ایک ذخم نہاں اور ۔۔ (افسانہ) ازقلم : مسرورتمنا۔


ایک ذخم نہاں اور ۔۔ 
(افسانہ) 
ازقلم : مسرورتمنا۔

آباجی شروع ہوجایں ورنہ سیف آگیے تو بہت ناراض ہونگے... گھر کتنا گندا ہے
جلدی کریں ابا جی ہایے
میں مر گئ......
  ٹھنڈ بہت بڑھ گی پہلے
چاے بنالوں ..
آباجی نے چایے بنای ماھم کو دیا.. خود پیا 
اور کہا بیٹا تھوڑی دیر دھوپ میں بیٹھ لو میں تمہارا کمرہ صاف کرتاہوں پھر آرام کرنا
بیوی کی موت کے بعد انکی ذندگی گھر کے کام میں گذرنے لگی .... .سیف اکلوتا غصے والا تھا
باپ کو خاطر میں نا لاتا 
بیٹییاں اباجی کو ساتھ لے جانا چاھتی تو ماھم کو تکلیف ھونے لگتی .....  
پورا گھر صاف ھوگیا دال چاول بن گیے اباجی تھک کر چایے پینے دھوپ میں بیٹھ گیے
تبھی سیف آگیے آپ آرام سے چایے پیو .... بہو کام کر کر کے مری جارہی ہے وہ سیدھے ماھم کے
پاس گیے تو اباجی ان دونوں کے لیے چایے لے گیے .. ....
بیٹا سمدھن جی کو بلالو ماھم بیٹا کی مالش وغیرہ بھی کر دینگی ماں ہیں بچی کے لیے بھاگی آینگی ....   
ماھم تو دل میں خوش تھی
ماں آگی اب ہوتا یہ سمدھی جی سمدھی جی کہ کر سارا کام کروالیتی اور اخر میں چایے بنا کر پیالہ تھما دیتی وہ بھی سیف کے واپسی پر اوہ
 امی آپ نے تو پورا گھر سنبھال دیا مگر یہ اباجی اب کچھ کام کے نا رہے سیف کے لہجے میں
کاٹ تھی....  
اباجی چایے کی پیالی رکھ کر بولے بس یہ چایے تمہاری ساس نے بنای ہے سارا کام میں کرتا ہوں ....   
جا رھا ہوں طاہرہ نے کب سے آنے کو کہا کم سے کم بے عزت تو نا کریےگی.. ابا جی تڑپ
کر بولے تھے....        
سیف اپنے ابا کو منا کر لاو بہت کام میں ھماری مدد کر رہے تھے بے چارے اب ان سے نہیں ہوتا تو کیا کریں ......
ساس نے کہا تو سیف بولے...
امی آپ کتنی اچھی ہیں رات میں روٹی مت بنایے گا میں ھوٹل سے نہاری سالن اور روٹی لے آونگا...... 
آپ آرام کیجے 
..............
ابا جی .. گھر پر نہیں آے
باہر ہی بیٹھے رہے
جب سیف ناشتہ لینے گیے تو
 وہ ابا جی کے ساتھ  ناشتہ لے کر آگیے ..    
زرینہ بیگم سیف. . کے آفس جاتے ہی ماھم کے پاس آجاتیں اور اباجی کو چایے دے کر لاڈ سے کہتیں آپ کے ہاتھ کا چکن قورمہ ہو جاے انکی ادا اس 
عمرمیں بھی وار کر گذرتی..  
ہاں ہاں کیوں نہیں
اور ماں بیٹی تالی مار کر خوب 
ھستی اور اباجی اپنی بیوی کو یاد کر کے سارا کام کر کے دھوپ میں بیٹھ جاتے ....  
سیف کے آگے پیچھے پھر کر زرینہ بیگم یہ دکھانے کی کوشش کرتیں جیسے سارے گھرکا کام اسی نے کیاہو
آباجی کو بلانے طاہرہ خود آی تھی مگر سیف نے منع کردیا
آباجی کی ھمیں ضرورت ہے
آپا..... اچھا طاہرہ نے گھورا
ابا یا نوکر 
اسکے پاس کوئ جواب نا تھا

مسرورتمنا۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ