مذہبی منافرت کے ماحول کو انسان دوستی اور بھائی چارگی میں بدلنا ہم سب کی ذمہ داری ـ بزم جوہر اور انجمن ریختہ گویان کے زیراہتمام منعقدہ بین مذہبی عید ملاقات تقریب سے اکابرین شہر کا خطاب۔


حیدرآباد۔20/اپریل(پریس نوٹ) پراگندہ ذہن کے حامل لوگوں کی جانب سے جو مذہبی منافرت پھیلائی جارہی ہے اور ایک دوسرے کے مذاہب کے غلط پروپگنڈہ کے ذریعہ سماج میں نفرت اور تشدد کا ماحول پیدا کیا جارہا ہے ان کا سدّباب کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ اس قسم کی بین مذہبی تقاریب کا انعقاد لوگوں کے دلوں میں موجود غلط فہمیوں کو دور کرکے ایک دوسرے سے اتحاد اور بھائی چارگی کا ماحول پیدا کرنے میں ممدومعاون ثابت ہوسکتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار اردوہال میں بزم جوہر اور انجمن ریختہ گویان حیدرآباد کے زیراہتمام منعقدہ بین مذہبی عید ملاقات تقریب کے موقع پر شہر کے اکابرین نے کیا۔ تقریب کی صدارت پروفیسر ایس اے شکور ڈائرکٹر دائرۃ المعارف جامعہ عثمانیہ نے کی۔ مہمانان خصوصی کے طورپر جناب دیپک جان چیرمین کرسچن میناریٹیز فینانس کارپوریشن تلنگانہ، جناب طارق انصاری چیرمین اقلیتی کمیشن تلنگانہ، پروفیسر حمیرہ سعید وائس پرنسپل گورنمنٹ ڈگری کالج گولکنڈہ، مولانا مظفر علی صوفی ابوالعلائی صدر کل ہند مجلس چشتیہ حیدرآباد، ڈاکٹر این ایس رجنیش اسسٹنٹ پروفیسر انگلش، ڈاکٹر جاوید کمال مدیر ریختہ نامہ حیدرآباد شریک تقریب رہے۔ تقریب کا آغاز ڈاکٹر طیب پاشاہ قادری کے نعتیہ کلام سے ہوا۔ ڈاکٹر روبینہ شبنم معتمد عمومی بزم جوہر نے مہمانوں کا خیر مقدم کیا۔ ڈاکٹر جاوید کمال نے مہمانوں کا تعارف کروایا اور تقریب کے انعقاد کے مقاصد پر روشنی ڈالی۔ مہمانوں نے اس خوبصورت تقریب کے انعقاد پر بزم جوہر کی معتمد عمومی ڈاکٹر روبینہ شبنم اور انجمن ریختہ گویان کے ذمہ داروں کو مبارکباد دی اور کہا کہ کوئی مذہب بھی ایک دوسرے سے نفرت کرنا نہیں سکھاتا لیکن کچھ لوگ اپنے ذاتی مفاد اور اقتدار حاصل کرنے کی غرض سے مذہب کی آڑ میں امن پسند شہریوں کو ایک دوسرے کے خلاف بھڑکارہے ہیں لیکن ہندوستانی عوام باشعور اور امن پسند ہے اسی لئے ہم امید کرسکتے ہیں کہ فرقہ پرست لوگوں کا کھیل بہت جلد ختم ہوجائے گا اور ایک بار پھر ہندوستان امن و شانتی کا گہوارہ بن جائے گا۔ ہمیں موجودہ دور کے پراگندہ ماحول سے مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ جبرواستبداد کی عمر بہت چھوٹی ہوتی ہے۔ ممتاز شعراء کرم سردار سلیم، ارشد شرفی، ڈاکٹر اسلم عمادی،محبوب خاں اصغر، وحیدپاشاہ قادری اور لطیف الدین لطیف نے خوبصورت اور برمحل کلام سناکر داد وتحسین حاصل کی۔ تمام مہمانوں کا استقبال گلاب کا پھول پیش کرکے اور عطر لگاکر کیا گیا۔ مشاعرہ کی نظامت لطیف الدین لطیف اور ادبی اجلاس کی نظامت ڈاکٹر جاوید کمال نے کی۔ ریحانہ سلطانہ اسکالر مانو نے ہدیہ تشکر پیش کیا۔ تقریب کے اختتام پر تمام مہمانوں کی حلیم اور شیرخرما سے تواضع کی گئی۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔