز اور فکر انگیز گفتگو کی ہے۔ نقش تحریر دراصل گلبرگہ کے معروف قلم کاروں پر لکھے گئے مضامین کا مجموعہ ہے۔ اس کتاب کی کمپوزنگ ڈاکٹر سید عتیق اجمل وزیرنے کی ہے، جبکہ سرورق سید مشتاق فاروق نے نہایت دلکش انداز میں تیار کیا ہے۔ یہ کتاب ۲۰۲۳ ء میں شائع ہوئی۔ مصنف نے اسے اپنے استاد ڈاکٹر وحید انجم مرحوم کے نام معنون کیا ہے، جس سے ان کی علمی وابستگی اور قدرشناسی کا اندازہ ہوتا ہے۔ کتاب کے آغاز میں شامل اشعار

یہ دنیا ہے فانی یہ دنیا ہے فانی
 عجب زندگانی عجب زند گانی
اور
طاق نسیاں میں رکھ دی کتاب و فا
دیکھتا کون ہے کھو لتا کون ہے
یہ اشعار زندگی کی نا پائیداری اور انسانی رشتوں کی حقیقت کو خوبصورت انداز میں بیان کرتے ہیں، جو قاری کو ایک فکری فضا میں داخل کر دیتے ہیں۔

نقش تحریر: ایک مطالعہ کے عنوان سے پروفیسر مجید بیدار نے اپنے خیالات پیش کیے ہیں، جبکہ ڈاکٹر شفیع ایوب ، عزیز بلگامی غضنفر اقبال اور خود مصنف نے بھی مختلف زاویوں سے اس کتاب پر روشنی ڈالی ہے۔ یہ کتاب نہ صرف ادبی ذوق رکھنے والوں بلکہ طلبہ، اساتذہ اور محققین کے لیے بھی یکساں طور پر مفید ہے۔
پروفیسر مجید بیدار کے مطابق ، واجد اختر صدیقی کرناٹک سے تعلق رکھنے والے ایسے ادیب ہیں جو تدریس کے ساتھ ساتھ تحقیق و تنقید میں بھی نمایاں مقام رکھتے ہیں ۔ ان کی تحریروں میں سادگی ، عام فہم انداز اور فکری گہرائی نمایاں ہے، جو نئے لکھنے والوں کے لیے رہنمائی فراہم کرتی ہے۔
یہ کتاب مختلف ادوار میں لکھے گئے مضامین، تبصروں اور تنقیدی جائزوں کا مجموعہ ہے، جس میں موضوعات کا تنوع اور فکری سنجیدگی واضح طور پر محسوس ہوتی ہے۔ مصنف نے تحقیق و تنقید کو محض رسمی انداز میں پیش نہیں کیا بلکہ دیانت داری اور بصیرت کے ساتھ اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔
ڈاکٹر شفیع ایوب نے واجد اختر صدیقی کو ایک باصلاحیت، فعال اور ہمہ جہت ادیب قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق، گلبرگہ کی سرزمین ہمیشہ علمی و ادبی شخصیات کی آماجگاہ رہی ہے اور واجد اختر صدیقی اسی روایت کے امین ہیں۔ ان کی تحریروں کی نمایاں خصوصیات سادگی ، اختصار اور جامعیت ہیں، جن کے ذریعے وہ اپنی بات مؤثر انداز میں قاری تک پہنچاتے ہیں ۔ کتاب کے ابواب کی ترتیب بھی نہایت منظم ہے۔

دوسرا باب ” باب سخن میں مختلف ادبی شخصیات کے فن اور فکر کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اس میں شعرا اور ادبا کے ادبی کارناموں کو نہایت باریک بینی سے پیش کیا گیا ہے، جس سے قاری مصنف کی تخلیقی صلاحیتوں کا بہتر انداز ولگا سکتا ہے۔ تیسرا باب ” باب فن اس باب میں افسانہ نگاروں پر مضامین لکھے ہیں۔ ڈاکٹر وحید انجم اور دیگر افسانہ نگاروں کے فن کا جائزہ بھی اس باب میں شامل ہے۔
چوتھے باب ” باب ایوان میں شخصی خاکے اور تاثرات پیش کیے گئے ہیں، جن میں مختلف شخصیات کی نجی اور علمی زندگی کے پہلوؤں کو اجاگر کیا گیا ہے۔ یہ حصہ کتاب کو ایک جذباتی اور انسانی رنگ عطا کرتا ہے۔ اس کے بعد باب میں جدید اردوادب کی نمائندہ شخصیات اور ان کی تخلیقات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اس باب میں طنز و مزاح کی روایت اور اس کے اہم نمائندوں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
باب میزان میں مصنف نے تنقیدی نقطہ نظر سے کتاب کا جائزہ لیا ہے۔ اگر چہ اس میں معلوماتی مواد کی فراوانی اور اسلوب کی شائستگی نمایاں ہے، تاہم بعض مقامات پر تنقیدی توازن کمزور محسوس ہوتا ہے۔ زیادہ تر تحریر میں تعریف و توصیف کا پہلو غالب ہے، جبکہ خامیوں کی نشاندہی نسبتا کم کی گئی ہے۔
آخری باب ” باب گمان میں دو افسانوں کا تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔ ان افسانوں میں سماجی مسائل، انسانی نفسیات اور معاشرتی پیچیدگیوں کو نہایت مؤثر انداز میں بیان کیا گیا ہے، جو قاری کو غور و فکر پر مجبور کرتے ہیں ۔
مجموعی طور پر نقش تحریر ایک اہم ادبی تصنیف ہے، جو گلبرگہ کے اردو ادبا وشعرا کے مختلف پہلوؤں کو سنجیدگی ، سادگی اور فکری گہرائی کے ساتھ پیش کرتی ہے۔ واجد اختر صدیقی نے اپنی اس کاوش کے ذریعے علاقائ ادب کی خدمت اور تحفظ کا ایک قابل قدر فریضہ انجام دیا ہے۔ اگر چہ مزید تنقیدی توازن اور اختصار سے اسے مزید بہتر بنایا ، تاہم یہ کتاب اپنی ادبی اہمیت اور علمی افادیت کے باعث ایک قابل قدر اضافہ ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ