اسد سلیم۔ طلبہ کامعلم - محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر،کرناٹک۔
اسد سلیم۔ طلبہ کامعلم -
محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر،کرناٹک۔
دونام جوڑ کرانھیں اپنا لینا برصغیر کا عام چلن ہے۔اور اس عمل میں دونوں نام اسی شخص کے ہوتے ہیں، ایسا نہیں کہ پہلا نام اپنا او ردوسرانام اپنے والد کا ہو۔مسلمانوں میں دونوں نام ایک ہی شخص کے رکھنے کاچلن عام ہے۔ جیسے صابرعالم،احمد ممتاز، خالد سعید، یوسف رحیم وغیرہ وغیرہ۔ اسدسلیم بھی ایساہی نام ہے۔ لیکن میں نے سجادسلیم، حامد سلیم، سلیم محی الدین وغیرہ نام توپڑھے ہیں لیکن آج تک”اسدسلیم“ جیسانام پڑھنے یاسننے کونہیں ملا۔
گویا میری معلومات کی حدتک اسدسلیم ایک ہی نام کا شخص ہے اور وہ حسن ِ اتفاق سے میرادوست ہے۔ ہائی اسکول میں ہوئی دوستی اب تک بفضل ِ الٰہی چل رہی ہے۔ چاردہائیوں پرمشتمل دوستی کو دوستی سے بڑھ کر بھی کچھ ہوناچاہیے۔ یعنی رشتہ داری وغیرہ میں بدلنا چاہیے، ایسا نہیں ہوسکاہے۔ مستقبل میں کیاہوگارب جانے۔
اسدسلیم بنیادی طورپر ایک جذباتی شخص ہے اور اس کے جذبات خلوص کی مٹی سے گوندھے ہوئے ہیں۔وہ اپنے پاکیزہ اورمعصومانہ جذبات کی بناپر اپنے عقیدہ کی حفاظت کرنا جانتاہے اورکسی کی عقیدت کوٹھیس پہنچائے بغیر یہ کام انجام دیتاہے۔کہہ سکتے ہیں کہ کچھ زیادہ ہی سیکولر ہے یاکچھ زیادہ ہی پرامن بقائے باہم کے اصول پر چلتاہے۔
اس ماہ کے ختم پر اسدسلیم پیشہ ء معلمی سے وظیفہ یاب ہوجائیں گے ان شاء اللہ۔پرائمری اسکول کی پیشہ ء معلمی میں آنے سے قبل اسدسلیم ایک داعی رہے۔ دین کی دعوت کو غیرمسلم حضرات تک پہنچانے کو زندگی کامقصد گردانتے تھے (آج بھی مقصد ِ زندگی یہی کچھ سمجھتے ہیں) پرجوش طریقے سے قرآن مجیداور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کوغیرمسلم احباب اور طلبہ تک پہنچایاکرتے تھے۔ اس سلسلہ میں جو بھی پروگرام منعقد ہوتے، اس کی دریاں بچھایاکرتے تھے۔ زمانہ بدلا اور لوگ کرسیوں پربیٹھنے لگے تو پھر کرسیاں بچھانے کو بھی عارنہیں سمجھا۔ نہ جاننے والوں تک اسلام کا پیغام پہنچے، یہی دھن تھی اور آج بھی الحمد للہ یہی دھن دل ودماغ پرچھائی ہوئی ہے۔ تین چار سال قبل محکمہ تعلیمات کے بی ای او کو انھوں نے قرآن مجید تحفہ میں دے کر ہمیں بتادِیاکہ دین کاکام اپنے اپنے محکمہ میں بھی پوری ایمانداری سے انجام دینا چاہیے۔
اسدسلیم اِمسال ماہ ِ اپریل کی 30تاریخ کو اپنے پیشہ سے دور ہوجائیں گے لیکن اپنے مقصدِ زندگی کوجاری رکھیں گے۔ بیوی بچوں سے زیادہ، دوست احباب سے زیادہ اسدسلیم کواپنا مقصد ِ زندگی پیارا ہے۔اسدسلیم نے مقصد زندگی کے بعد سب سے زیادہ پیار اپنے پیشہ ء معلمی سے اس لئے کیاکہ کسی نے یہ بات ذہن میں بٹھا دی تھی کہ پیشہ ء معلمی کاتعلق نبی کریم ﷺ کی ذات ِ بابرکت سے ہے۔ ہمیں بھی بچوں کوپڑھانااور انھیں نیک انسان بنانا چاہیے۔ بلکہ معلم کافریضہ ہی یہی ہوتاہے کہ وہ پتھروں کو تراش کرہیرابنادےپھرتو وہ پتھروں کی کان میں گھس پڑا۔ ایسا ہی شخص ہے جو سمجھ میں آجائے وہ کان اور دل سے جلد نہیں اُترتا۔
حیرت مجھے اسدسلیم کے جوش وجذبہء ایمانی پر ہوتی ہے۔ کام تو سبھی کرتے ہیں۔ مولانا نماز پڑھاتے ہیں، مولوی مسجد میں اذان دیاکرتاہے لیکن اس نماز پڑھانے اوراذان دینے کے دوران جوش، عقیدت اور آخرت میں اجرملنے کی تمناکاخیال نگاہوں کے سامنے ہوتو بات کچھ اور ہوگی۔ یوں سمجھیں کہ انسان کے ذہن ودل پر چھایاہوا صبغتہ اللہ نظر بھی آسکتاہے۔اور زبان ِ حال سے گویاکہہ رہاہو ؎
اگر جینا خصوصی کچھ نہیں ہے
تومرنے میں اصولی کچھ نہیں ہے
میرؔبیدری
اسدسلیم شروع ہی سے مجھ سے زیادہ ذہین تھے۔ انہیں مختلف مسالک کی مسلم مذہبی جماعتوں کاپتہ تھا۔ اہل سنت والجماعت، تبلیغی جماعت، جماعت اسلامی،اور ایس آئی اووغیرہ کو جانتے تھے۔ان ہی کے ذریعہ سے ایس آئی او کے بارے میں سن گن ملتی رہی۔ بعدازاں وہ SIOمیں شامل ہوئے پھر وہاں سے جماعت اسلامی تک کاسفر رہا۔ آج بھی اپنی وابستگی جماعت اسلامی سے بتلاتے ہوئے ہچکچاتے یا کسی مصلحت سے کام نہیں لیتے ؎
باری ائی تھی مکرنا تھا
سب کے مافق کرناتھا
لیکن ایسا کچھ کرنا سیکھاہی نہیں۔ جن استادوں سے اسدسلیم نے جو کچھ سیکھاہوگا ان میں مولوی محمد فہیم الدین صاحب (حال مقیم حیدرآباد)، مولوی محمد ظفراللہ خان مظاخؔ(جماعت اسلامی بیدر)، محمد حسین صاحب (ہائی اسکول کے استاد)، جناب عبدالرزاق وعبدالرحیم صاحب (ٹیچرس ٹریننگ کے اساتذہ)،اورجناب عبدالرحیم صاحب مالک رحیمیہ پریس بیدر شامل ہیں۔کچھ سال تک اسدسلیم ماہنامہ ”زندگی نو“ دہلی اورسہ ماہی”تحقیقات اسلامی“ علی گڑھ اور”حجاب“ دہلی جیسے رسائل بھی فروخت کرتے رہے ہیں۔تین چارد فعہ اسدسلیم نے خاکسار کو”زندگی نو“ تحفہ میں دیاتھا۔یہ کاروبار آج کل بند ہے۔ کوئی وجہ ہوگی۔ یوں ہی کوئی وفا نبھائے ممکن نہیں۔
اسدسلیم اساتذہ کی ملک گیر تنظیم AIITAسے وابستہ رہے۔ وظیفہ یابی کے بعد بھی شاید AIITAمیں کام کریں لیکن انہیں وہ طلبہ ضرور یاد رکھیں گے جنہیں انھوں نے پڑھایاہے۔اور جس انداز سے پڑھایاہے اس سے لگتاہے کہ اسدسلیم طلبہ کے معلم ہیں۔ کیوں کہ ایک عمر بعد ہماری سمجھ میں آیاکہ بچہ جہاں اپنے اساتذہ سے حروف سیکھتاہے۔ وہیں اساتذہ کی باڈی لنگویج بھی اہم ہوتی ہے۔ لہجہ بھی طلبہ پر اثر کرتاہے۔ اگر میں یہاں باریک آواز میں ”ارے بچو.....“کہوں تو میموریل اسکول کے بیشتر سابق طلبہ کو اقبال جاوید صاحب مرحوم کی یاد ضرورآئے گی۔ وہی اقبال جاوید جنھوں نے دوناولیں لکھیں۔ اُن کی دو ناولوں کے بعد بیدر ضلع کی ادبی تاریخ میں روشنی نہیں رہی۔ محترمہ رخسانہ نازنین اگر عزم کرلیں تو وہ ناول لکھ سکتی ہیں لیکن آج کل ان کی بابت راوی چین لکھتاہے۔ چین آنے کے بعد کسی کام کے لئے بے چین ہوجانا مشکل ہی نہیں ناممکن ہی سمجھیں۔
سچ پوچھوتو اسدسلیم کو بہت کچھ نہیں آتالیکن جو آتاہے وہ بہت سوں کو نہیں آتا۔ سادگی اور اخلاص لوگ کہاں سے لائیں گے۔باتوں میں جوش اور وفور کہاں ہوگا۔کام کرنے میں قطعیت اور نگاہوں میں ہدف کیسے لاؤگے؟پرائمری اسکول کا صدرمعلم اسدسلیم کوئی بڑا آدمی نہیں ہے لیکن اس کی بڑائی انسان کوانسان سمجھنے، ناانصافی کے خلاف ڈٹ جانے، اور مسلسل کام کرتے رہنے میں ہے۔ میں نہیں سمجھتاکہ اسد سلیم کی زندگی میں کبھی مایوسی نے ڈیر اڈالاہو۔ اسدسلیم ایک ٹوٹاپھوٹا اسدسلیم کبھی نہیں رہا۔وہ اپنے غم چھپا سکتاہے، لیکن دوسروں کے مسائل آشکار نہیں کرتا۔ اس کی عظمت میں کوئی عظمت پنہاں نہیں ہے۔ وہ ایک سیدھاسادا ٹیچر ہے جس کو شکرگذاری ورثہ میں ملی ہے۔ اسدسلیم کی والدہ نے اسدسلیم کو صبراور شکر دونوں کی تعلیم دی۔ اور ہم جیسے دوست اسدسلیم کودیکھتے رہ گئے۔ یہ نہیں کہہ سکے کہ وہ ہم سے آگے ہے، اس کی سادگی اورا س کے مخلصانہ جوش وخروش کے ساتھ ساتھ صبر وشکر بھی اُس کاکل سرمایہ ء حیات ہے۔اللہ تعالیٰ میرے دوست اسدسلیم کو شاد وآباد رکھے۔ میری بھابی کوہمیشہ صحت منداور خوش وخرم رکھے۔ میرے تینوں بھتیجوں اور اکلوتی بھتیجی کو والدمحترم کاجوش وخروش اور سادگی ورثہ میں ملے۔ آمین
اپناسمجھے نہ کوئی مجھ کو، پرایا جاؤں
کیسا یہ قرض ہوں لوگو، نہ چکایاجاؤں
Comments
Post a Comment