ڈاکٹربابا صاحب امبیڈکر کی کتابیں اوران کے اقوال۔۔ محمدیوسف رحیم بیدری۔


ڈاکٹربابا صاحب امبیڈکر کی کتابیں اوران کے اقوال۔
محمدیوسف رحیم بیدری۔ 
موبائل:9845628595 

 آئین ہند کے بانیوں میں شمار ہونے والے سب سے معروف شخص کانام ڈاکٹر باباصاحب امبیڈکر ہے۔ 14/اپریل کوان کایوم ِ پیدائش ہے۔ اور پورا ہندوستان کل 14/اپریل کو ان کا135واں یوم پیدائش منارہاہے۔ اس موقع پر ہم ڈاکٹر باباصاحب امبیڈکر کی کتابوں اور ان کے اقوال کامطالعہ ضرور کرنا چاہئیے۔  
 شیکھاگوئل ان کی کتابوں کے بارے میں لکھتے ہوئے ایسی 20کتابوں کاذکرکرتی ہیں جو سب سے زیادہ فروخت ہوتی ہیں۔ ان 20کتابوں کانام انھوں نے درج ذیل بتایا ہے۔ سن اشاعت بھی سامنے لکھ دیاگیاہے۔ ۱۔ ہندوستان میں ذاتیں: ان کا طریقہ کار، پیدائش اور ترقی 1916۔۲۔ موک نائک (ہفتہ وار) 1920۔۳۔ روپے کا مسئلہ: اس کی اصل اور اس کا حل 1923۔۴۔ بہشکرت بھارت (بھارت بے دخل) 1927۔۵۔ جنتا (ہفتہ وار) 1930۔۶۔ ذات کا خاتمہ 1936۔۷۔ فیڈریشن بمقابلہ آزادی 1939۔۸۔ پاکستان کے بارے میں خیالات 1940۔۹۔راناڈے، گاندھی اور جناح 1943۔۰۱۔ مسٹر گاندھی اور اچھوتوں کی آزادی 1943۔۱۱۔ کانگریس اور گاندھی نے اچھوتوں کے ساتھ کیا کیا۔ 1945۔۲۱۔ پاکستان یا تقسیم ہند 1945۔۳۱۔ ریاست اور اقلیتیں۔ 1947۔۴۱۔ شودر کون تھے۔ 1948۔۵۱۔ مہاراشٹر بطور لسانی صوبہ 1948۔۶۱۔ اچھوت 1948۔۷۱۔ بدھ یا کارل مارکس؟ 1956۔۸۱۔ بدھ اور اس کا دھم 1957۔۹۱ ہندومت میں پہیلیاں 2008۔۰۲۔ منو اور شودر۔ جاگرن جوش میں شائع اپنے مضمون میں شیکھاگوئل نے لکھاہے کہ ”ڈاکٹر امبیڈکر کو ہندی، پالی، سنسکرت، انگریزی، فرانسیسی، جرمن، مراٹھی، فارسی اور گجراتی جیسی تقریباً 9 زبانوں کا علم تھا۔ ڈاکٹر امبیڈکر کی کتابوں کا شمار اس وقت ہندوستان میں سب سے زیادہ بکنے والی کتابوں میں ہوتا ہے“ہم جیسے اردو حامی شخص کو اس بیان سے حیرت ہے کہ ڈاکٹر امبیڈکر اردو نہیں جانتے تھے۔ عین ممکن ہے کہ اردو بھی جانتے ہوں کیوں کہ اردو کو ہندی کہنے کارواج ہندوستان میں عام ہے۔ 
 نکھل پوار نے ڈاکٹر امبیڈکر کی ایسی پانچ کتابوں کانام دیاہے جنھیں پڑھنے سے مضمون نگار کے بقول ”ہندوستان کے بارے میں ایک نیا نقطہ نظر فراہم کریں گی“(۱) شودر کون تھے؟who were the Shudras? جو 1948 میں شائع ہوئی، ڈاکٹر امبیڈکر نے یہ کتاب ہندوستانی سماجی کارکن اور ذات پات کے مصلح جیوتی راؤ پھولے کو وقف کی۔ اس میں شودر ذات کی ابتدا پر بحث کی گئی ہے۔ بابا صاحب مہابھارت، رگ وید اور کئی مذہبی کتابوں کا حوالہ دیتے ہوئے ذات پات کے نظام کو بیان کرتے ہیں۔ ان کے مطابق، شودر اصل میں آریوں سے تعلق رکھتے تھے، جو پہلے کھشتری ذات کا حصہ تھے۔(۲) بھگوان بدھ اور ان کا دھمThe Buddha and His Dhamma۔ اگر آپ بدھ اور بدھ مت کی زندگی کے بارے میں جاننے میں دلچسپی رکھتے ہیں، تو آپ کو ڈاکٹر امبیڈکر کی یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہیے۔ انھوں نے اسے اپنی زندگی کے آخری دنوں میں لکھا۔ یہ 1957 میں اس کی موت کے بعد ہی شائع ہوا تھا۔ اس کتاب میں بدھ، نظریہ روح، چار عظیم سچائیوں، کرما اور تناسخ اور
 بالآخر ایک راہب بننے کی کہانی سے متعلق گفتگو بھی شامل ہے۔(۳) ہندوستان میں ذات پاتCaste In India ۔بابا صاحب کی یہ کتاب 1917 میں شائع ہوئی تھی۔ درحقیقت انہوں نے نیویارک میں ایک اینتھروپولوجیکل سمپوزیم میں ایک مقالہ پیش کیا تھا، جس میں انہوں نے اس سماجی رجحان پر بھی پیش کیا تھا۔ امبیڈکر نے اسے ایک کتاب میں ڈھال کر شادی کے نظام اور اس سے جڑے گروہوں کو بیان کیا۔(۴)روپے کا مسئلہ: اس کی اصل اور اس کا حلThe Problem of the Rupee:Its Origin and Its Solution۔ 1923 میں شائع ہونے والی یہ کتاب معاشیات پر ان کے بہترین کاموں میں سے ایک ہے۔ یہ برطانوی ہندوستان میں مالیاتی مسائل کو حل کرتا ہے، جس کی وجہ سے ریزرو بینک کا قیام عمل میں آیا۔ اگر آپ ہندوستانی کرنسی اور بینکنگ کی تاریخ کے بارے میں جاننے میں دلچسپی رکھتے ہیں، تو یہ کتاب ایک بہترین آپشن ہے۔(۵)ذات کا خاتمہAnnihilation of Caste۔ 1936 میں لکھی گئی اس کتاب میں ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر نے ہندو مذہب اور اس کے ذات پات کے نظام پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے اس کے صحیفوں کو مردحامی(پرش پردھان) اور خواتین کے مفادات کے خلاف قرار دیا۔ امبیڈکر نے دلیل دی کہ ذات پات کے نظام کو ختم کرنے کے لیے بین ذات کھانے اور بین ذات کی شادیاں کافی نہیں ہیں، لیکن یہ یقینی طور پر اسے توڑنے کا ایک طریقہ ضرور بن سکتے ہیں۔(بحوالہ ہندی جاگرن۔ 14/اپریل 2024؁ء) 
 خیراب ہم ڈاکٹر باباصاحب امبیڈکر کے اقوال کی طرف آتے ہیں۔ نکھل پوار نے سال 2025؁ء کو ”جاگرن“ میں اپنا ایک مضمون شائع کیاتھا، جس کے بموجب انھوں نے ڈاکٹر امبیڈکر کے 10انقلابی خیالات کہہ کر ان کے 10اقوال پیش کئے تھے اور ان کی تشریح بھی کی تھی۔ ہم یہاں تشریح کو منہا کرتے ہوئے وہ 10خیالات پیش کررہے ہیں جو ڈاکٹر امبیڈکر نے دنیاکے سامنے رکھے اور بھارت کے حوالے سے ایک دنیا کو متاثر کیا۔ ملاحظہ فرمائیں :(۱)تعلیم یافتہ بنو، منظم رہو، اور لڑو۔ (۲)میں اس مذہب پر یقین رکھتا ہوں جو آزادی، مساوات اور بھائی چارے کا درس دیتا ہے۔(۳) ہم اول اور آخر ہندوستانی ہیں۔(۴)آئین محض وکلاء کے لیے ایک دستاویز نہیں ہے؛ یہ زندگی کا ایک فلسفہ ہے۔(۵) مرتے دم تک سیکھناچاہیے۔(۶)انسان اپنے اعمال سے عظیم بنتا ہے پیدائش سے نہیں۔(۷)اگر ہم متحد نہ رہے تو ہم پر دوبارہ غلامی مسلط ہو جائے گی۔(۸)تاریخ بتاتی ہے کہ جہاں اخلاقیات اور معاشیات میں ٹکراؤ ہوتا ہے وہاں معاشیات ہمیشہ جیت جاتی ہے۔(۹)یہ آزادی کس لیے ہے؟ تاکہ ہم اپنے سماجی نظام کی اصلاح کر سکیں، جو عدم مساوات، امتیازی سلوک اور ناانصافی سے بھرا ہوا ہے۔(۰۱)ایک عظیم آدمی ایک معزز آدمی سے اس لحاظ سے مختلف ہوتا ہے کہ وہ معاشرے کا خادم ہوتا ہے۔
 youthcorner.inمیں سندھیا سنگھ نے 13/جولائی 2022؁ء کو ایک پوسٹ ارسال کی تھی جس میں ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کی مختصر الفاظ میں سوانح عمری کچھ یوں پیش کی گئی ہے۔”ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کا پورا نام ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر ہے۔ ڈاکٹر بھیم راؤ بابا صاحب امبیڈکر ایک مشہور وکیل تھے جنہوں نے معاشیات اور سیاسیات میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر 14 /اپریل 1891 کو مدھیہ پردیش کے ایک چھوٹے سے گاؤں مہوہ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام رام جی مالوجی سکپال اور والدہ کا نام بھیما بائی تھا۔ڈاکٹر امبیڈکر کا انتقال 6/ دسمبر 1956 کو نئی دہلی، بھارت میں ہوا اور 1990 میں انہیں بعد از مرگ بھارت کے اعلیٰ ترین شہری اعزاز، بھارت رتن سے نوازا گیا۔بھارت رتن، آئین ساز، ہم عصر مصنف، بودھی ستیہ بابا صاحب ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر (ایم اے، ایم ایس سی، پی ایچ ڈی، ڈی ایس سی، ایل ایل ڈی، ڈی لٹ، بار ایٹ لاء) جنہوں نے بہوجن ہتائے، سماجی تعلیم، سماجی تحریک، بہوجن فلاح و بہبود،اورسماجی تحریک کی قیادت کرنے کا پیغام دیا۔ سیاسی و مذہبی تبدیلی اور ہندوستان میں پھیلی منافقت، اندھی عقیدت، ذات پات کے نظام، اچھوت اور عدم مساوات کے خلاف آواز اٹھائی۔بھارت رتن ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر نے ہندوستانی آئین کو سیکولرازم، مساوات، آزادی، بھائی چارے اور انصاف پر مبنی بنایا اور سماج کے تمام استحصال زدہ طبقات اور قوم کے ہر طبقے کی تمام خواتین کے بنیادی حقوق کے لیے جدوجہد کی“
  اسی پوسٹ سے ماخوذ30سے زائد اقوال یہاں درج کئے جارہے ہیں جن کاتعلق ڈاکٹر باباصاحب امبیڈکر کے اقوال سے ہیں۔ باباصاحب نے کہاتھا۔ (۱)جو مذہب آزادی، مساوات اور بھائی چارے کا درس دیتا ہے وہی سچا مذہب ہے۔(۲)اپنی طاقت پر یقین رکھو، قسمت پر نہیں۔(۳)ایک خیال کو پھیلانے کی اتنی ہی ضرورت ہوتی ہے جتنی ایک پودے کو پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ ورنہ دونوں مرجھا کر مر جائیں گے۔(۴)ذہانت کی ترقی انسانی وجود کا حتمی مقصد ہونا چاہیے۔(۵)سیاسی ظلم سماجی جبر کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہے۔ معاشرے کی نفی کرنے والے اصلاح کار حکومت کی مخالفت کرنے والے سیاستدانوں سے بہتر لوگ ہیں۔(۶)تاریخ گواہ ہے کہ جہاں اخلاقیات اور معاشیات کا تصادم ہوتا ہے وہاں معاشیات ہمیشہ جیت جاتی ہے۔ ذاتی مفادات کبھی بھی اپنی مرضی سے ترک نہیں ہوتے جب تک کہ ان پر زبردستی کرنے کے لیے کافی طاقت نہ لگائی جائے۔(۷)سیاست میں حصہ نہ لینے کی سب سے بڑی سزا یہ ہے کہ ایک نااہل شخص آپ پر حکومت کرنے لگے۔(۸)ہندو مت میں، ضمیر، عقل اور آزاد سوچ کی ترقی کی کوئی گنجائش نہیں ہے(۹)میں نے بڑی مشکل سے اس کارواں کو اس مقام تک پہنچایا ہے، اگر میری قوم، میرے کمانڈر اس کارواں کو آگے نہیں لے جا سکتے تو اسے پیچھے نہ جانے دیں۔(۰۱)طبقاتی معاشرے کی تعمیر سے پہلے معاشرے کو ذات پات سے پاک ہونا چاہیے۔(۱۱)کامیاب انقلاب کے لیے محض عدم اطمینان کافی نہیں ہے؛ اس کے لیے انصاف، سیاسی اور سماجی حقوق پر گہرا یقین بھی ضروری ہے۔(۲۱)قوم پرستی کو تب ہی جائز قرار دیا جا سکتا ہے جب ذات پات، نسل یا رنگ کے فرق کو بھلا کر لوگوں میں سماجی بھائی چارے کو سب سے زیادہ ترجیح دی جائے۔(۳۱)جو قوم اپنی تاریخ نہیں جانتی وہ کبھی اپنی تاریخ خود نہیں بنا سکتی۔(۴۱)کسی بھی قوم کی ترقی کا اندازہ اس کی خواتین کی ترقی سے لگایا جاتا ہے۔(۵۱)اس دنیا میں کچھ بھی قیمتی نہیں ہے سوائے عظیم کوششوں کے۔(۶۱)ایک عظیم آدمی ایک لحاظ سے مشہور آدمی سے مختلف ہوتا ہے: وہ معاشرے کی خدمت کے لیے تیار ہوتا ہے۔(۷۱)آپ واقعی آزاد ہیں صرف اسی صورت میں جب آپ اپنے ذہن میں آزاد ہوں۔(۸۱)میں ایک ایسے مذہب پر یقین رکھتا ہوں جو آزادی، مساوات اور بھائی چارے کا درس دیتا ہے۔(۸۱)تعلیم یافتہ بنو، منظم رہو، اور لڑو۔(۹۱)ہم شروع سے آخر تک ہندوستانی ہیں۔(۰۲)کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ مذہب معاشرے کے لیے ضروری نہیں ہے۔ میں اس نظریے کو نہیں مانتا۔ میں مذہب کی بنیاد کو معاشرے کی زندگی اور طریقوں کے لیے ضروری سمجھتا ہوں۔(۱۲)آپ ذائقہ بدل سکتے ہیں، لیکن آپ زہر کو امرت میں نہیں بدل سکتے۔(۲۲)میں کسی کمیونٹی کی ترقی کو خواتین کی طرف سے حاصل کردہ ترقی کے درجے سے ماپتا ہوں۔(۳۲)قسمت سے زیادہ اپنے آپ پر یقین رکھیں، تقدیر پر یقین کرنے کی بجائے طاقت اور عمل پر یقین رکھنا چاہیے۔(۴۲)ذہانت کی ترقی انسانی وجود کا بنیادی مقصد ہونا چاہیے۔(۵۲)تعلیم ایک شیر ہے، جو اس کا دودھ پیے گا وہ دھاڑے گا۔(۶۲)تعلیم عورتوں کے لیے اتنی ہی ضروری ہے جتنی مردوں کے لیے۔(۷۲)تاریخ گواہ ہے کہ جب اخلاقیات اور معاشیات میں ٹکراؤ ہوتا ہے تو معاشیات ہمیشہ جیت جاتی ہے۔(۸۲)اس دنیا میں کچھ بھی قیمتی نہیں ہے سوائے عظیم کوششوں کے۔(۹۲)علم ہر فرد کی زندگی کی بنیاد ہے۔(۰۳)آئین وکلاء کے لیے محض ایک دستاویز نہیں ہے بلکہ زندگی کا ایک ذریعہ ہے۔(۱۳)ایک مورخ کو درست، ایماندار اور غیر جانبدار ہونا چاہیے۔(۲۳)اچھا نظر آنے کے لیے نہیں بلکہ اچھے بننے کے لیے جیو، ملک کی ترقی سے پہلے اپنی عقل کی نشوونما ضروری ہے۔(۳۳)
 ایک ایسا شخص جس نے دلتوں (اچھوتوں) کی دنیا بدلنے کے ساتھ ساتھ پورے ہندوستان ہی نہیں بلکہ بیرون ملک پر بھی اپنی تعلیم اور اپنی مسلسل جدوجہد سے مثبت اور دانشورانہ اثر ڈالا، اس کے یوم ِ پیدائش پر ضروری ہوجاتاہے کہ طلبہ ہی نہیں سماج کے سوچنے سمجھنے والے اشخاص، اردو اور دکنی زبانوں کے شاعر وادیب بھی ڈاکٹر امبیڈکر کی جدوجہد کاقریب سے جائزہ لیں، اس کے لئے ان کی کتابیں اور ان کی زندگی کو پڑھیں تاکہ انسانیت کی فلاح وبہبودی کے لئے کئے گئے کام پر ڈاکٹر باباصاحب کو خراج پیش کیاجاسکے۔ 

Comments

  1. ڈاکٹر بی۔ آر۔ امبیڈکر کی یومِ پیدائش کے موقع پر پیش کیا گیا یہ خصوصی مضمون یوسف رحیم بیدری کی ایک سنجیدہ علمی و فکری کاوش ہے، جس میں امبیڈکر صاحب کی اہم کتب اور منتخب اقوال کے حوالے سے ان کی شخصیت اور فکر و نظر کو اجاگر کرنے کی کامیاب سعی نظر آتی ہے۔ یہ تحریر اردو میں “امبیڈکر شناسی” کی ایک قابلِ قدر کوشش ہے، جس کے ذریعے ان کے سماجی، سیاسی اور فکری نظریات کو واضح اور مدلل انداز میں پیش کیا گیا ہے۔
    ڈاکٹر امبیڈکر نہ صرف ہندوستان کے آئین کے معمار تھے بلکہ ایک عظیم مفکر، مصلح اور انسانی مساوات کے علمبردار بھی تھے۔ ان کی تصانیف جیسے Annihilation of Caste، The Buddha and His Dhamma، اور Who Were the Shudras? میں سماجی انصاف، ذات پات کے خاتمے اور انسانی حقوق کے تحفظ کا واضح پیغام ملتا ہے، جسے یوسف رحیم بیدری نے اپنے منفرد طرزِ تحریر میں نہایت خوبی کے ساتھ پیش کیا ہے۔ اسی طرح ان کے اقوال میں بھی یہی فکر جھلکتی ہے کہ “تعلیم حاصل کرو، منظم ہو، اور جدوجہد کرو” — جو آج بھی سماجی تبدیلی کا بنیادی اصول ہے۔
    یہ مضمون اس اعتبار سے خاص اہمیت رکھتا ہے کہ اس میں امبیڈکر کے افکار کو محض تاریخی تناظر تک محدود نہیں رکھا گیا بلکہ عصرِ حاضر کے مسائل کے ساتھ جوڑ کر پیش کیا گیا ہے۔ اس سے قاری کو نہ صرف امبیڈکر کی فکر کی گہرائی کا اندازہ ہوتا ہے بلکہ ان کی فکر و نظر کی عصری معنویت بھی واضح ہوتی ہے۔ اردو زبان میں اس نوعیت کی تحریریں امبیڈکر کے پیغام کو ایک وسیع تر حلقے تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔
    یوں یہ مضمون نہ صرف ایک بھرپور خراجِ عقیدت ہے بلکہ ایک اہم فکری دستاویز بھی ہے، جو قاری کو غور و فکر کی دعوت دیتی ہے اور ایک بہتر، مساوات پر مبنی سماج کی تشکیل کے لیے رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ اس عمدہ کاوش پر یوسف رحیم بیدری مبارکباد کے مستحق ہیں۔

    ReplyDelete

Post a Comment

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ